خیبر پشتونخوا اور جنوبی پشتونخوا میں پشتون قوم پرست سیاست

56b95014-2abf-49d7-9662-5cc23a4ab041-removebg-preview.png

عارف تبسم

پاکستان میں پشتون قوم پرست سیاست کو عموماً ایک ہی رنگ میں دیکھا جاتا ہے، حالانکہ اگر اسے تاریخی، سماجی اور ریاستی تناظر میں دیکھا جائے تو خیبر پشتونخوا اور جنوبی پشتونخوا (برٹش بلوچستان) میں اس سیاست کی نوعیت، سمت اور ریاست کے ساتھ تعلق بنیادی طور پر مختلف رہا ہے۔

یہ فرق محض جغرافیائی نہیں بلکہ تاریخی تجربے، ریاست میں شمولیت اور طاقت کے مراکز سے فاصلے یا قربت کا نتیجہ ہے۔ ان دونوں خطوں کی پشتون سیاست کو ایک ہی پیمانے سے ناپنا نہ صرف علمی سطح پر غلط ہے بلکہ اس سے وہ ناانصافیاں بھی اوجھل ہو جاتی ہیں جو جنوبی پشتونخوا کے پشتونوں کو دہائیوں سے درپیش ہیں۔

خیبر پشتونخوا میں پشتون قوم پرست سیاست، مجموعی طور پر، ہمیشہ ریاستی ڈھانچے اور بالخصوص فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نسبتاً قریب رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے پشتونوں کی ریاست میں شمولیت دیگر اقوام کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ پنجاب کے بعد اگر کسی صوبے یا خطے کے افراد سول اور فوجی بیوروکریسی میں نمایاں رہے ہیں تو وہ خیبر پشتونخوا کے پشتون ہیں۔

فوج میں بھرتی،انتظامی اداروں میں رسائی، اور ریاستی مشینری میں شمولیت نے یہاں کے پشتون متوسط اور بالائی طبقات کو ریاست کا فطری حصہ بنا دیا۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کی سیاست، حتیٰ کہ قوم پرست سیاست بھی، اکثر اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کے بجائے اس کے قریب رہ کر گنجائش نکالنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

اس ریاستی شمولیت کا ایک معاشی پہلو بھی ہے۔ خیبر پشتونخوا کے بڑے سرمایہ داروں، تاجروں اور صنعتکاروں کا کاروباری مرکز طویل عرصے سے پنجاب رہا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی اور بعد ازاں اسلام آباد کے ساتھ ان کے معاشی مفادات جڑے رہے ہیں۔ اس معاشی انضمام نے سیاسی رویّوں کو بھی متاثر کیا۔

جب کسی طبقے کے مفادات ریاست کے طاقتور صوبے اور اسٹیبلشمنٹ سے جڑ جائیں تو اس کی سیاست لازماً مزاحمتی کے بجائے مفاہمتی رخ اختیار کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پشتونخوا میں قوم پرست سیاست اکثر “قابلِ قبول” حدود کے اندر رہتی آ رہی ہے۔

اس کے برعکس جنوبی پشتونخوا کی پشتون سیاست کی تاریخ ابتدا ہی سے ریاستی طاقت کے خلاف مزاحمت سے جڑی ہوئی ہے۔ برٹش بلوچستان کے دور میں یہاں کے پشتونوں کا سامنا براہِ راست نوآبادیاتی ریاست سے تھا، اور اس ریاست کے خلاف سیاسی شعور محض حقوق کے مطالبے تک محدود نہیں بلکہ آزادی اور خودمختاری کے سوال سے جڑا ہوا تھا۔

جنوبی پشتونخوا کی سیاست نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ، چاہے وہ برطانوی ہو یا بعد ازاں پاکستانی، کو شک کی نظر سے دیکھا۔ یہاں کی قوم پرست سیاست نے ریاست کے اندر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ انضمام کے بجائے اس سے سوال پوچھنے اورسیاست میں اس کے کردار کو چیلنج کرنے کا راستہ اپنایا۔

پاکستان بننے کے بعد یہ فرق مزید گہرا ہو گیا۔ جب ون یونٹ کے خاتمے کا وقت آیا تو جنوبی پشتونخوا کی سیاست کے لیے یہ ایک تاریخی موقع تھا کہ وہ خیبر پشتونخوا کے ساتھ جغرافیائی اور قومی وحدت میں آتی۔ اس وقت پشتون وحدت کی ایک سنجیدہ سیاسی جدوجہد موجود تھی، مگر ریاستی منصوبہ بندی کچھ اور تھی۔ جنوبی پشتونخوا کے پشتون علاقوں کو نئے بننے والے بلوچستان صوبے میں ضم کر دیا گیا۔

یہ فیصلہ محض انتظامی نہیں تھا بلکہ گہرے سیاسی نتائج کا حامل تھا۔ اس کے ذریعے ایک طرف پشتون قوم پرست سیاست کو تقسیم کیا گیا، اور دوسری طرف جنوبی پشتونخوا کے پشتونوں کو بلوچ صوبے میں ضم کر کے ایک ان کی اکثریت کو مستقل اقلیت کی حیثیت دے دی گئی۔اس فیصلے کے نتائج آج تک جنوبی پشتونخوا کے پشتون بھگت رہے ہیں۔ صوبائی سطح پر انہیں ہمیشہ کم آبادی دکھا کر کم نمائندگی دی گئی۔

صوبائی اسمبلی میں ان کی نشستیں آبادی کے تناسب سے کم رہیں، اور قومی اسمبلی میں بھی خاطر خواہ نمائندگی کبھی نصیب نہ ہو سکی۔ بلوچستان کے سالانہ بجٹ، جو آج تقریباً ایک ہزار ارب روپے کے قریب ہے، میں سے بیس یا تیس فیصد سے زیادہ بجٹ جنوبی پشتونخوا کو شاذ و نادر ہی ملا۔ اور جو ملا بھی، وہ زیادہ تر ان نمائندوں کے ذریعے خرچ ہوتاہے جو اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں مسلط کیے گئے ہیں، اور جن کے ذاتی اثاثے پنجاب، کراچی اور اسلام آباد میں بنتے چلےجا رہے ہیں، جبکہ پشتون علاقوں میں غربت، بے روزگاری اور پسماندگی جوں کی توں ہے۔

اس تقسیم کا ایک اور سنگین نتیجہ شناختی سطح پر سامنے آیا۔ وحدت میں آنے کا موقع گنوانے کے بعد آج تک خیبر پشتونخوا کے سیاستدان، حتیٰ کہ پڑھے لکھے لوگ بھی، جنوبی پشتونخوا کو “بلوچی” کہہ دیتے ہیں۔ جب ان سے پشتو میں بات کی جاتی ہے تو وہ حیران ہو جاتے ہیں، جیسے پشتو یہاں کی زبان ہی نہ ہو۔ یہ لاعلمی محض انفرادی نہیں بلکہ ایک منظم بیانیے کا حصہ ہے۔

مجھے یاد ہے کہ نوے کی دہائی کے اوائل میں پشتو اکیڈمی پشاور نے پشتو رسم الخط پر ایک کانفرنس منعقد کی اور اس کے فیصلے ایک کتابچے کی صورت میں شائع کیے، جس میں یہ جملہ شامل تھا کہ “اس رسم الخط سے ہمارے بلوچی لکھاری بھی فائدہ اٹھائیں گے۔” اس پر ہم نے شدید احتجاج کرتے ہوئے خط لکھا، کیونکہ یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ جنوبی پشتونخوا کے پشتونوں کو ثقافتی طور پر غیر مرئی بنانے کی کوشش تھی۔

کبھی کبھی تو خیبر پشتونخوا کے تعلیم یافتہ لوگ ہمیں “بلوچی پشتون” کہہ دیتے ہیں، اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ ہمارے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ انہی رویّوں کی وجہ سے پنجاب اور سندھ کے اکثر باشندے بلوچستان کو صرف بلوچوں کا صوبہ سمجھتے ہیں، اور انہیں علم ہی نہیں کہ پشتون اس صوبے کی آبادی کا کم از کم چالیس فیصد ہیں۔ یہ لاعلمی حادثاتی نہیں بلکہ سیاسی فیصلوں کا منطقی نتیجہ ہے۔

یہی ہی وجہ ہے کہ خیبر پشتونخوا میں پشتون سیاست چونکہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب رہی ہے، اس لیے وہاں اسے نسبتاً کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ جنوبی پشتونخوا میں چونکہ یہ سیاست ابتدا ہی سے ریاستی جبر کے خلاف رہی ہے، اس لیے یہاں اسٹیبلشمنٹ کو آج تک زیادہ تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ اس کے حواری سب سے زیادہ پشتونوں کے اندر ہی ملتے ہیں، اور یہاں آباد دوسری اقوام میں بھی ان کے گماشتے موجود ہیں۔

یہی وہ بنیادی فرق ہے جو خیبر پشتونخوا اور جنوبی پشتونخوا کی پشتون قوم پرست سیاست کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے، ایک طرف ریاست کے اندر جگہ بنانے کی سیاست، اور دوسری طرف ریاست کے کردار پر سوالات اٹھانے کی سیاست۔ جب تک اس فرق کو سمجھا نہیں جائے گا، پاکستان میں پشتون سیاست کو نہ سمجھا جا سکے گا اور نہ ہی اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ادراک ممکن ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top