مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کا احتجاج اور ہڑتال

شسس.png

فہد یوسفزئی، پورن شانگلہ

مالاکنڈ ڈویژن میں حکومت کی جانب سے ٹیکس نافذ کرنے کے فیصلے پر عوام اور تاجر برادری سراپا احتجاج ہے۔ منگل کے روز مالاکنڈ ڈویژن بھر سمیت ضلع شانگلہ کی تحصیل پورن کے بازاروں میں انجمن تاجران کی کال پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔

مظاہرین کا موقف ہے کہ 1969 کے الحاق کے وقت ریاست نے ٹیکس سے استثنیٰ کا وعدہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک علاقے میں امن، خوشحالی اور سہولیات نہیں دی جاتیں، ٹیکس کا بوجھ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

سماجی کارکن دیان غفار خان نے کہا کہ 1969 میں جب ریاستِ سوات کا پاکستان سے الحاق ہوا تو مالاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس سے مکمل چھوٹ کا وعدہ کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے نیا سرتاج عزيز کمیشن جو فاٹا کے لیے تھا اس میں مالاکنڈ نہ ہونے کے باوجود بھی شامل کیا جارہا ہے۔

ان کا مطالبہ تھا کہ پہلے علاقے کو امن، ترقی اور خوشحالی دی جائے۔ اس کے بعد عوام بخوشی ٹیکس دینے کو تیار ہیں۔موجودہ حالات میں ٹیکس سے بے روزگاری اور مشکلات بڑھیں گی۔ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دی جائے گی۔ انہوں نے سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ پارٹیوں سے بالاتر ہو کر ریاست کے سامنے عوام کا مقدمہ رکھیں۔

مقامی شہری میاں جاوید اقبال نے بتایا کہ آج انجمن تاجران کی کال پر پورے مالاکنڈ ڈویژن میں بازار مکمل بند رہے۔ یہ ہڑتال بہت کامیاب رہی۔ ایک دن کی بندش سے ہر دکاندار کو لاکھوں کا نقصان ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ٹیکس کا فیصلہ ظالمانہ ہے۔ اگر حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو احتجاج طول پکڑے گا۔ مطالبہ کیا کہ پہلے اسلام آباد، لاہور، کراچی کی طرح یہاں سہولیات فراہم کی جائیں، پھر ٹیکس کی بات ہو۔ ہم پاکستانی ہیں اور ٹیکس دینے کو تیار ہیں لیکن سہولیات کے بغیر نہیں۔

انجمن تاجران پورن بازار کے صدر حیات خان نے کہا کہ یہ ٹیکس غریب عوام پر ظلم ہے۔ آج کی ہڑتال میں ہر دکاندار کا 10 سے 20 ہزار اور ریڑھی والے کا 2 ہزار تک نقصان ہوا۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ اللہ کے واسطے غریبوں پر رحم کیا جائے اور یہ ٹیکس معاف کیا جائے۔ غریب لوگ یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔

پورن بازار میں بیس سال سے کاروبار کرنے والے حنظلہ خان نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس لگانا مشکل ہے کیونکہ یہاں کے لوگ غریب ہیں۔ آج پورا بازار بند ہے۔ دیہاڑی دار لوگ شام کے لیے روٹی کماتے ہیں، ہڑتال کی وجہ سے ان کے بچے بھوکے رہیں گے۔انہوں نے پاکستان حکومت سے درخواست کی کہ مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس فوری ختم کیا جائے۔

تاجر برادری اور عوام کا واضح موقف ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ ہیں لیکن موجودہ حالات میں ٹیکس کا نفاذ ممکن نہیں۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ فیصلے پر نظرثانی کرے اور مالاکنڈ ڈویژن کو پہلے کی طرح مستثنیٰ رکھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top