سیدرسول بیٹنی
اسلام آباد: ترکیہ اور آذربائیجان کے سفیروں نے سیاسی، اقتصادی اور سٹریٹیجک شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے مشترکہ مفادات اور علاقائی استحکام کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار دونوں ملکوں کے سفیروں نے انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) اسلام آباد کے ترکیہ،آذربائیجان پروگرام کے افتتاحی سیمینار سے خطاب کے دوران کیا، جس کا عنوان “مشترکہ نقطۂ نظر اور استحکام: ترکیہ،آذربائیجان اور پاکستان” تھا۔ اس تقریب میں سفارت کاروں، ماہرین تعلیم اور پالیسی سازوں نے شرکت کی اور سہ فریقی تعاون اور علاقائی چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا۔
اس موقع پر انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر،سفیر جوہر سلیم نے تینوں برادر ممالک کے درمیان گہرے تاریخی،ثقافتی اور تہذیبی روابط کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ،آذربائیجان اور پاکستان کو ماضی میں یکساں علاقائی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے اور ان مشترکہ تجربات نے روایتی اور غیر روایتی سیکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے لیے باہمی فہم اور تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ترکیہ کے سفیر عرفان نذیراوغلو نے تینوں اسلامی ممالک کے درمیان جیو اسٹریٹجک اور جیو پولیٹیکل تعاون بالخصوص تجارت،اقتصادی روابط اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ، آذربائیجان اور پاکستان تین ریاستیں لیکن ایک قوم ہیں۔ترکیہ کے سفیر نے 2024 میں آستانہ اور نومبر 2025 میں لاچین میں ہونے والے سہ فریقی سربراہی اجلاسوں کو تینوں ممالک کے درمیان منظم تعاون کے فروغ میں اہم سنگِ میل قرار دیا۔
آذربائیجان کے سفیر خزر فرہادوف نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان سہ فریقی تعاون کا آغاز 2017 سے ہو چکا تھا لیکن اُس وقت اس تعاون کو باضابطہ حیثیت حاصل نہیں تھی۔
انہوں نے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ٹھوس نتائج حاصل کیے جا سکیں اور تینوں ریاستوں کے درمیان تعاون اور روابط کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
سیمینار کے شرکاء نے علاقائیت اور علاقائی پلیٹ فارمز کی اہمیت پر زور دیا، جو مشترکہ مفادات، اعتماد اور یکجہتی کے فروغ کے لیے مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ادارہ جاتی تعاون طویل المدتی علاقائی استحکام کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
شرکاء نے عوامی روابط، تعلیمی تبادلے اور پالیسی مکالمے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ گفتگو میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اس دور میں ترکیہ، آذربائیجان اور پاکستان خطے میں امن،استحکام اور سلامتی کے لیے مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔
تقریب کے دوران شرکاء نے انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کو ایک معتبر تحقیقی ادارہ قرار دیا گیا جو پالیسی سازی کے لیے مؤثر سفارشات اور مکالمے کے لیے فکری پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے.
اس کے علاوہ یہ بھی بتایا کہ آئی آر ایس کا نیا پروگرام فکری تعاون کو فروغ دینے،تعاون کے نئے امکانات کی نشاندہی کرنے اور مستقبل کے پالیسی سازوں اور محققین کو باخبر تجزیے اور مشترکہ سیکھنے کے ذریعے معاونت فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

