راستے بند،سپلائی متاثر؛پختونخوا میں اشیائے خورونوش مہنگی ہونے کا خدشہ

sa.png

پشاور: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور پہلے سے جاری مہنگائی کے ستائے خیبرپختونخوا کے عوام کو ایک اور مشکل کا سامنا ہے، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے درمیان اہم شاہراہوں کی بندش سے اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے پیش نظر M-1 موٹروے، M-14 اور جی ٹی روڈ سمیت بعض اہم راستوں پر ٹریفک کی پابندیوں اور بندش کے باعث دونوں صوبوں کے درمیان زمینی رابطہ متاثر ہوا ہے۔

خیبرپختونخوا کی مارکیٹوں میں پنجاب سے روزانہ کی بنیاد پر دودھ، مرغی، سبزیاں، چینی، دالیں اور دیگر ضروری اشیا پہنچتی ہیں۔ ان اشیا کی ترسیل میں طویل رکاوٹ سے مارکیٹ میں دستیاب اسٹاک کم ہونے اور قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

تاجروں اور دکانداروں کے مطابق دودھ اور مرغی سمیت متعدد اشیائے خورونوش ایسی ہیں جنہیں طویل عرصے تک ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر شاہراہوں کی بندش برقرار رہی تو روزانہ کی سپلائی متاثر ہونے سے بعض علاقوں میں قلت پیدا ہوسکتی ہے۔

آٹے اور گندم کی ترسیل بھی صورتحال سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ خیبرپختونخوا اپنی غذائی ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے پنجاب سے آنے والی سپلائی پر انحصار کرتا ہے۔ شاہراہوں کی طویل بندش سے گندم اور آٹے کی دستیابی اور قیمتوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے مال بردار گاڑیوں اور اشیائے خورونوش کی ترسیل میں غیرضروری رکاوٹ سے بچنے کے لیے اقدامات کی ہدایات بھی سامنے آئی ہیں۔

مہنگے پیٹرول اور بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ اخراجات کے باعث اشیائے خورونوش پہلے ہی مہنگائی کی زد میں ہیں۔ ایسے میں بین الصوبائی شاہراہوں کی بندش طویل ہوتی ہے تو سپلائی چین متاثر ہونے کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافے اور بعض ضروری اشیا کی عارضی قلت کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top