انڈس بلائنڈ ڈولفن کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،ڈاکٹر مصدق ملک

drrr.png

سیدرسول بیٹنی

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ خطرے سے دوچار انڈس ریور بلائنڈ ڈولفن کا تحفظ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے دریاؤں، میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام اور آبی حیات کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات پیدا کر رہی ہے۔

اسلام آباد میں زونگ اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے اشتراک سے انڈس ڈولفن ریسکیو اینڈ موبائل آگاہی ایمبولینس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی منفرد حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے انڈس بلائنڈ ڈولفن کو پاکستان کے قدرتی اور ثقافتی ورثے کی ایک نایاب علامت قرار دیتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اس کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات کو سراہا، جن کی بدولت اس نایاب نسل کے تحفظ میں نمایاں پیش رفت ممکن ہوئی ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے زونگ اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی جانب سے خصوصی ریسکیو ایمبولینس کے اجرا کو ایک منفرد اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ڈولفنز کے ریسکیو، بحالی، ماحولیاتی نگرانی اور عوامی شعور اجاگر کرنے کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔

اس موقع پر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا کہ پاکستان میں انڈس ریور ڈولفن کی آبادی بڑھ کر تقریباً دو ہزار تک پہنچ چکی ہے، جو جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 1992 سے اب تک ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور صوبائی محکمہ جنگلی حیات نے مشترکہ طور پر 200 سے زائد پھنس جانے والی ڈولفنز کو ریسکیو کرکے دوبارہ دریا میں چھوڑا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نئی موبائل ریسکیو یونٹ سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج کے درمیان کام کرے گی، جس سے ہنگامی ریسکیو کارروائیوں، ماحولیاتی نگرانی، دریا کے کنارے آباد 1,500 سے زائد افراد کی شمولیت اور آگاہی مہمات کو فروغ ملے گا، تاکہ دنیا کی نایاب ترین میٹھے پانی کی ڈولفن کی اس نسل کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top