ارفع طارق
اسلام آباد:میڈیا کے نگران ادارہ فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے” ڈیجیٹل ڈائیلاگ سمٹ 2025 ” کا انعقاد کیا گیا جس میں ماہرین نے اسں بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل میڈیا اور ٹیکنالوجی سیکٹرز کو آپس میں ایک جامع، محفوظ اور شمولیتی ڈیجیٹل ماحول کی تعمیر کے لیے تعاون کرنا چاہیے جو معتبر معلومات تک رسائی کو یقینی بنائے اور شہریوں کو ڈیجیٹل تبدیلی سے فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم کرے۔
"انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ” کے تعاون سے منعقد ہونے والا دوسرا سالانہ ڈیجیٹل ڈائیلاگ سمٹ کا انعقاد کیا جس میں معروف صحافیوں، ٹیکنالوجی ماہرین، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی کے نمائندوں،ڈیجیٹل حقوق کے حامیوں اور کثیر تعداد میں اسلام آباد کے مختلف یونیورسٹیز کے میڈیا سٹدیز ڈیپارٹمنٹس میں زیر تعلیم سٹوڈنٹس نے شرکت کی اور مختلف سیشنز میں شرکت کی جہاں پر ماہرین نے پاکستان کے ڈیجیٹل انفارمیشن کے نظام اور عوامی مفاد کے میڈیا کے مستقبل پر بات کی اور اپنے تجربات بیان کئے۔
فریڈم نیٹ ورک کی پروگرام لیڈ مناہل شہاب نے کہا کہ اے آئی متاثرہ مستقبل کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے مشترکہ کوششوں اور بات چیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ڈائیلاگ سمٹ ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور جامع پاکستان کے لیے مشترکہ روڈ میپ بنانے کا تصور کرتا ہے۔

آئی ایم ایس کے پروگرام مینیجر عدنان رحمت نے آزاد ڈیجیٹل نیوز میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالی جو مقامی کمیونٹیز کی معلومات کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان آزاد ڈیجیٹل نیوز آؤٹ لیٹس نے ہمارے معاشرے کے تنوع اور تکثیریت کی عکاسی کی ہے جبکہ ایسی معتبر خبریں فراہم کی ہیں جو اخلاقیات اور مفاد عامہ کی اقدار کی پاسداری کرتی ہیں۔
ڈیجیٹل ڈائیلاگ کے مختلف مباحثوں کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا ڈویلپمنٹ کے ماہرین نے تکنیکی اختراعات بالخصوص مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے ذریعہ پیش کردہ مواقع تلاش کرتے ہوئے آزاد ڈیجیٹل صحافت اور مفاد عامہ کی ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ کو درپیش اہم مالیاتی اور پالیسی چیلنجز کا جائزہ لیا۔

ٹائمز آف کراچی، ہزارہ ایکسپریس نیوز، ٹرائبل نیوز نیٹ ورک، وائس پی کے ڈاٹ نیٹ اور دی رپورٹرز سمیت ممتاز آزاد ڈیجیٹل میڈیا آؤٹ لیٹس کے مالکان اور ایڈیٹرز نے مفاد عامہ کی صحافت پر عمل کرنے میں اپنے تجربات، چیلنجز اور سنگ میل بتائے۔ انہوں نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے وسائل کی رکاوٹوں کے باوجود کمیونٹی کی آواز اجاگر کرنے اور کہانی سنانے کی نئی شکلوں کو فعال بنایا ہے۔
پینلسٹس نے ان مختلف طریقوں کا بھی جائزہ لیا جن میں اے آئی مواد کی تخلیق، تقسیم کے طریقوں اور نیوز روم کے کام کو نئی شکل دے رہا ہے۔ اگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ کے ڈپٹی مینیجر پروجیکٹس اسامہ بن منصور نے کہا کہ ان کا ادارہ اپنے کام میں نیشنل ے آئی پالیسی کے اصولوں کو اپنا رہا ہے اور حال ہی میں طلباء، محققین اور کمپنیوں کو اے آئی کے ذریعے سماجی فائدے کے منصوبے بنانے کیلئے ایک مقابلہ میں مدعو کیا ہے۔
ڈیجیٹل ڈائیلاگ سمٹ کے شرکاء نے حقوق کا احترام کرنے والے ڈیجیٹل نظام کی حمایت کے لیے میڈیا، ٹیکنالوجی، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

