تحریر: طارق زیاد خواجہ
ہر سال جون کے مہینے میں جب وفاقی اور صوبائی حکومتیں بجٹ پیش کرتی ہیں تو ٹیلی ویژن اسکرینوں پر اعداد و شمار کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ کھربوں روپے، خسارہ، ترقیاتی فنڈز، ٹیکس ہدف — یہ سب الفاظ عام آدمی کے سر سے گزر جاتے ہیں اور اکثر لوگ یہ سمجھ کر منہ موڑ لیتے ہیں کہ بجٹ ماہرینِ معاشیات اور سرکاری افسروں کا معاملہ ہے، ہمارا اس سے کیا تعلق؟
مگر سچ یہ ہے کہ بجٹ آپ کی روزمرہ زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ہے۔ آپ کے بچے کے اسکول کی حالت، ہسپتال میں دوا کی دستیابی، گھر کے باہر سڑک، بجلی اور پٹرول کی قیمت، نوجوان کے روزگار کا امکان — یہ سب کچھ اسی ایک دستاویز میں طے ہوتا ہے۔
سادہ الفاظ میں بجٹ حکومت کا سالانہ حساب کتاب ہے کہ آمدنی کہاں سے آئے گی اور خرچ کہاں ہوگا۔ جیسے ایک گھر کا سربراہ مہینے کے آغاز میں سوچتا ہے کہ تنخواہ سے راشن، بچوں کی تعلیم، علاج اور بچت کے لیے کتنا رکھنا ہے، ویسے ہی ریاست بھی اپنی ترجیحات طے کرتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ گھر کے بجٹ کا اثر ایک خاندان پر پڑتا ہے اور قومی بجٹ کا اثر پچیس کروڑ انسانوں پر۔
حکومت کی آمدنی کے بڑے ذرائع ٹیکس ہیں: انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی وغیرہ، جبکہ قرضے، سرکاری اداروں کی آمدنی اور بیرونی امداد بھی شامل ہوتی ہے۔ یاد رکھیے، جب آپ بازار سے صابن کی ایک ٹکیہ یا ایک لیٹر دودھ خریدتے ہیں تو اس میں بھی ٹیکس شامل ہوتا ہے، یعنی غریب سے غریب شہری بھی ہر روز قومی خزانے میں حصہ ڈالتا ہے۔
پھر یہی رقم دفاع، قرضوں کے سود، تنخواہوں، پنشن، تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوتی ہے، اور یہیں سے اصل سوال جنم لیتا ہے کہ ترجیح کس کو ملے گی؟ اگر تعلیم پر خرچ کم اور غیر ترقیاتی اخراجات زیادہ ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل پر آج کی آسائش کو ترجیح دے رہے ہیں، اور اگر صحت کا بجٹ ناکافی ہو تو غریب آدمی کو علاج کے لیے قرض لینا یا زیور بیچنا پڑتا ہے۔ بجٹ دراصل قوم کی ترجیحات کا آئینہ ہے، اور یہ آئینہ ہمیں بتاتا ہے کہ حکمران ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بجٹ پر بحث محض ایک رسمی کارروائی بن چکی ہے۔ حکومتی ارکان اکثر بجٹ دستاویز پڑھے بغیر ہی حق میں ہاتھ اٹھا دیتے ہیں کیونکہ پارٹی قیادت کا حکم یہی ہوتا ہے، جبکہ اپوزیشن کے ارکان بجٹ کی خامیوں پر مدلل تنقید کرنے کے بجائے نعرے بازی، واک آؤٹ اور ذاتی الزام تراشی میں وقت گزار دیتے ہیں۔
یوں کھربوں روپے کا بجٹ چند دنوں کی شور شرابے والی کارروائی کے بعد منظور ہو جاتا ہے اور عوام کو پتا بھی نہیں چلتا کہ ان کے پیسے کا فیصلہ کیسے ہوا۔ یہ سیاسی الزام تراشی کا کھیل عوام کے اعتماد کو مزید کمزور کرتا ہے، کیونکہ جب شہری دیکھتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے بجٹ جیسے سنجیدہ معاملے پر بھی سیاست کر رہے ہیں تو وہ مایوس ہو کر منہ موڑ لیتے ہیں، اور یوں ایک خطرناک چکر بنتا ہے: عوام کی عدم دلچسپی سیاستدانوں کو غیر سنجیدگی کی کھلی چھٹی دیتی ہے اور سیاستدانوں کی غیر سنجیدگی عوام کو مزید بے زار کرتی ہے۔
اس کے برعکس ترقی یافتہ جمہوریتوں میں بجٹ کوئی راتوں رات منظور ہونے والی دستاویز نہیں۔ وہاں بجٹ تجاویز مہینوں پہلے سامنے آتی ہیں، پارلیمانی کمیٹیاں ایک ایک شعبے کے اخراجات کی جانچ پڑتال کرتی ہیں، ماہرین اور عام شہریوں کو سماعتوں میں بلایا جاتا ہے، آزاد ادارے اعداد و شمار کا غیر جانبدارانہ تجزیہ شائع کرتے ہیں اور میڈیا ہفتوں تک ہر تجویز پر بحث کرتا ہے۔
وہاں ایک عام ٹیکس دہندہ یہ پوچھنے کا حق رکھتا ہے اور استعمال بھی کرتا ہے کہ میرے ٹیکس کا ایک ایک روپیہ کہاں گیا۔ ہمارے ہاں قائمہ کمیٹیوں کا کردار برائے نام ہے، بجٹ سے پہلے عوامی مشاورت کا کوئی مؤثر نظام نہیں اور بجٹ کے بعد اخراجات کی نگرانی بھی کمزور ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بجٹ عوام کے بجائے طاقتور طبقوں کے مفادات کے گرد گھومتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں بجٹ پر عوامی دلچسپی اتنی کم کیوں ہے؟ پہلی وجہ معلومات کی کمی ہے، کیونکہ بجٹ دستاویزات مشکل انگریزی اور پیچیدہ اصطلاحات میں ہوتی ہیں جنہیں عام شہری سمجھ ہی نہیں سکتا۔ دوسری وجہ مایوسی ہے کہ ہمارے بولنے سے کیا فرق پڑے گا، اور تیسری وجہ روزمرہ کی معاشی جدوجہد ہے، کیونکہ جو شخص دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہو اس کے پاس بجٹ کی تقریر سننے کی فرصت کہاں ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ تنخواہ دار طبقہ بجٹ میں سب سے زیادہ دلچسپی لیتا ہے، اور اس کی وجہ سادہ ہے: اس کا ٹیکس تنخواہ سے کٹ کر براہِ راست خزانے میں جاتا ہے اور ٹیکس سلیب کی ایک تبدیلی اس کی ماہانہ آمدنی پر فوراً اثر ڈالتی ہے۔ یعنی جس کا تعلق براہِ راست اور واضح ہو، وہ توجہ دیتا ہے، حالانکہ مزدور، کسان، دکاندار اور گھریلو خاتون بھی اتنے ہی متاثر ہوتے ہیں — بس انہیں یہ تعلق دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ان کا ٹیکس چیزوں کی قیمتوں میں چھپا ہوتا ہے۔
اس صورتحال کا ایک بڑا ذمہ دار ہمارا میڈیا بھی ہے۔ بجٹ کے دن ٹی وی چینلز پر چند گھنٹے ہلچل رہتی ہے کہ کیا مہنگا ہوا اور کیا سستا، اور اگلے دن کوئی سیاسی تنازع یا شوبز کی خبر سرخیوں پر قبضہ کر لیتی ہے۔ بجٹ کی ترجیحات پر گہرا تجزیہ، اخراجات کا تعاقب یا وعدوں اور عمل کا موازنہ شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی کرکٹ، ڈرامے اور وائرل ویڈیوز کروڑوں لوگوں کی توجہ سمیٹتے ہیں جبکہ وہ معاشی پالیسیاں جو ہماری قسمت کا فیصلہ کرتی ہیں، چند سو لوگوں کی بحث تک محدود رہتی ہیں۔ یہاں ایک تلخ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ کیا حکومتوں کو واقعی فائدہ ہے کہ عوام بجٹ کو نہ سمجھیں؟ بدقسمتی سے اس کا جواب اکثر ہاں میں ہے، کیونکہ جو عوام سوال نہیں کرتی اس سے جواب دہی کا خوف بھی نہیں ہوتا۔ غیر شفاف بجٹ طاقتور لابیوں کو نوازنے، غیر ضروری اخراجات چھپانے اور ترقیاتی فنڈز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی گنجائش دیتا ہے۔ عوامی بے خبری دراصل کسی کی کمزوری نہیں، کسی کی طاقت ہے۔
تو پھر بہتری کا راستہ کیا ہے؟ پہلا قدم شفافیت ہے کہ بجٹ دستاویزات اردو اور علاقائی زبانوں میں سادہ خلاصوں کے ساتھ شائع ہوں تاکہ سوات کا دکاندار اور دیر کا کسان بھی سمجھ سکے کہ اس کے پیسے کا کیا ہو رہا ہے۔ دوسرا قدم پارلیمانی کمیٹیوں کو مضبوط بنانا ہے تاکہ منظوری سے پہلے حقیقی جانچ پڑتال ہو، اور تیسرا قدم عوامی مشاورت ہے کہ بجٹ بننے سے پہلے شہریوں، تاجروں، اساتذہ اور کسانوں سے ان کی ترجیحات پوچھی جائیں۔
کچھ ممالک میں شہری بجٹ کا تجربہ کامیاب رہا ہے جہاں مقامی ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا فیصلہ خود محلے کے لوگ کرتے ہیں۔ میڈیا کو بھی اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا اور بجٹ کو سال میں ایک دن کی خبر کے بجائے سال بھر کی نگرانی کا موضوع بنانا ہوگا، جبکہ تعلیمی اداروں میں بنیادی معاشی شعور کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ آنے والی نسل ٹیکس اور بجٹ کو اپنا حق اور فرض سمجھے۔
عزیز قارئین، بجٹ پر خاموشی دراصل اپنے مستقبل سے دستبرداری ہے۔ جس قوم کے شہری یہ نہیں پوچھتے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ کہاں گیا، اس قوم کے فیصلے ہمیشہ کوئی اور کرتا ہے۔ بجٹ کوئی فلک بوس علم نہیں جو صرف ماہرین سمجھ سکیں؛ یہ آپ کے گھر کے چولہے، آپ کے بچے کی کتاب اور آپ کے بزرگوں کی دوا کی کہانی ہے۔ اگلی بار جب اسمبلی میں بجٹ پیش ہو تو صرف یہ نہ پوچھیے کہ کیا مہنگا ہوا، بلکہ یہ پوچھیے کہ میرے علاقے کے اسکول، ہسپتال اور سڑک کے لیے کیا رکھا گیا اور پچھلے سال کے وعدوں کا کیا ہوا۔ سوال پوچھنا جمہوریت کی روح ہے، اور باخبر شہری ہی بہتر پاکستان کی بنیاد ہیں۔

