پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجوزہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کے باوجود صوبائی حکومت پُرامن احتجاج کے آئینی حق سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پریس ٹاک سے قبل ایک ویڈیو بھی چلائی گئی، جس میں مبینہ طور پر لانگ مارچ کے راستوں پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں، کنٹینرز اور سڑکوں پر لگائی گئی کیلوں کو دکھایا گیا۔
سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ عوام کی آمدورفت کے راستوں پر رکاوٹیں کیوں کھڑی کی جا رہی ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت اور انتظامیہ موجود ہے تو عوام کے راستے بند کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ملک کو بیرونی کے بجائے اندرونی خطرات کا سامنا ہے، تو پھر وفاقی حکومت کو خیبرپختونخوا حکومت اور انتظامیہ پر اعتماد کیوں نہیں؟انہوں نے سیاسی رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں اور مبینہ تشدد کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ رکاوٹیں یا مشکلات لانگ مارچ کے راستے میں آئیں، تب بھی پُرامن احتجاج کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ وزیراعلیٰ کے دفتر کے مطابق 27 ستمبر کا مارچ پُرامن اور آئینی ہوگا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ کی زیر صدارت سیاسی کمیٹی کا اجلاس بھی جاری ہے، جس میں لانگ مارچ سے متعلق آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جا رہی ہے۔ سہیل آفریدی کے مطابق آئندہ کا فیصلہ سیاسی کمیٹی کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تاریخ برقرار رکھنے کا مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد کی جانب جانے والے راستوں پر رکاوٹیں اور سکیورٹی انتظامات بڑھائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

