انقلاب شمسی توانائی:اسلام آباد میں عالمی سولر کانفرنس 4 اگست سے شروع ہوگا

ChatGPT-Image-Jul-27-2026-10_03_15-PM.png

سیدرسول بیٹنی

اسلام آباد: پاکستان میں تیزی سے فروغ پاتی شمسی توانائی کی منتقلی اور توانائی کے مستقبل سے متعلق پالیسی سازی کے لیے "سولر، اسٹوریج اور فلیکسبلٹی 2026” کے عنوان سے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس 4 اور 5 اگست کو اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔

کانفرنس کا انعقاد رینیو ایبلز فرسٹ (RF)، گلوبل سولر کونسل (GSC) اور پاکستان سولر ایسوسی ایشن (PSA) کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جس میں پالیسی ساز، ریگولیٹری اداروں کے نمائندے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، سرمایہ کار، مالیاتی ادارے، توانائی کے ماہرین، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اور بین الاقوامی شراکت دار شرکت کریں گے۔

پاکستان میں شمسی توانائی کا یہ غیر معمولی پھیلاؤ حکومتی منصوبہ بندی کے بجائے عام صارفین، کاروباری اداروں اور صنعتی شعبے کی جانب سے مہنگی بجلی، گرڈ کی غیر یقینی فراہمی اور سولر ٹیکنالوجی کی کم ہوتی قیمتوں کے باعث اختیار کیے گئے متبادل توانائی ذرائع کا نتیجہ ہے۔

کانفرنس کے منتظم محمد حسان دجانہ نے "دی پشاور پوسٹ” کو بتایا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے باعث عالمی توانائی منڈی میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے توانائی کے تحفظ کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسے حالات میں تقسیم شدہ شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج اب صرف بجلی کے سستے ذرائع نہیں رہے بلکہ قومی توانائی کے نظام کو زیادہ محفوظ، مستحکم اور لچکدار بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت دنیا میں صارفین کی قیادت میں ہونے والی شمسی توانائی کی منتقلی کی تیز ترین مثال بن چکا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران سولر پینلز کی درآمدات میں تقریباً پانچ گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مالی سال 2025 کے اختتام تک ملک میں تقسیم شدہ سولر فوٹو وولٹائیک (PV) کی مجموعی صلاحیت تقریباً 38 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جو ملک کی مجموعی یوٹیلیٹی اسکیل بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے تقریباً 93 فیصد کے برابر ہے۔

دو روزہ کانفرنس میں تقسیم شدہ قابلِ تجدید توانائی کو قومی گرڈ میں مؤثر انداز میں شامل کرنے، بجلی پیدا کرنے والے صارفین (پروسیومرز) کے لیے جدید ریگولیٹری فریم ورک، فلیکسبلٹی مارکیٹس کے قیام، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے کردار میں تبدیلی، بیٹری اسٹوریج، ٹیکس اور ٹیرف اصلاحات، گردشی قرضے کے چیلنجز اور توانائی کی منڈی میں درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

کانفرنس کے اختتام پر پاکستان میں تقسیم شدہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، گرڈ کی جدیدکاری، ریگولیٹری اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ، مالیاتی تعاون، استعدادِ کار میں اضافے اور بین الاقوامی تکنیکی شراکت داری کے حوالے سے قابلِ عمل سفارشات پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا تیزی سے فروغ پاتا صارفین پر مبنی شمسی توانائی کا ماڈل نہ صرف ملکی توانائی کے مستقبل کو نئی سمت دے رہا ہے بلکہ گلوبل ساؤتھ کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے، جہاں توانائی کی سکیورٹی، سستی بجلی اور پائیدار ترقی مشترکہ چیلنجز ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top