”دی آئی وِٹنس“سیاسی تاریخ کے پوشیدہ ابواب کی معتبر شہادت ہے،فرحت اللہ بابر

گگگ.png

سیدرسول بیٹنی

اسلام آباد : پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیراہتمام سابق اعلیٰ سرکاری افسر محمد سعید مہدی کی کتاب ”دی آئی وِٹنس“( تاریخ کے سائے میں کھڑا عینی شاہد ) کی  تقریبِ رونمائی و جائزہ کے سلسلے میں ایک اہم نشت کا اہتمام کیا گیا جس میں مقررین نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم موڑوں کا مشاہدہ کرنے والے مصنف کی کتاب کو ملکی تاریخ کے ان اوراق کی معتبر شہادت قرار دیا ہے جو عموماً سرکاری فائلوں اور سیاسی بیانیوں کے پس منظر میں اوجھل رہ جاتے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ یہ تصنیف محض ایک خود نوشت نہیں بلکہ پاکستان میں اقتدار، سیاست، ریاستی اداروں اور تاریخی فیصلوں کی اندرونی کہانیوں پر مشتمل ایک ایسی دستاویز ہے جو ماضی کو سمجھنے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔مقررین نے اسے پاکستان کی تاریخی دستاویزات میں ایک اہم اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب ملک کی سیاسی تاریخ، حکمرانی کے چیلنجز اور اقتدار کے ایوانوں کے اندر ہونے والے فیصلوں کی ایک نادر عینی شہادت فراہم کرتی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(SDPI)کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ یہ کتاب محض ایک سوانح عمری نہیں بلکہ ایک ایسے سرکاری افسر کی تاریخی شہادت ہے جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کئی اہم موڑ قریب سے دیکھے۔انہوں نے کہا کہ پائیداری صرف ماحولیات اور معیشت تک محدود نہیں بلکہ اس کے لئے تاریخی اور سیاسی واقعات کے پس منظر میں کارفرما سیاسی معیشت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی علوم کے طلبہ اور محققین کےلئے یہ کتاب خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس میں قومی تاریخ کے اہم واقعات کے بارے میں اندرونی مشاہدات اور تجربات بیان کئے گئے ہیں۔

ڈاکٹر سلہری نے کہا کہ کتاب میں مصنف کے خاندان کی 1947 کی ہجرت، تعلیم، سول سروس میں شمولیت اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم ادوار میں ان کے تجربات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق پرنسپل سیکریٹری برائے وزیراعظم اور سابق چیف سیکریٹری سندھ اور کتاب کے مصنف محمد سعید مہدی نے کہا کہ اس کتاب کا مقصد ان واقعات کو محفوظ کرنا ہے جنہیں انہوں نے نظامِ حکومت کے اندر رہتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔انہوں نے کہا کہمیں نے جو کچھ قلم بند کیا ہے، وہ زندہ تاریخ ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے سرکاری افسران اپنے تجربات اور مشاہدات تحریر نہیں کرتے جس کے باعث قیمتی تاریخی معلومات وقت کے ساتھ ضائع ہو جاتی ہیں۔

محمد سعید مہدی نے کہا کہ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے اقتدار کے درست اور غلط دونوں طرح کے استعمال کو قریب سے دیکھا اور واقعات کو اسی طرح بیان کیا ہے جیسے وہ ان کے سامنے رونما ہوئے۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے اور پھانسی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مقدمے کے حوالے سے کئی سنگین قانونی سوالات موجود تھے۔

انہوں نے بھٹو صاحب کی پھانسی سے قبل کے آخری لمحات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا حوالہ بھی دیا۔انہوں نے کہا کہ بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی ذوالفقار علی بھٹو سے آخری ملاقات ان کی زندگی کے ناقابلِ فراموش لمحات میں سے ایک تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے پوری کتاب میں انصاف اور غیر جانبداری کو ملحوظ رکھا ہے اور یہ یادداشت دراصل ”دیوار پر آویزاں ایک آئینہ“ ہے جو واقعات کو اسی صورت میں منعکس کرتی ہے جیسے انہوں نے انہیں دیکھا اور محسوس کیا۔

سابق سول سرونٹ عاصم امداد علی نے کہا کہ حکومت کے اعلیٰ ترین مناصب پر خدمات انجام دینے والے سینئر سرکاری افسران کو اپنی یادداشتیں اور تجربات ضرور تحریر کرنے چاہئیں تاکہ ادارہ جاتی یادداشت اور تاریخی ریکارڈ محفوظ رہ سکے۔انہوں نے ”دی آئی وِٹنس“ کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم واقعات کا دلچسپ اور معلوماتی بیان قرار دیا۔

انہوں نے محمد سعید مہدی کو متوازن اندازِ بیان پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصنف نے دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی تنقیدی جائزے کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے کتاب میں مصنف کی اہلیہ اور خاندان کے کردار کے اعتراف کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنی مزید یادداشتوں اور غیر مطبوعہ واقعات پر مشتمل دوسرا حصہ بھی تحریر کریں گے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق سینیٹر اور ممتاز سیاست دان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس کتاب کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اسے ایک ایسے شخص نے تحریر کیا ہے جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کئی اہم واقعات کا براہِ راست گواہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کتاب میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار سمیت متعدد اہم قومی واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے، جبکہ حکمرانی اور فیصلہ سازی کے ایسے پہلو بھی سامنے لائے گئے ہیں جو عام طور پر منظرِ عام پر نہیں آتے۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ محمد سعید مہدی نے دیگر مصنفین کی طرح خود کو تفتیش کار، استغاثہ یا منصف کے طور پر پیش کرنے کے بجائے صرف وہی کچھ بیان کیا ہے جو انہوں نے دیکھا، جس سے قارئین کو خود اپنی رائے قائم کرنے کا موقع ملتا ہے۔انہوں نے اظہارِ خیال کی آزادانہ روایت کو فروغ دینے پر ایس ڈی پی آئی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ایسے مکالماتی فورمز آج کے دور میں جمہوری اقدار، فکری آزادی اور تعمیری مباحث کو فروغ دینے کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top