سیدرسول بیٹنی
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خواتین کے لیے روزمرہ سفر اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جہاں انہیں پبلک ٹرانسپورٹ میں رش، ہراسانی، طویل انتظار، غیر محفوظ ماحول اور مہنگی رائیڈ ہیلنگ سروسز پر انحصار جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ایسے حالات میں الیکٹرک سکوٹیز اور دیگر الیکٹرک وہیکلز خواتین کے لیے محفوظ، کم خرچ، ماحول دوست اور خودمختار سفری متبادل کے طور پر تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، جو نہ صرف ان کی نقل و حرکت کو آسان بنا رہے ہیں بلکہ مالی بچت، وقت کی بچت اور خوداعتمادی میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔
اسلام آباد ایکسپریس وے کے قریب واقع ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی مناہل عثمانی، جو پیشے کے اعتبار سے سائیکالوجسٹ ہیں، صبح پہلے ٹائم ایک ہسپتال میں کلینیکل انٹرن شپ،دن کے وقت ایک امیگریشن کنسلٹنسی میں ملازمت اور شام کے وقت ایم ایس سائیکالوجی کی ڈگری حاصل کرنے کے باعث روزانہ طویل سفر کرتی ہیں۔ وہ گزشتہ دو ماہ سے الیکٹرک سکوٹی استعمال کر رہی ہیں، جسے وہ اپنی زندگی کا ایک اہم فیصلہ قرار دیتی ہیں۔
ان کے مطابق سکوٹی خریدنے سے قبل وہ روزانہ کی آمدورفت کے لیے ان ڈرائیو اور دیگر کیب سروسز استعمال کرتی تھیں، جس پر ماہانہ تقریباً 40 سے 50 ہزار روپے خرچ ہوتے تھے۔ الیکٹرک سکوٹی خریدنے کے بعد ان کے سفری اخراجات تقریباً ختم ہو گئے ہیں اور اب وہ یہی رقم اپنی تعلیم اور دیگر ضروریات پر خرچ کر رہی ہیں۔
مناہل کہتی ہیں کہ الیکٹرک سکوٹی نے انہیں صرف مالی فائدہ ہی نہیں دیا بلکہ خودمختاری اور اعتماد بھی عطا کیا ہے۔ پہلے انہیں ہر سفر کے لیے کسی نہ کسی پر انحصار کرنا پڑتا تھا، جبکہ اب وہ اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق دفتر، ہسپتال، یونیورسٹی اور دیگر مقامات پر محفوظ انداز میں سفر کرتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سکوٹی صرف دو سے تین گھنٹے میں مکمل چارج ہو جاتی ہے اور ایک مرتبہ چارج کرنے پر تین سے چار دن تک باآسانی چلتی ہے۔ چونکہ اس کا چارجر پورٹیبل ہے، اس لیے گھر، دفتر، یونیورسٹی یا کسی بھی عام پاور ساکٹ سے اسے چارج کیا جا سکتا ہے۔ ان کی یونیورسٹی میں ای وی چارجنگ پوائنٹس بھی موجود ہیں، جس سے انہیں مزید سہولت حاصل ہے۔
ان کے مطابق الیکٹرک سکوٹی نہ صرف پٹرول کے مقابلے میں انتہائی کم خرچ ہے بلکہ فضائی آلودگی میں کمی کا بھی ذریعہ ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اگر پاکستان میں زیادہ خواتین الیکٹرک وہیکلز اپنائیں تو ان کی خودمختاری، تعلیم اور روزگار تک رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ ملک کا درآمدی تیل پر انحصار بھی کم ہوگا۔
تاہم، جہاں شہری سطح پر الیکٹرک وہیکلز کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں حکومتی سطح پر نیو انرجی وہیکل (NEV) پالیسی 30-2025 پر عملدرآمد اب بھی سست روی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔
گزشتہ سال متعارف کرائی گئی اس پالیسی کا مقصد 2030 تک نئی فروخت ہونے والی گاڑیوں میں 30 فیصد جبکہ 2040 تک 90 فیصد حصہ نیو انرجی وہیکلز پر مشتمل کرنا، درآمدی تیل پر انحصار کم کرنا، کاربن اخراج میں کمی لانا اور مقامی گرین انڈسٹری کو فروغ دینا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ایک سال گزرنے کے باوجود چارجنگ انفراسٹرکچر، مقامی مینوفیکچرنگ، بیٹری ری سائیکلنگ اور گرڈ کی تیاری جیسے بنیادی شعبوں میں پیش رفت محدود رہی ہے۔
ماہر ماحولیات ڈاکٹر زینب نعیم کے مطابق پالیسی کا وژن درست اور دور رس ہے، لیکن اس کی کامیابی مضبوط عملدرآمد، ڈیٹا پر مبنی نگرانی، معیاری چارجنگ نیٹ ورک، محفوظ بیٹری سسٹمز اور مؤثر ری سائیکلنگ نظام سے مشروط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف سبسڈی دینا کافی نہیں بلکہ صارفین کو قابل اعتماد بعد از فروخت خدمات، مستحکم بجلی، بیٹری ویسٹ مینجمنٹ اور جدید انفراسٹرکچر بھی فراہم کرنا ہوگا۔
انہوں نے سفارش کی کہ موٹر ویز، بڑے شہروں، کمرشل عمارتوں، پبلک پارکنگ اور نئی تعمیرات میں چارجنگ اسٹیشنز لازمی قرار دیے جائیں، جبکہ سولر سے منسلک اسمارٹ چارجنگ، آف پیک ٹیرف اور بیٹری ری سائیکلنگ کے لیے جامع قوانین بھی متعارف کرائے جائیں۔
متبادل توانائی کے ماہر ڈاکٹر عمیس عبدالرحمان کے مطابق حکومت پالیسی کے بیشتر اہداف سے اب بھی کافی پیچھے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی مینوفیکچررز کو لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں، لیکن پیداوار مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکی، جبکہ پالیسی میں مقررہ 240 چارجنگ اسٹیشنز کے مقابلے میں ملک میں اس وقت تقریباً 60 فعال اسٹیشنز موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ٹرانسپورٹ سیکٹر ملک کی 37 فیصد توانائی استعمال کرتا ہے اور 87 فیصد درآمدی تیل اسی شعبے میں خرچ ہوتا ہے، اس لیے ٹرانسپورٹ کی برقی کاری صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن کا کم از کم 50 فیصد الیکٹرک چارجنگ نیٹ ورک، ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ اور برقی نقل و حمل کے فروغ پر خرچ کیا جائے۔
الیکٹرک وہیکلز کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے بچوں اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم سینئر صحافی اور محفوظ بچپن کی بانی بشریٰ اقبال حسین نے کہا کہ اسلام آباد سمیت بڑے اور چھوٹے شہروں میں خواتین کی جانب سے الیکٹرک سکوٹیز اور دیگر ٹو وہیلرز کا بڑھتا استعمال ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، تاہم اس کے فروغ کی راہ میں سماجی رویے، ہراسانی، بعد از فروخت سروس اور مینٹیننس کی محدود سہولیات، تربیت یافتہ مکینکس کی کمی اور مناسب ٹریننگ جیسے مسائل اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جاننے والی کم از کم پانچ خواتین نے مناسب بعد از فروخت سہولیات نہ ہونے کے باعث چند ہفتوں کے اندر اپنی الیکٹرک سکوٹیاں فروخت کر دیں۔ ان کے بقول شدید گرمی، سردی، بارش، مین روڈز پر چلانے کا محدود تجربہ اور ٹریفک تربیت کی کمی بھی خواتین کیلئے اب بھی اہم چیلنجز ہیں۔
بشریٰ اقبال حسین کے مطابق پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں الیکٹرک سکوٹیز خواتین کے لیے کم خرچ، محفوظ اور قابل اعتماد سفری متبادل ثابت ہو سکتی ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز خواتین کی خودمختاری، بااعتماد نقل و حرکت اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم حکومت کو چارجنگ اور مینٹیننس انفراسٹرکچر، تربیتی مراکز، بعد از فروخت خدمات اور خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اعتماد کے ساتھ الیکٹرک ٹو وہیلرز اپنا سکیں۔
الیکٹرک وہیکلز کے ماحولیاتی فوائد پر بات کرتے ہوئے بشریٰ اقبال حسین نے کہا کہ فوسل فیول سے قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی فضائی آلودگی میں کمی اور بہتر ماحول کے لیے ناگزیر ہے۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے صرف پالیسی سازی کافی نہیں بلکہ حکومت کو ای وی انفراسٹرکچر، چارجنگ نیٹ ورک، سبسڈی، تربیتی پروگراموں اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ پر تیز رفتاری سے کام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام، خصوصاً خواتین، کو سستی، محفوظ اور قابلِ اعتماد سفری سہولیات فراہم کیے بغیر گرین ٹرانسپورٹ کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
دریں اثنا، 3 جولائی کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار کیپٹن (ر) سیف انجم نے کمیٹی کو بتایا کہ قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی آئندہ پانچ برس تک نافذ رہے گی تاکہ پالیسی میں تسلسل اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک ملک بھر میں 3,000 الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں، جبکہ اس مقصد کے لیے اب تک 72 سے زائد چارجنگ اسٹیشنز کے لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق چارجنگ انفراسٹرکچر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت تیار کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر حکومت سرمایہ کاروں کو ویایبلٹی گیپ فنڈنگ بھی فراہم کرے گی۔
سیکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت کو توقع ہے کہ 2030 تک پاکستان کی سڑکوں پر تقریباً 22 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں موجود ہوں گی۔ اب تک ملک میں 12 ہزار 800 سے زائد الیکٹرک گاڑیاں اور تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلیں مقامی سطح پر تیار کی جا چکی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے دو اور تین پہیہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 9 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے، جبکہ الیکٹرک موٹر سائیکل خریدنے والے اہل صارفین کو 80 ہزار روپے فی گاڑی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 5 ہزار 700 افراد بینک فنانسنگ سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق جدید بیٹری ٹیکنالوجی کی بدولت نئی الیکٹرک گاڑیاں ایک مرتبہ چارج ہونے پر 400 سے 500 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ 3 سے 7 کلوواٹ بیٹری والی الیکٹرک موٹر سائیکلیں عام 220 وولٹ بجلی سے آسانی سے چارج کی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق نیو انرجی وہیکل (NEV) پالیسی پاکستان میں صاف، کم لاگت اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کی بنیاد رکھ سکتی ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار بلند اہداف کے اعلان سے زیادہ مؤثر عملدرآمد، مضبوط چارجنگ انفراسٹرکچر، مقامی صنعت کی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی اعتماد کے حصول پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکٹرک وہیکلز نہ صرف کاربن اخراج اور درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ خواتین کی محفوظ نقل و حرکت، معاشی خودمختاری اور روزگار و تعلیم تک آسان رسائی کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔

