سیدرسول بیٹنی
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں سو فیصد اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے نام پر عوام سے وصول کی جانے والی رقم کے استعمال کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں سو فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے، تاہم عملی طور پر ماحولیاتی منصوبوں پر اس فنڈ کے استعمال کے آثار کہیں نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت واضح کرے کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن آخر کن منصوبوں پر خرچ کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو پٹرولیم لیوی سے الگ کرتے ہوئے اس کی وصولی اور اخراجات کے لیے ایک علیحدہ، شفاف اور جوابدہ نظام قائم کیا جانا چاہیے تاکہ ماحولیات کے نام پر وصول ہونے والا ہر روپیہ صرف ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی موافقت اور ماحولیاتی بحالی کے منصوبوں پر ہی خرچ ہو۔
شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے اور موسمی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں کلائمیٹ فنڈز کا مؤثر، شفاف اور بروقت استعمال ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کا مقصد صرف حکومتی ریونیو میں اضافہ نہیں بلکہ ماحولیات کا تحفظ اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات ہونا چاہیے۔ عوام اضافی لیوی ادا کر رہے ہیں، اس لیے حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس کے ثمرات بھی عوام کو دکھائے۔
پیپلز پارٹی کی نائب صدر نے مطالبہ کیا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن، اس کی مد میں منظور کیے گئے منصوبوں، فنڈز کی تقسیم اور اخراجات کی مکمل تفصیلات جاری کی جائیں۔ انہوں نے اس فنڈ کے باقاعدہ آڈٹ اور آزادانہ نگرانی کا بھی مطالبہ کیا تاکہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
شیری رحمان نے کہا کہ ایک طرف ماحولیات کے بجٹ میں کمی کی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جو حکومتی پالیسی میں واضح تضاد کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی عوام کی امانت ہے اور اس کے ایک ایک روپے کے استعمال کا حساب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر کلائمیٹ فنڈز کا مؤثر، شفاف اور جوابدہ نظام کے تحت استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔

