احتساب اور شفافیت کے بغیر جدید جمہوریت ممکن نہیں،فرحت اللہ بابر

ChatGPT-Image-Sep-28-2026-11_41_08-PM.png

سیدرسول بیٹنی

اسلام آباد: انسانی حقوق کے علمبردار اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ احتساب اور شفافیت کے بغیر جدید جمہوریت کا تصور مکمل نہیں ہوسکتا، جبکہ حکومتی منصوبوں اور فیصلوں سے متعلق مصدقہ معلومات تک شہریوں کی رسائی ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا بنیادی ذریعہ ہے۔

انہوں نے یہ بات سینئر صحافی سعدیہ مظہر کی جانب سے معلومات تک رسائی کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایکس اسپیس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں معلومات تک رسائی کے قوانین اور ان کے مینڈیٹ کو مختلف اطراف سے چیلنجز کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ پارلیمان کے اندر موجود بعض حلقے چاہتے ہیں کہ پارلیمان کو معلومات تک رسائی کے قانون سے استثنیٰ حاصل ہو، جو ان کے مطابق جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔

سابق سینیٹر نے کہا کہ جمہوری معاشروں میں حکومتیں شفافیت اور احتساب کو یقینی بناتی ہیں، جبکہ شہری معلومات تک رسائی کے قوانین کو استعمال کرتے ہوئے سرکاری اداروں سے سوال کرتے اور انہیں جواب دہ بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بیک وقت دو نظام نظر آتے ہیں، ایک ڈی جیورے (De Jure) اور دوسرا ڈی فیکٹو (De Facto)۔ ان کے مطابق ڈی جیورے نظام میں شہری حکومت اور ریاست سے سوال کرتے ہیں، کیونکہ اس نظام میں منتخب حکومت اور منتخب پارلیمان موجود ہوتی ہے۔

فرحت اللہ بابر کے مطابق ڈی فیکٹو نظام میں جمہوری اصولوں اور شہریوں کے سوال کرنے کے حق کو عملی طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے اور آمرانہ طرز حکمرانی غالب آجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں بظاہر ڈی جیورے جمہوری نظام موجود ہے، تاہم عملی طور پر ڈی فیکٹو نظام کے اثرات نظر آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک شہریوں کو حکومتی منصوبوں، فیصلوں اور اقدامات کے بارے میں قابلِ اعتماد اور مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہوں گی، ریاست اور شہریوں کے درمیان بااعتماد تعلق اور مضبوط رشتہ قائم کرنا مشکل رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top