پختون معاشرہ اور “پیغور” — وہ زہر جو نسلیں جلا دیتا ہے

IMG-20250502-WA0110.jpg

تحریر محمد فاروق خٹک

پختون معاشرہ اپنی بنیادوں میں غیرت، عزت، سچائی اور انصاف پر کھڑا ہے۔
یہاں پتھر سے زیادہ سخت چیز عہد ہے، اور تلوار سے زیادہ تیز چیز عزت۔
پشتونولی میں سب سے نازک مقام “پیغور” کا ہے —
یعنی وہ طعنہ، وہ داغ، وہ لفظ جو انسان کی عزت کو چھری کی طرح کاٹ دیتا ہے۔

پختون کے لیے پیغور صرف ایک جملہ نہیں، نسلوں کی عزت پر حملہ ہے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے:

“قتل معاف دی، خو پېغور نه معافی کېږي.”
(قتل معاف ہو سکتا ہے، مگر پېغور نہیں۔)

نسلوں تک چلنے والی ‘پیغور’ کی مثال —فرض کریں کہ آج مجھ پر کسی نے جھوٹا چوری کا الزام لگا دیا۔
میں نے عدالت، جرگے، قانون اور ہر فورم پر خود کو بے قصور ثابت کیا۔
وقت گزر گیا… مگر پختونولی میں کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔

سالوں بعد، جب میں دنیا میں نہ بھی ہوں،
میرا پوتا یا نواسہ کسی کھیل، کسی لڑائی یا بحث میں ہو—
اور کوئی غصے میں اسے طعنہ دے دے:

“یار، ته دَ هغه چور دَ لمسی یې!”
(تم تو اُس چور کے پوتے ہو!)

یہ جملہ صرف میرے بچے پر طعنہ نہیں—
بلکہ میری قبر پر پھینکا گیا کنکر ہوتا ہے،
جو میرے پورے خاندان کی غیرت کو ہلا دیتا ہے۔

اسی ایک “پیغور” کے بعد لڑائیاں، دشمنیاں،
فائرنگ، جرگے، زخمی اور نسلوں کی نفرت شروع ہو جاتی ہے۔

مگر ایک اور خطرناک صورت بھی ہے — اور زیادہ زہریلی!

وہ یہ کہ:

**جس شخص نے آپ پر جھوٹا الزام لگایا ہو،

اگر وہ اپنے تعلقات، طاقت، اثرورسوخ،
یا اختیار کی بنیاد پر اس جھوٹے الزام کو “سچ” بھی ثابت کر دے —
تو اس کے نتائج کئی گنا زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔**

کیونکہ پھر:

1. جھوٹ، سچ کی شکل میں پختون معاشرے میں بیٹھ جاتا ہے

معاشرہ فائل نہیں پڑھتا—
معاشرہ بات سنتا ہے، اور وہ بات آگ کی طرح پھیلتی ہے۔

2. الزام لگانے والے نے خود “پېغور” کو نسلوں کا ہتھیار بنا دیا

اب وہ جھوٹا داغ حقیقت بن کر
آپ کے بچوں، پوتوں اور نواسوں کے سروں پر بیٹھ جاتا ہے۔

3. ظلم کرنے والا شخص پختونولی کے مطابق “غیرت شکن” شمار ہوتا ہے

ایسا شخص صرف الزام نہیں لگاتا—
وہ نسلوں کی جنگ کا بیج بوتا ہے۔
پختونولی میں اسے کہتے ہیں:

“دَ چا په عزت دروغ تړل — دَ غلیم کار دی.”
(کسی کی عزت پر جھوٹ باندھنا دشمن کا کام ہے۔)

4. خاندان کے نوجوانوں کے دلوں میں مستقل زخم رہ جاتے ہیں

وہ نسل جس کا کوئی قصور نہیں،
اسے جھوٹے داغ کے طعنے سننا پڑتے ہیں۔
اسی لیے کہا جاتا ہے:

“دَ پیغور سزا نسلونه خوري.”
(Pegoor کی سزا نسلیں بھگتتی ہیں۔)

 پختون معاشرے میں ایسے جھوٹے الزام کا انجام

اگر الزام جھوٹا ہو، پھر بھی طاقتور لوگ اسے “سچ” بنا دیں،
تو یہ معاملہ:
• خاندانی دشمنی
• قاتلانہ حملے
• بدلے
• اور جرگوں کی لمبی قطار
کا سبب بن جاتا ہے۔

کیونکہ پھر یہ صرف ایک جھوٹ نہیں رہتا—
یہ پېغور بن جاتا ہے،
اور پختونولی میں پیغور انصاف اور اصلاح سے زیادہ بدلے کو جنم دیتا ہے۔

جو شخص جھوٹے الزام کو اپنے اثرورسوخ سے سچ ثابت کرتا ہے
وہ اپنے لیے نہیں،
بلکہ آنے والی کئی نسلوں کے لیے آگ جلاتا ہے۔

پختونولی کے دو سخت ترین اصول—
پیغور (Pegoor) اور بدل (Badal)—
ایسی آگ ہیں کہ اگر بھڑک اٹھیں تو وقت، جیل، عدالت یا دلیل بھی انہیں نہیں بجھا سکتے۔

اکثر بزرگ کہتے ہیں:

“پیغور اور بدل هغه اور دی چې د اوبو نه، د وینو نه سړیږي.”
(پےغور اور بدل وہ آگ ہیں جو پانی سے نہیں—صرف خون سے بجھتی ہے۔

 آخری بات

پختون کے لیے عزت سب سے قیمتی ہے،
اور پیغور سب سے خطرناک۔
جھوٹے الزام سے بھی زیادہ خطرناک وہ شخص ہے
جو طاقت کے زور پر جھوٹ کو “سچ” بنا دے۔
یہ زخم مٹتا نہیں—
یہ نسلوں کو کاٹتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top