ڈیجیٹل اشتہارات:آزاد میڈیا کیلئے شفاف اور مساوی نظام کی ضرورت ہے،مقررین

فائل.png

سیدرسول بیٹنی

اسلام آباد: میڈیا اسٹیک ہولڈرز نے حکومت پر زور دیا ہے کہ سرکاری ڈیجیٹل اشتہارات کی پالیسی مرتب کرتے وقت عوامی مفاد میں کام کرنے والے مقامی اور آزاد ڈیجیٹل میڈیا اداروں سے بامعنی مشاورت کی جائے تاکہ سرکاری اشتہارات کی تقسیم کے لیے منصفانہ، شفاف اور واضح طریقہ کار وضع کیا جا سکے۔

یہ مطالبہ انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ (IRADA) اور SZABIST یونیورسٹی اسلام آباد کے اشتراک سے، انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (IMS) کے تعاون سے منعقدہ ایک اسٹیک ہولڈر ڈائیلاگ کے دوران کیا گیا۔ تقریب میں “Public Money, Public Interest – Aligning Pakistan’s Digital Media Advertising Policies with Professional Media Mandates” کے عنوان سے ایک نئی تحقیقی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

IRADA کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد آفتاب عالم نے کہا کہ آزاد میڈیا کی بقا کے لیے مالی وسائل ناگزیر ہیں، تاہم تیزی سے ڈیجیٹلائز ہوتے معاشرے میں پاکستان کا آزاد ڈیجیٹل میڈیا، بالخصوص عوامی مفاد کی صحافت کرنے والے پلیٹ فارمز، مالی استحکام کے حوالے سے متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اشتہارات کی میڈیا پلیٹ فارمز میں تقسیم کے لیے ایک مساوی اور شفاف پالیسی فریم ورک ضروری ہے، جس کا واضح مقصد ملک میں عوامی مفاد کی صحافت کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔

مذکورہ رپورٹ IRADA نے IMS کے تعاون سے تیار کی ہے، جس کے شریک مصنفین میں ڈاکٹر تہریم عظیم اور عدنان رحمت شامل ہیں۔ یہ تحقیق وفاقی اور صوبائی سطح پر حالیہ ڈیجیٹل میڈیا اشتہارات کی پالیسیوں کے تناظر میں کی گئی ہے، جن میں آن لائن مواد اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے سامعین کے پیش نظر ڈیجیٹل پبلشرز کے لیے اشتہارات مختص کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے طریقہ کار اور اہم نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر تہریم عظیم نے بتایا کہ تحقیق میں جائزہ لیا گیا ہے کہ موجودہ ڈیجیٹل میڈیا اشتہارات کی پالیسیاں متعلقہ حیثیت، مقصد اور نمائندگی کے اصولوں پر کس حد تک پوری اترتی ہیں۔ اس میں مختلف ڈیجیٹل میڈیا اشتہاری پالیسیوں کا تقابلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں عوامی مفاد کی آزاد صحافت کرنے والے میڈیا پلیٹ فارمز کے ان پالیسیوں کے ساتھ تجربات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے شریک مصنف اور میڈیا ڈویلپمنٹ کے ماہر عدنان رحمت نے کہا کہ تحقیق کا مقصد پاکستان میں آزاد ڈیجیٹل صحافت، خواہ وہ پلیٹ فارم کی صورت میں ہو یا انفرادی صحافیوں کے ذریعے، کی معاونت کے لیے منصفانہ اور شفاف قواعد تجویز کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اشتہارات کی پالیسیوں میں ڈیجیٹل میڈیا کو تسلیم کیا ہے، تاہم موجودہ قواعد اکثر عوامی مفاد کی صحافت کو انفلوئنسرز، ولاگرز، مارکیٹنگ ایجنسیوں اور تفریحی مواد سے الگ نہیں کرتے۔

ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث آزاد نیوز پلیٹ فارمز کے لیے قانونی، ٹیکس اور اشتہارات کے حوالے سے واضح کیٹیگریز موجود نہیں، جبکہ حکمرانی، انسانی حقوق، پسماندہ طبقات، علاقائی مسائل، عوامی خدمات، تنازعات اور احتساب سے متعلق رپورٹنگ کرنے والے پلیٹ فارمز کو اکثر مناسب مالی معاونت نہیں ملتی اور انہیں تجارتی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

رپورٹ کے اجرا کے موقع پر میڈیا، ڈیجیٹل کریئیٹرز، حکومت اور پالیسی سازی سے وابستہ ماہرین نے پینل ڈسکشن میں بھی شرکت کی۔

صحافی اور میڈیا انٹرپرینیور سعدیہ مظہر نے سرکاری اشتہارات کے لیے مختص عوامی فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور عوام کی معلومات تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔

صحافی اور تعلیم کی ماہر زیبہ ہاشمی نے کہا کہ اشتہارات کی پالیسیوں میں صحافیوں اور کریئیٹرز کی معاونت کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ عوام کو اہم شہری اور سماجی معاملات سے متعلق باخبر رکھنے کے عمل کو تقویت مل سکے۔

وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ (DCD) کے ڈائریکٹر جنرل محمد شہزاد نے بتایا کہ اب تک وزارت کے ساتھ 259 پبلشرز اور 55 اشتہاری ایجنسیاں رجسٹرڈ ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق پالیسی میں دو مرتبہ ترمیم کی جا چکی ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کا دوبارہ جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق وزارت ڈیجیٹل میڈیا پبلشرز کے سوشل میڈیا اینالیٹکس کا جائزہ لینے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک خودکار نظام تیار کر رہی ہے۔

تقریب کے اختتامی کلمات میں سینئر صحافی اور صدرِ مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ پالیسی سازی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سرکاری اداروں اور پالیسی سازوں کے ساتھ مسلسل رابطہ اور مشاورت ضروری ہے تاکہ ایسی پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں جو عوامی مفاد کی صحافت کو سپورٹ کریں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد اور روایتی میڈیا سے ہٹ کر کام کرنے والے ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارمز کو صرف حکومتی فنڈنگ پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں اپنے آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top