رابیہ ارشد ترکمان
لاہور: پنجاب اسمبلی اور یو این ڈی پی کے باہمی اشتراک سے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) پر پنجاب پارلیمنٹری کانفرنس کا دوسرا سیشن اختتام پذیر ہوگیا جس کا عنوان "ایجنڈا 2030 کے لیے صوبائی عمل کی سرپرستی” تھا۔ یہ سیشن لاہور کے ایک مقام ہوٹل میں منعقد ہوا جو کہ پاکستان میں ایس ڈی جیز سے متعلق پارلیمانی عمل انگیزی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
کانفرنس میں پہلی مرتبہ تمام قانون ساز ایوانوں قومی اسمبلی،سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے، جسے صوبائی سطح پر قومی پارلیمانی قیادت کی تاریخی مثال قرار دیا گیا۔ اجلاس میں ملک بھر کے قانون سازوں نے ایجنڈا 2030 کے اہداف کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں پاکستان کا پہلا پارلیمنٹری معاہدہ برائے ایس ڈی جیز پیش کیا گیا، جو بین الصوبائی مشاورت اور اتفاق رائے سے تیار کیا گیا دستاویز ہے۔ یہ معاہدہ پنجاب اسمبلی کی ایس ڈی جی ٹاسک فورس کے نوجوان ارکان نے مرتب کیا، جسے ملک کی ترقیاتی ترجیحات میں ادارہ جاتی ہم آہنگی اور یکجہتی کی علامت قرار دیا گیا۔
سیشن کا آغاز ڈائریکٹر پارلیمانی ڈویلپمنٹ یونٹ (PDU) مس عاصفہ خان کے افتتاحی خطاب سے ہوا، جنہوں نے کانفرنس کے انعقاد اور شراکت داریوں کی تشکیل میں اپنی ٹیم کے کردار پر روشنی ڈالی۔ صدر پیلڈیٹ احمد بلال محبوب نے پاکستان اور خطے میں ایس ڈی جیز کی پیش رفت پر تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی قیادت نے پارلیمانی سطح پر ایس ڈی جیز کے عمل کو نئی توانائی دی ہے۔
یو این ڈی پی کے سینئر ایس ڈی جی مشیر نوید احمد شیخ نے ایجنڈا 2030 کے بڑے وژن، شمولیتی ترقی اور ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ یو این ڈی پی سے شاہبانو نے صوبائی سطح پر ڈیٹا سسٹمز اور پالیسی ہم آہنگی میں ہوئی پیش رفت کا احاطہ کیا۔
اس کے بعد ارکانِ اسمبلی نے ایک تعاملی نشست میں اپنے حلقوں کے تجربات اور صوبائی چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ ایم پی اے عظمیٰ کاردار نے خواتین اور بچیوں کے معاشی و سماجی بااختیار ہونے کو حقیقی ترقی کی بنیاد قرار دیا، جبکہ پارلیمانی سیکرٹری کنول لیاقت نے ماحولیاتی مسائل اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے استعمال کو بہتر حکمت عملی قرار دیا۔ ایم پی اے عدنان افضل چٹھہ نے غربت کے باعث اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے اور ہنر مندی کے پروگراموں کی اہمیت پر زور دیا۔
چیئرمین PAC-II (H.I.) سید علی حیدر گیلانی، ایم پی اے آمنہ حسن شیخ اور سارہ احمد نے بھی خواتین کے تحفظ، بچوں کے مسائل اور صوبائی قانون سازی میں بہتری کے اقدامات پر اظہارِ خیال کیا۔
یو این ڈی پی کے ریزیڈنٹ ریپرزینٹیٹو سیموئل رزک نے کہا کہ ایس ڈی جیز کے حصول کے لیے صرف آگاہی کافی نہیں بلکہ مؤثر نگرانی، تجزیہ اور تیز رفتار عمل درآمد ناگزیر ہے۔
اجلاس کے اختتام پر سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2013 کے مقابلے میں آج پاکستان میں ایس ڈی جیز کو ایک جامع قومی ترقیاتی فریم ورک کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی کی قیادت اور یو این ڈی پی کی شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترقی سب کے لیے ہونی چاہیے اور کسی کو پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔
کانفرنس کے شرکاء نے اس اتفاقِ رائے کا اظہار کیا کہ 2025 کی پنجاب پارلیمنٹری کانفرنس صوبائی سطح پر قومی ترقی کی قیادت کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھتی ہے، جس نے ایس ڈی جیز کے حصول کے لیے سیاسی توانائی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو نئی جہت دی ہے۔

