ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ علاقوں کے مسائل کو حل کرنا اولین ترجیح ہے،ڈاکٹر شذرا منصب

cc.jpeg

سیدرسول بیٹنی

اسلام آباد: وزیرِ مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شذرا منصب علی خان نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ علاقوں کے مسائل کو علاقائی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے، جبکہ گرین فنانسنگ کی عالمی سطح پر منصفانہ تقسیم ناگزیر ہو چکی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیٹ رپورٹرز برائے موسمیاتی تبدیلی کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے سے خطاب کے دوران کیا، جس میں جڑواں شہروں کے نامور صحافیوں نے شرکت کی۔

ڈاکٹر شذرا منصب نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے جامع موسمیاتی حکمتِ عملی تیار کر لی گئی ہے اور قومی موسمیاتی پالیسی کے مطابق عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ گرین فنانسنگ کی تقسیم انصاف کے تقاضوں کے مطابق کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں جنگلات کی کٹائی پر سخت پابندی عائد ہے اور زرخیز زمین کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ غیر قانونی طور پر جنگلات کی کٹائی میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔

وزیرِ مملکت نے بتایا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں موجود برفانی ذخائر کے تحفظ کے لیے ماہرین کے تعاون سے سائنسی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں آبی وسائل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر شذرا منصب علی خان نے کہا کہ پورے ملک میں آبادکاری کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے سٹی پلاننگ پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبوں کو پابند کیا جا رہا ہے کہ تمام تعمیراتی سرگرمیاں منصوبہ بندی اور ماحولیاتی قوانین کے مطابق ہوں، تاکہ جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل محفوظ رہ سکیں۔

انہوں نے گرین فنانسنگ کے عالمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے صرف 10 ممالک 85 فیصد گرین فنانسنگ حاصل کر رہے ہیں، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ ماحول کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے ممالک کو زیادہ وسائل ملنا قابلِ سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بعض پڑوسی ممالک، خصوصاً بھارت، خطے میں کاربن اخراج میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر شذرا منصب نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایات پر گلگت بلتستان میں دریاؤں کے کنارے قائم غیر قانونی کمرشل تعمیرات کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ پورے ملک میں آبادکاری کے لیے سٹی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت موسمیاتی تحفظ، ماحول دوست ترقی اور پائیدار مستقبل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top