سیدرسول بیٹنی
اسلام آباد:سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے حالیہ بڑھتے واقعات وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں کی عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ موجودہ حالات میں نئے عام انتخابات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 300 سے زائد پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں، جو انتہائی افسوسناک اور تشویشناک صورتحال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کے لیے تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے وفد کے ہمراہ گئے۔ وفد میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر بھی شامل تھے۔
وفد نے حالیہ دھماکے میں شہید ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی اور بعد ازاں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) جا کر زخمیوں کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
اسد قیصر نے کہا کہ چاہے دہشت گردی کے واقعات اسلام آباد میں ہوں، خیبر پختونخوا یا بلوچستان میں، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاہم حکومت اس ذمہ داری کی ادائیگی میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائیوں کے بجائے امن و امان کی بحالی اور عوام کی سلامتی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام قومیتوں اور مسالک کا مشترکہ وطن ہے جہاں شیعہ، سنی، پشتون، پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی اور مہاجر سب بھائی بھائی ہیں۔ ایک پاکستانی کی حیثیت سے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کل ملک بھر میں یومِ سیاہ اور یومِ سوگ منایا جائے گا۔ شام کے وقت مشعل بردار ریلیاں نکالی جائیں گی جبکہ مساجد میں ملک کے امن و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قائداعظم کے وژن کے مطابق ایک پرامن اور مضبوط ریاست بنایا جائے۔
قومی اسمبلی کے جاری اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر دو روزہ بحث کو ناکافی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کم از کم دو سے تین دن تک تفصیلی بحث کی جائے کیونکہ یہ وقت دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا ہے۔
آخر میں اسد قیصر نے کہا کہ اگرچہ وہ موجودہ حکومت کو غیر قانونی سمجھتے ہیں، تاہم قومی سلامتی کے معاملات پر سنجیدہ مکالمہ ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عملی طور پر ناکام ہو چکی ہے، اس لیے ملک میں نئے عام انتخابات اور نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی ناگزیر ہو گئی ہے۔

