18ویں آئینی ترمیم پختون شناخت اور صوبائی خودمختاری کی ضمانت ہے،میاں افتخار

mian-.png

سیدرسول بیٹنی

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے، جس کے ذریعے نہ صرف صوبوں کو ان کا حقیقی تشخص ملا بلکہ وفاقی نظام کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے نتیجے میں صوبہ سرحد (NWFP) کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھا گیا، جو پختون قوم کی طویل جدوجہد کا ثمر ہے۔

صوبائی صدر نے کہا کہ اس جدوجہد کا آغاز باچا خان نے کیا، جسے عوامی نیشنل پارٹی نے عملی سیاست میں ڈھالا اور دہائیوں تک ہر فورم پر اس مطالبے کو زندہ رکھا۔  19 اپریل 2010ء کو 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے ساتھ یہ تاریخی خواب حقیقت میں بدل گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسفندیار ولی خان کی مدبرانہ قیادت میں ہم نے یہ آئینی کامیابی حاصل کی، اور آج صوبائی خودمختاری کے تحفظ، آئینی بالادستی کے استحکام اور پختونوں کے حقوق کے لیے ہماری جدوجہد مرکزی صدر ایمل ولی خان کی قیادت میں بھرپور انداز میں جاری ہے۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ 18ویں کے ذریعے صوبائی خودمختاری کو نمایاں طور پر فروغ ملا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، ثقافت اور دیگر اہم شعبوں کے اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے، مشترکہ مفادات کونسل کو فعال بنایا گیا، این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا گیا اور صدارتی اختیارات کو محدود کر کے پارلیمانی نظام کو مضبوط بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا مطالبہ صرف “پختونخوا” تھا، تاہم جمہوری مفاہمت کے تحت “خیبر” کا اضافہ قبول کیا گیا۔  18ویں آئینی ترمیم صوبائی خودمختاری، آئینی بالادستی اور جمہوری استحکام کی ایک روشن مثال ہے، جس میں عوامی نیشنل پارٹی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ صوبائی خودمختاری کے تحفظ، وسائل پر حقِ ملکیت، امن و امان کے قیام اور پختونوں کے آئینی و جمہوری حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top