سیدرسول بیٹنی
اسلام آباد: وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے پاکستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت، موسمیاتی آفات اور زمین کی گرتی ہوئی زرخیزی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زرعی نظام کو جدید، پائیدار اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر مبنی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) اور پیپسی کو پاکستان کے اشتراک سے منعقدہ 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس سے خطاب کے دوران کیں، جس کا موضوع قدرتی ماحول، مٹی اور پانی کے تحفظ کے ذریعے زرعی نظام کی بہتری تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان کے غذائی تحفظ، زرعی پیداوار اور دیہی آبادی کے معاشی ذرائع کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے پیش نظر روایتی زرعی طریقوں کے بجائے بحالی پر مبنی زراعت (Regenerative Agriculture) کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ پاکستان میں زراعت کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 23.44 فیصد ہے، جبکہ ملک کی تقریباً ایک تہائی افرادی قوت کا روزگار بھی اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ ایسے میں زرعی شعبے کو موسمیاتی خطرات سے پہنچنے والا نقصان پوری معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں فی کس سالانہ پانی کی دستیابی کم ہو کر تقریباً ایک ہزار مکعب میٹر رہ گئی ہے، جبکہ ملک کے 90 فیصد سے زائد آبی وسائل زراعت میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق غیر متوقع بارشیں، شدید موسمی حالات، زیرِ زمین پانی کی کمی اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس آفت کے نتیجے میں 80 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے، جبکہ زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کو تقریباً 3.7 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ موسمیاتی آفات نہ صرف فصلوں اور مویشیوں کو تباہ کرتی ہیں بلکہ کسان خاندانوں کو ذہنی دباؤ، نقل مکانی اور معاشی مشکلات سے بھی دوچار کرتی ہیں۔
انہوں نے دریائے سندھ کے طاس میں پانی سے متعلق اعداد و شمار کے تبادلے اور بروقت پیشگی اطلاع کے نظام کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا، کیونکہ بالائی پہاڑی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات دریائے سندھ کے زیریں علاقوں میں آباد کسانوں کو براہِ راست متاثر کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈاکٹر شائستہ خان جدون نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے گھرانوں کی شرح 2018-19 میں 15.92 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 24.3 فیصد ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ کا مطلب صرف خوراک کی دستیابی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ خاندان غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت رکھتے ہوں اور کسان اپنی زمین پر سرمایہ کاری جاری رکھنے کے لیے معاشی طور پر مستحکم ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے اقدام کے تحت پاکستان فوڈ سیکیورٹی انفارمیشن سسٹم تیار کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے گندم، سبزیوں، دالوں اور دیگر اجناس کی پیداوار اور مارکیٹ قیمتوں سے متعلق معلومات یکجا کرکے بروقت حکومتی فیصلوں میں مدد فراہم کی جائے گی۔
ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، قابلِ کاشت زمین میں کمی اور شدید موسمی حالات زرعی پیداوار کو متاثر کرنے کے ساتھ زراعت کو ایک غیر یقینی معاشی سرگرمی بنا رہے ہیں، جس کے باعث نوجوان نسل بھی اس شعبے سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
پیپسی کو پاکستان کے ہیڈ آف ایگرو زوار کاظمی نے کہا کہ پاکستان میں زمین کی زرخیزی، پانی کی دستیابی اور حیاتیاتی تنوع کو ماحولیاتی تنزلی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مٹی میں نامیاتی مادے کی مقدار کم ہو کر 0.5 فیصد سے بھی نیچے آ گئی ہے، جبکہ اس کی مثالی سطح دو فیصد سے زیادہ ہونی چاہیے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کی پروگرام منیجر سلویا گیاڈا نے زراعت میں ماحولیاتی نظام پر مبنی موافقت (Ecosystem-based Adaptation) کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تمام علاقوں میں یکساں حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے مقامی معاشی اور ماحولیاتی حالات کے مطابق اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
پیپسی کو پاکستان کی ایگرو سسٹین ایبلٹی لیڈ انیلا حکیم نے حکومت، نجی شعبے اور کسانوں کے درمیان اشتراک بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینے پر زور دیا تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور قدرتی وسائل کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

