سیدرسول بیٹنی
اسلام آباد: تجارتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی تحفظ پسندی اور علاقائی مسابقت میں اضافے کے باعث جنوبی ایشیا کو سنگین تجارتی رکاوٹوں کا سامنا ہو سکتا ہے، لہٰذا خطے کے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تجارتی پالیسیوں میں بروقت اور مؤثر اصلاحات کریں۔
ماہرین نے ان خدشات کا اظہار انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک پالیسی ڈائیلاگ میں کیا جس کا عنوان "اہم جنوبی ایشیائی ممالک میں آزاد تجارتی معاہدوں (FTA) کی حکمتِ عملی اور پاکستان کے لیے مضمرات” تھا جس میں تجارتی و سفارتی اور اکیڈمیا سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔
مقررین نے کہا کہ خطے میں کمزور علاقائی انضمام اور باہمی تجارت کی کم شرح جنوبی ایشیا کی معاشی ترقی اور صلاحیت کے لیے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر اور سابق سفیر جوہر سلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان دوست ممالک کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیتے ہوئے محتاط تجارتی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ سرمایہ کاری اور منڈیوں تک رسائی میں اضافے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم کے سابق مشیر ڈاکٹر عشرت حسین نے کلیدی خطاب میں کہا کہ مغربی ممالک کی تحفظ پسند پالیسیوں کے باوجود ایشیائی معیشتوں نے عالمگیریت سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنی اندرونِ ملک محدود معاشی سوچ سے نکل کر عالمی منڈیوں سے مؤثر طور پر جڑنا ہوگا۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق نے برآمدات میں تنوع، غیر ضروری ضابطہ بندی میں کمی اور مسابقتی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی استعداد میں عدم توازن کی بھی نشاندہی کی۔
سری لنکا کے جیوپولیٹیکل ماہر آسانگا ابیاگوناسیکرا نے کہا کہ تجارتی معاہدے محض معاشی نہیں بلکہ اسٹریٹجک اہمیت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ممکنہ آزاد تجارتی معاہدہ خطے کی تجارتی حرکیات کو متاثر کر سکتا ہے۔
اے آئی آر ای ڈی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شکیل احمد رامے نے ملکی سطح پر ساختی رکاوٹوں کے خاتمے، بڑے صنعتی اداروں کے فروغ اور مستقبل کے آزاد تجارتی معاہدوں کا محتاط جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کی تجارتی شراکت داری کو وسعت دی جا سکے۔
مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بدلتے ہوئے عالمی تجارتی منظرنامے میں معاشی استحکام کے حصول کے لیے پاکستان اور جنوبی ایشیا کو بروقت اصلاحات اور واضح حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہے۔

