این سی ایچ آر نے انسانی حقوق کو قومی بیانیے کا مرکزی جزو بنا دیا،رابعہ جویری آغا

0ffb9477-16c3-497f-a8d6-7107735b0fdd.jpg

ربیعہ ارشد ترکمان

اسلام آباد:قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) نے 2021 سے 2025 تک ادارے کے مضبوط ہوتے کردار اور انسانی حقوق کے شعبے میں حاصل کی گئی کامیابیوں کے اعتراف میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔”ہمت سے اثر تک: پاکستان کی خدمت کے چار سال“ کے عنوان سے منعقدہ اس تقریب میں مہمانِ خصوصی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے علاوہ سول سوسائٹی، سرکاری نمائندوں، بین الاقوامی اداروں، میڈیا، کمیونٹی اراکین،مستفید ہونے والے افراد اور این سی ایچ آر کے عملے نے شرکت کی۔ تقریب میں کمیشن کی چار سالہ خدمات اور اس دوران ہونے والی تبدیلیوں وکامیابیوں کو اُجاگر کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن این سی ایچ آر رابعہ جویری آغا نے کہاکہ یہ تقریب اس ہمت، تعاون اور عزم کا اعتراف ہے جس نے انسانی حقوق کو ہمارے قومی بیانیے کا مرکزی جزو بنا دیا ہے۔کمیشن کی پیش رفت میں شراکت داروں کا اہم کردار رہا ہے، جن میں سول سوسائٹی، تعلیمی ادارے، صوبائی محکمے، انصاف کے شعبے کے اسٹیک ہولڈرز اور بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران کمیشن نے نہ صرف اپنی تنظیمی صلاحیت کو ازسرِنو مضبوط کیا بلکہ حکمرانی کے نظام، شفاف طریقہ کار اور پیرس اصولوں کے ساتھ ہم آہنگی کو بھی بہتر بنایا، جس سے ادارے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر نئی ساکھ اور اعتماد حاصل ہوا۔ مضبوط شکایتی نظام، فیلڈ مانیٹرنگ اور تحقیقات کے ذریعے کمیشن نے حراستی مراکز، مزدوری، اقلیتی حقوق، ہجرت، صنفی مساوات اور بچوں کے حقوق جیسے شعبوں میں خلاف ورزیوں کی نشاندہی کو زیادہ مؤثر اور منظم بنایا۔ ان اقدامات کی بنیاد پر کمیشن نے شواہد پر مبنی سفارشات مرتب کیں جنہوں نے وفاقی و صوبائی سطح پر انتظامی، عدالتی اور پالیسی اقدامات میں معاونت کی۔

رابعہ جویری آغا نے مزید کہا کہ ان چار برسوں نے ثابت کیا ہے کہ جب کوئی ادارہ اصول اور ہمت پر ڈٹ جائے، تو حقیقی تبدیلی ممکن ہو جاتی ہے۔ ہم نے نظام مضبوط کیے، نگرانی کو بہتر بنایا، اور ان لوگوں کی آواز کو ترجیح دی جن کے حقوق اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ آج کی تقریب دراصل ہر اُس کمیونٹی، ہر اُس زندہ دل فرد اور ہر اُس شراکت دار کی کامیابی ہے جس نے اپنے اعتماد کے ساتھ ہمیں اس سفر میں شریک کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے این سی ایچ آر کی کامیابیوں کو سراہا اور کہا کہ پارلیمان کمیشن کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کمیشن کی رپورٹس، تحقیقات اور سفارشات ہمیں قانون سازی میں موجود خلا کی نشاندہی میں مدد دیتی ہیں، کسی بھی عمل درآمد کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر آمادہ کرتی ہیں اور یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتی ہیں کہ آیا ہمارے قوانین اپنے اصل مقصد کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں یہ ہی ریاستی نظام کی بہتری کی مشترکہ کوشش ہے۔

انہوں نے پارلیمان آئینی اداروں کی آزادی کے تحفظ کے لیے پُر عزم رہنے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو کھل کر بات کریں، اصولی مؤقف اپنائیں، اور بغیر خوف یا مصلحت کے قانون کی پاسداری کریں۔ یہی استحکام کی بنیاد ہے، یہی انصاف کی ضرورت ہے، اور یہی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کا راستہ ہے۔

یورپی یونین کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن، فلپ اولیور گراس نے اپنے کلیدی خطاب میں کہاکہ یورپی یونین این سی ایچ آر اور پاکستان کی وسیع تر انسانی حقوق کی وابستگی کی حمایت پر فخر محسوس کرتا ہے، خصوصاً جی ایس پی پلس کے تناظر میں۔ کمیشن کی پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط نگرانی کے ادارے بنیادی حقوق کے تحفظ اور غیر سنی جانے والی آوازوں تک رسائی میں کس قدر مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یو این ڈی پی کے ریزیڈنٹ ریپریزینٹیٹو سیموئل رزق کا کہنا تھا کہ این سی ایچ آر آج پاکستان کے معتبر اور قابلِ اعتماد عوامی اداروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ انسانی حقوق کا کام محض ایک عہدہ یا ذمہ داری نہیں بلکہ ایک پُرخلوص مقصد ہے۔ یو این ڈی پی اس سفر میں کمیشن کے ساتھ کھڑے ہونے پر فخر کرتا ہے اور مستقبل میں بھی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اس کی حمایت جاری رکھے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top