سمانہ رباب
جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقین پیدا تو کر لیتا ہے یہ بالوں پرے روح الامیں پیدا
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
آج اسلامی جمہوریہ ایران میں انقلاب اسلامی کی مشعل اپنی قوت کے ساتھ تابناک ہے۔ حضرت امام خمینی نے اپنی حیات ثمر بخش کے دوران ہی ایران کو امیدوں اور قیادت کے مرکز کے طور پر گردانہ تھا۔
امام خمینی کی آمد سے قبل ہی علامہ اقبال نے ایران کو اسلامی دنیا کے مرکز کے طور پر متعارف کروا دیا تھا۔اقبال ہر طرح کی شہنشاہیت کے خلاف ہیں خواہ وہ انگریزی سامراج ہو، عرب یا عجمی شہنشاہیت۔ اقبال کو یقین تھا کہ ایک مضبوط اور مستحکم ایران وجود میں آئے گا جس میں مشرق کا جینیوا بننے کی اہلیت ہوگی۔
اہل ایران کا ذوق، شعور،ایمان، تقویٰ، نظم و ضبط،ایمانداری دین اسلام سے محبت اور اسلامی تعلیمات کی ترویج و تبلیغ کے لیے کوشش، فلسطین کی دفاع کے لیے قیام اور طاغوتی طاقتوں کے سامنے ڈٹے رہنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایران ہی امت مسلمہ کی علمبرداری کا حق ادا کر رہا ہے۔ شاید علامہ اقبال کی دور رس نظر نے یہ بھانپ لیا تھا کہ حقیقی مسلمان ہی قیادت کی ذمہ داری اٹھا سکتا ہے۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
11 فروری ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کا دن منایا جاتا ہے۔ شاید ہی دنیا میں کوئی ایسا اسلامی ملک ہو جس نے اپنے وطن کی آزادی کے دن کو "یوم اللہ” کا نام دیاہو،یوم اللہ یعنی اللہ کا دن۔
ہمارے وطن پاکستان کی بنیاد بھی "لا الہ الا اللہ” پر رکھی گئی ہے البتہ یہ اور بات ہے کہ ہم نے اپنی بنیاد اور اس نظریے کو بھلا دیا ہے۔ایران کے قومی دن کی تقریبات کو کورج دینے کے لیے دنیا بھر سے انفلوئنسرز نے شرکت کی جن میں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے جمشید برکی کا نام قابل ذکر ہے۔آیت اللہ خامنائی کے حکم پر تمام عوام انقلاب اسلامی کا دن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئی اور ان میں خواتین اور بچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
ایران کے انقلاب اسلامی یہ 47 ویں قومی دن کے موقع پر ملت پاکستان کی جانب سے ایران کو ان کی کامیابیوں پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ آج ایران نے تمام تر عالمی مخالفتوں اور پابندیوں کے باوجود اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ کر اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ ایران کی اس ترقی میں خواتین کا حصہ مردوں سے کچھ کم نہیں ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تو زیادہ بجا ہوگا کہ آج کے تاریخ یافتہ ایران کے پیچھے باشعور اور با ایمان خواتین کا ہاتھ ہے۔
ایران علم و ادب، قدیم ثقافت اور تہذیب کا مرکز جدید ٹیکنالوجی اور ترقی کی نمائندہ سرزمین ہے جہاں تاریخ اور مستقبل ایک ساتھ مل کر ایک روشن و تابناک منظر پیش کرتے ہیں ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد اسلام کی نورانی تعلیمات سے بہرہ مند ہوتے ہوئے خواتین کے کلیدی کردار اور مقام و منزلت کو مد نظر رکھا گیا ہے۔
یہ خواتین اسلامی جمہوریہ ایران میں ایک جانب مختلف سماجی میدانوں میں اپنی طاقت و توانائی کا مظاہرہ کر رہی ہیں تو دوسری جانب گھر کے ماحول میں اپنی اولاد کی تربیت، ماں اور شریکِ حیات کا کردار ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کرتی ہیں۔خواتین کا یہ کلیدی کردار، دراصل عورتوں کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات کو اہمیت دینے کا نتیجہ ہے۔
ایران کے اندر خواتین نے 1979 میں انقلاب اسلامی کی کامیابی میں نہایت مؤثر ،فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔انقلاب ایران میں خواتین کی خدمات اور قربانیاں نہ صرف ان کی جرات، استقامت اور بصیرت کی عکاس ہیں بلکہ ایران کی تاریخ میں ان کے گہرے اور دیرپا اثر و رسوخ کا ناقابل تردید ثبوت بھی ہیں۔
انقلاب اسلامی کے بعد عورت کو صنفی امتیاز اور ایک شے یا چیز کے طور پر دیکھنے کی بجائے،عورت کو جہاں تکریم اور عزت دی گئی ہے وہاں ان کا جائز مقام دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے جس کی باعث ایران میں آج خواتین تمام شعبوں میں مردوں سے بھی اگے ہیں۔
رہبر معظم آیت اللہ خامنائی فرماتے ہیں کہ آج ایران میں خواتین کی پیش رفت اور ترقی تاریخ میں بے مثال ہے۔ تعلیم،طب،سماجی تحقیق، ٹیکنالوجی، سیاست اور سماجی خدمات، ہر میدان میں ایرانی خواتین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ ترقی اسلامی اقدار، خود اعتمادی اور معاشرتی حمایت کا نتیجہ ہے۔
انقلاب اسلامی کے بعد ایرانی خواتین نے معاشرے کی ترقی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سینکڑوں خواتین عوام کی منتخب کردہ مقامی کونسلوں میں مردوں کے شانہ بشانہ خدمات انجام دے رہی ہیں۔اس کے علاوہ ججوں،سرکاری ملازمین،سفیروں اور پولیس افسران سمیت لاکھوں کی تعداد میں عورتیں ملک کی افرادی قوت میں شامل ہیں۔
انٹرنیشنل پیرا اولمپک کمیٹی نے ایران کو شعبہ خواتین میں دنیا کا بہترین ملک قرار دیا ہے اور ایران کو خواتین کھلاڑیوں کی ترقی کے شعبے میں سال کا نمایاں رکن منتخب کیا ہے۔ ملک کی 24 فیصد اختراعات خواتین نے رجسٹر کی ہیں۔خواتین کی جانب سے پیٹنٹ رجسٹریشن کی عالمی اوسط 14 سے 17 فیصد کے درمیان ہے اور ایران میں یہ شرح 17 فیصد ہے ایران میں ایجوکیشن سسٹم کا 60 فیصد سے زیادہ عملہ،56 فیصد یونیورسٹی لیکچررز اور یونیورسٹیوں میں 63 فیصد داخلے لڑکیوں اور خواتین پر مشتمل ہیں۔
فلم ساز خواتین کی جانب سے حاصل شدہ 128 بین الاقوامی ایوارڈز اور سپورٹس کے میدان میں 3500 تمغے ایرانی خواتین کی صلاحیتوں اور اہلیت کا وہ بولتا ثبوت ہیں۔اس وقت ایران خطے کی سب سے بڑی انجینیئرنگ طاقتوں میں سے ایک ہے اور اس شعبے میں بھی خواتین نے اپنا لوہا منوایا ہے۔
قریب 40 برس سے سخت پابندیوں اور تعزیری اقدامات کے باوجود ایران کی ثابت قدمی میں کمی نظر نہیں آئی اور ثابت قدمی کی وجہ سے اسلام کی حقیقی تعلیمات کی پیروی کررہا ہے۔ایران کا اسلامی نظام، ایک ایسا انسانی نظام ہے جس کی تشکیل مرد و عورت کی قربانیوں سے بالاتر ہے اور اس کی ترقی و بقا کے لیے دونوں صنفوں کا باہمی تعاون ضروری ہے۔اس قسم کا نظریہ جب کسی انقلاب کی بنیاد بن جاتا ہے تو اس انقلاب کے ثمرات سے خواتین بھی بہرہ مند ہوتی ہیں۔
ہمارا ہمسایہ ملک ایران آج نہ صرف مسلم اُمہ کے لیے بلکہ اقوام عالم کے انسانوں کے لیے رول ماڈل ہے۔ ہمارا وطن عزیز پاکستان (یعنی پاک لوگوں کا مسکن )قدرت کی عطا کردہ عنایتوں سے مالامال ہے۔ نعمت کی شکر گزاری،نعمت کا درست استعمال ہے۔ہمیں بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اپنے قوت بازو اور صلاحیتوں پر یقین رکھنا ہوگا۔
ہمت،استقلال،قربانی کے جذبے سے ثابت قدم رہنا ہوگا۔محنت، جدوجہد اور خلوصِ نیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانا ہوگا۔ تب کہیں جا کر کشت ویران آباد ہوگی۔ جس کے متعلق علامہ اقبال فرما گئے ہیں۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی


یہ آرٹیکل پڑھ کر امید پیدا ہوگئی ہے کہ اگر پاکستانی معاشرہ اور پاکستانی حکومت خواتین کی تعمیل اور ترقی پر تھوڑا بھی کام کر لے تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا