بجٹ میں اصلاحات سے زیادہ مالی استحکام کو ترجیح دی گئی،معاشی ماہرین

ناران.png

سیدرسول بیٹنی

اسلام آباد: پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے ماہرین نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ وفاقی بجٹ 27-2026 کو مالیاتی استحکام کی سمت ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار اقتصادی ترقی، روزگار کے فروغ، موسمیاتی لچک اور بہتر حکمرانی کے اہداف کے حصول کے لیے مزید ساختی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

بجٹ کے بعد منعقدہ میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے تنخواہ دار طبقے، آئی ٹی شعبے اور دستاویزی معیشت کے لیے دی گئی مراعات کا خیرمقدم کیا، تاہم غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے واضح لائحہ عمل، بڑھتے ہوئے پیٹرولیم لیوی بوجھ، مہنگائی کے خدشات اور موسمیاتی شعبے کے لیے محدود وسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔

ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے بعض شعبوں کو ریلیف دیا ہے، تاہم غیر دستاویزی معیشت اور زرعی آمدن پر ٹیکس کے نفاذ سے متعلق چیلنجز برقرار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صوبائی ترقیاتی اخراجات میں کمی سے تعلیم، صحت اور بلدیاتی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ بجٹ کا زور مالیاتی استحکام پر ہے جبکہ برآمدات پر مبنی ترقی اور ساختی تبدیلی کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی۔ انہوں نے مہنگائی کی شرح 11 سے 13 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا۔

سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈاکٹر فریحہ ارمغان نے کہا کہ پاکستان میں غربت موسمیاتی خطرات اور کثیرالجہتی محرومیوں کے باعث مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں 17 فیصد اضافے اور مستفید خاندانوں کی تعداد ایک کروڑ دو لاکھ تک بڑھانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا تاہم اس بات پر زور دیا کہ سماجی تحفظ کو صرف نقد امداد تک محدود رکھنے کے بجائے روزگار، چھوٹے کاروباروں اور خواتین کی معاشی خودمختاری سے جوڑا جانا چاہئے۔

توانائی اور موسمیاتی امور کے ماہر ڈاکٹر خالد ولید نے کہا کہ بجٹ میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے جبکہ توانائی کے موثر استعمال اور طلب کے انتظام کو مناسب اہمیت نہیں ملی۔

انہوں نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے، بیٹری ذخیرہ سازی کی جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانے اور الیکٹرک گاڑیوں کے لئے مراعات کو مثبت پیش رفت قرار دیا تاہم بین الاقوامی معیارات کے مطابق جامع گرین بجٹنگ فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔

ریسرچ فیلو ڈاکٹر عرفان احمد چٹھہ نے کہا کہ بجٹ کا بنیادی مقصد معاشی استحکام اور مالیاتی نظم و ضبط ہے، اسے ترقیاتی بجٹ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کا جائزہ صرف سالانہ اعداد و شمار کے بجائے درمیانی مدت کی مالیاتی منصوبہ بندی کے تناظر میں لیا جانا چاہئے۔

ریسرچ فیلو زینب نعیم نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مختص فنڈز میں کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی سروے میں موسمیاتی تبدیلی کو معیشت کے لئے بڑا خطرہ قرار دینے کے باوجود موافقت، آبی وسائل، زراعت اور گلیشیئرز سے متعلق منصوبوں کے لئے مختص وسائل کم کر دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ موسمیاتی معاونتی لیویز کا ایک حصہ قابلِ تجدید توانائی اور موسمیاتی موافقتی منصوبوں کے لئے مختص کیا جائے اور موسمیاتی بجٹ ٹیگنگ کے نظام کی باقاعدہ نگرانی اور اثرات کا جائزہ لیا جائے

ماہرین نے سماجی تحفظ، موسمیاتی موافقت، توانائی اصلاحات اور شفاف ٹیکس نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار اور جامع ترقی کے لیے محصولات میں اضافے کے ساتھ ساتھ مؤثر اصلاحات بھی ضروری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top