اجمل خٹک نے قلم کے ذریعے پختون قوم میں خودداری اور شعور کو فروغ دیا،مقررین

WhatsApp-Image-2026-02-10-at-11.30.14-PM.jpeg


اسلام آباد:پاکستان کے کمالِ فن ایوارڈ یافتہ نامور شاعر، ادیب، صحافی اور قوم پرست رہنما اجمل خٹک مرحوم کی سولہویں برسی کے موقع پر منگل کو اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں تعزیتی و ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب کا اہتمام پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد اور پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد نے مشترکہ طور پر کیا، جبکہ صدارت سوسائٹی کے چیئرمین سید محمود احمد نے کی۔ نظامت کے فرائض سیکرٹری جنرل پشتو ادبی سوسائٹی و نائب صدر پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن سردار یوسفزئی نے انجام دیے۔

مہمانانِ خصوصی میں سابق ڈائریکٹر جنرل صحت خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد ایوب روز یوسفزئی، سحر اکیڈمی کے بانی سعادت سحر، معروف شاعر و دانشور عبدالکریم بریالے اور سینئر صحافی و صدر پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن قمر یوسفزئی شامل تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اجمل خٹک پشتو ادب کا ایک توانا اور باوقار حوالہ تھے جن کی شاعری اور نثر میں قومی شعور، مزاحمت، امن اور انسانی وقار کا پیغام نمایاں ہے۔ انہوں نے اپنی فکر، قلم اور عملی جدوجہد کے ذریعے نہ صرف پشتو ادب کو نئی جہتیں عطا کیں بلکہ پختون قوم میں خودداری اور اجتماعی بیداری کو فروغ دیا۔

پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابد، ڈاکٹر حسن جی عشرت اور عبدالحمید زاہد نے اپنے مقالات میں کہا کہ اجمل خٹک کی تحریروں میں فکری گہرائی، استدلال اور مقصدیت نمایاں ہے اور وہ ادب کو سماجی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی تصانیف آج بھی نوجوان نسل کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔

مقررین نے ان کی قومی و سیاسی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پختون قوم کے حقوق، زبان اور ثقافت کے تحفظ کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور جمہوری اقدار و پرامن مزاحمت کی عملی مثال قائم کی۔

تقریب میں خورشید ابنِ لبید، احساس خٹک، نورالاسلام سنگر اور محمد ایوب ایوب نے منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔

اس موقع پر متعدد ادبی، صحافتی اور سماجی شخصیات کے علاوہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ایم فل اسکالرز اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی شرکت کی۔

تقریب کے اختتام پر اجمل خٹک مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ان کی ادبی و فکری وراثت کو زندہ رکھا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top