آزاد قومیں اپنے بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دیتے ہیں،میاں افتخار

mian-.png

سیدرسول بیٹنی

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نےکہا ہے کہ مادری زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ قوموں کی شناخت، تہذیب اور فکری تسلسل کی بنیاد ہوتی ہے۔ جن معاشروں میں اپنی زبانوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے وہاں فکری جمود، ثقافتی کمزوری اور سماجی بے سمتی جنم لیتی ہے۔

21 فروری، مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ  پشتو، ہندکو، سرائیکی، گوجری، کہوار اور توروالی سمیت پختونخوا میں بولی جانے والی تمام زبانیں ہماری مشترکہ ثقافتی میراث ہیں، جن کا تحفظ ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے سرکاری سطح پر مادری زبانوں کو وہ مقام نہیں دیا گیا جس کی وہ مستحق ہیں۔

میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مادری زبانوں کو تعلیمی نظام، سرکاری امور اور ذرائع ابلاغ میں مؤثر نمائندگی دی جائے، تاکہ لسانی تنوع کو فروغ ملے اور معاشرتی ہم آہنگی مضبوط ہو۔

انہوں  نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں مادری زبانوں کے فروغ اور تحفظ کے لیے عملی اور تاریخی اقدامات کیے۔ پہلی مرتبہ مادری زبانوں کو نصاب کا حصہ بنایا گیا اور ابتدائی سطح پر مادری زبان میں تدریس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ اساتذہ کی تربیت، نصابی کتب کی تیاری اور لسانی تحقیق کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کیے گئے۔ تمام مادری زبانوں کے فروغ اور سرپرستی کیلئے خیبر پختونخوا ریجنل لینگوجز اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔

میاں افتخار حسین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کی حکومت کے بعد ان میں سے بیشتر اقدامات کو بتدریج ریورس کر دیا گیا۔ مادری زبانوں کو نصاب سے محدود یا عملاً خارج کیا گیا، ادارہ جاتی سرپرستی کمزور کی گئی اور لسانی پالیسی کو عملی ترجیح نہ دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 21 فروری ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ اپنی مادری زبانوں کی بقا دراصل اپنی شناخت، اپنی تاریخ اور اپنے مستقبل کی بقا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی لسانی حقوق اور مادری زبان میں تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top