سیدرسول بیٹنی
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے ادارہ جاتی ڈھانچے میں اصلاحات اور سرکاری نظام کی ازسرنو تشکیل کے لیے سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کی سفارشات کو بنیادی پالیسی دستاویز کے طور پر اپنا لیا ہے، جن پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پائیدار ترقی پالیسی ادارے (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام ڈاکٹر عشرت حسین کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ انہوں نے خود ڈاکٹر عشرت حسین سے ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق رپورٹ حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا اور حکومت نے اسے اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کی بنیاد بنایا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت سابقہ ادوار میں کیے گئے اقدامات کو ختم کرکے نئے سرے سے کام شروع کرنے کے بجائے موجودہ اصلاحاتی کوششوں کو آگے بڑھانے پر یقین رکھتی ہے۔ تاہم وزارتوں اور ان کے ماتحت اداروں کی بڑی تعداد کے پیش نظر اصلاحات پر بیک وقت عمل درآمد کے بجائے انہیں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بھی ڈاکٹر عشرت حسین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دسمبر 1999 میں اسٹیٹ بینک میں شمولیت اختیار کی اور ادارے کی بہتری کے لیے ایک واضح وژن اور جامع اصلاحاتی منصوبہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت حسین نے اپنے چھ سالہ دور میں اسٹیٹ بینک میں دور رس اصلاحات متعارف کرائیں، جنہیں مرکزی بینک کی تاریخ کی اہم ترین تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
سابق وفاقی وزیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے بھی ڈاکٹر عشرت حسین کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کو ان کی طویل خدمات کا مستحق اعتراف قرار دیا۔
حبیب بینک لمیٹڈ کے چیئرمین سلطان علی الانہ نے ڈاکٹر عشرت حسین کو اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت میں سول سروس کا تجربہ اور عالمی مالیاتی شعبے کی مہارت یکجا ہے۔
سابق پرنسپل سیکریٹری برائے وزیراعظم نرگس سیٹھی نے نیشنل کمیشن فار گورنمنٹ ریفارمز کے چیئرمین کی حیثیت سے ڈاکٹر عشرت حسین کے ساتھ کام کرنے کے تجربات بیان کیے۔ یہ کمیشن 2006 میں قائم کیا گیا تھا۔
بوسٹن یونیورسٹی کے پارڈی اسکول آف گلوبل اسٹڈیز کے ڈین ایمریٹس اور پروفیسر ڈاکٹر عادل نجم نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت حسین کی خدمات کا ایک اہم پہلو سرکاری اداروں میں اصلاحات کا کام ہے، جسے ان کی پالیسی سازی اور دیگر کامیابیوں کے مقابلے میں اکثر کم توجہ دی جاتی ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان معاشی تعاون بڑھانے پر زور
تقریب کے دوران بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و منصوبہ بندی راشد المہ محمود تیتومیر نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان معاشی تعاون مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے جنوبی ایشیا کے لیے صنعتی ترقی، علاقائی پیداواری نیٹ ورکس، باعزت روزگار اور سماجی تحفظ پر مبنی نئے ترقیاتی ماڈل کی تجویز پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی اور سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جس کے باعث ترقی پذیر ممالک کو اپنی روایتی ترقیاتی حکمت عملیوں پر نظرثانی اور معاشی استحکام کے لیے نئے راستے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی تبدیلیاں محض بیرونی معاشی جھٹکے نہیں بلکہ یہ صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع، ملکی وسائل کے استعمال، ترقیاتی مالیات اور معاشی خودمختاری کے تقاضوں کو بھی تبدیل کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو خطے میں مینوفیکچرنگ مرکز اور برآمدات کے اہم گیٹ وے کے طور پر ترقی دینا چاہتا ہے۔
مزید قرض نہیں لیں گے، ترقی کے لیے سرمایہ کاری اور قرضوں کے تبادلے پر توجہ ہوگی، مصدق ملک
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان اب مزید قرضے لے کر ترقیاتی منصوبے جاری رکھنے کی پالیسی اختیار نہیں کرے گا، تاہم حکومت ایکویٹی سرمایہ کاری اور قرضوں کے تبادلے (Debt Swaps) کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تقریباً 16 ہزار ارب روپے ٹیکس اور دیگر محصولات جمع کرتا ہے، جن میں سے تقریباً 8 ہزار ارب روپے قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتے ہیں، جو مجموعی آمدن کا 48 سے 49 فیصد بنتے ہیں۔
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ مزید قرض لینے کا راستہ بند ہو چکا ہے اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبے منصفانہ، پائیدار اور ملکی ضروریات کے مطابق ہونے چاہئیں۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کو ملازمتیں ختم کرنے کے بجائے نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق نوجوان گریجویٹس کو بلوچی، براہوی، سندھی اور اردو سمیت علاقائی زبانوں میں مصنوعی ذہانت کے نظام کی تربیت اور تیاری کے عمل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے نوجوانوں کو سائنسی تجربات اور جدید اختراعات کے لیے ایکویٹی کی بنیاد پر سرمایہ فراہم کرنے کی غرض سے 10 ملین ڈالر کے گرین فیلڈ پروگرام کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت پہلا مقابلہ آئندہ تین ماہ میں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔
تقریب سے ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری، بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین شفقت کاکاخیل اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر محمود نے بھی خطاب کیا اور پائیدار ترقی، علاقائی تعاون اور بدلتے عالمی حالات کے مطابق ترقیاتی پالیسیوں میں اصلاحات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

