این پی سی حملہ،پی ایف یو جے (ورکرز)،آزاد جرنلسٹس گروپ نے انکوائری کمیٹی مسترد کر دی

feature-.png

اسلام آباد: نیشنل پریس کلب (این پی سی) پر گزشتہ ماہ اسلام آباد پولیس کے حملے کی تحقیقات کے لیے وزارتِ داخلہ کی جانب سے تشکیل تو دی گئی ہے لیکن  انکوائری کمیٹی کی تشکیل پر متعدد صحافتی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے  جن میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے–ورکرز) اور آزاد جرنلسٹس گروپ شامل ہیں۔

یہ ردعمل 2 اکتوبر 2025 کے اُس واقعے کے بعد سامنے آیا جب اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے صحافیوں کے احتجاج کے دوران نیشنل پریس کلب پر دھاوا بول دیا تھا جس کے دوران متعدد اراکین پر مبینہ طور پر تشدد کیا گیا اور املاک کو نقصان پہنچا۔ اس واقعے کی صحافی برادری نے سخت مذمت کی اور ایک آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کیا تاکہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

وزارتِ داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول کی 7 نومبر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سات رکنی انکوائری کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کی سربراہی وزارت کے جوائنٹ سیکرٹری (سیکیورٹی) کر رہے ہیں، جبکہ اس میں آئی سی ٹی انتظامیہ، آئی سی ٹی پولیس اور نیشنل پریس کلب کے نمائندے شامل ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سات دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے۔

آزاد جرنلسٹس گروپ کے سربراہ اور سابق صدر نیشنل پریس کلب شکیل قرار نے بھی انکوائری کمیٹی کو "یک طرفہ اور ناقص” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے گروپ نے ایک ایسی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا جو وزارتِ داخلہ کے کسی سینئر افسر کی سربراہی میں ہو، اور اس میں پولیس، اسلام آباد انتظامیہ اور مخالف صحافتی گروپوں کی نمائندگی شامل ہو۔

شکیل قرار نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے یہ کمیٹی ایک ماہ کی تاخیر کے بعد تشکیل دی گئی اور اس میں کسی مخالف گروپ کی نمائندگی نہیں رکھی گئی حتیٰ کہ نامزد پولیس افسران بھی پی ایس پی کیڈر کے نہیں بلکہ رینکر کیڈر سے ہیں، جو ڈی ایس پی رینک میں ایس پیز کے طور پر تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا  کہ  ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کمیٹی صرف حکومتی اور حکمران پینل کے مفادات کے لیے کام کرے گی۔

پی ایف یو جے (ورکرز) کی صدر اور سابق جنرل سیکرٹری نیشنل پریس کلب ڈاکٹر سعدیہ کمال نے کمیٹی کی تشکیل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے “نامکمل اور غیر نمائندہ” قرار دیا۔

انہوں نے کہا اگرچہ پی ایف یو جے (ورکرز) حکومت کی جانب سے 2 اکتوبر کے واقعے کی سنگینی تسلیم کرنے کا خیرمقدم کرتی ہے، لیکن جب تک صحافیوں اور ان کے نمائندہ اداروں پر حملے کی تحقیقات میں پی ایف یو جے (ورکرز) کو شامل نہیں کیا جاتا، کوئی بھی انکوائری منصفانہ، شفاف یا معتبر نہیں ہو سکتی۔

ڈاکٹر کمال نے بتایا کہ پی ایف یو جے (ورکرز) نیشنل پریس کلب کی جانب سے حملے کے فوراً بعد تشکیل دی گئی ایکشن کمیٹی کا بانی رکن اور سرگرم حصہ ہے لہٰذا اس کا انکوائری عمل کا حصہ بننا ایک جائز حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ “پی ایف یو جے (ورکرز)” اور “ایکشن کمیٹی” کو کمیٹی سے خارج کرنا حکومت کے اقدام کی شفافیت اور نیت پر سوالات اٹھاتا ہے۔

ڈاکٹر کمال نے وزارتِ داخلہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کمیٹی کی تشکیل فوری طور پر نظرِ ثانی کرے اور پی ایف یو جے (ورکرز) اور ایکشن کمیٹی کی نمائندگی کو یقینی بنائے تاکہ انکوائری کا عمل صحافتی برادری کے حقیقی خدشات کی عکاسی کرے۔

پی ایف یو جے (ورکرز) نے تمام صحافتی یونینز، پریس کلبز اور میڈیا اداروں سے اتحاد برقرار رکھنے اور ہوشیار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ صحافی برادری کو تقسیم کرنے یا ان کے نمائندہ اداروں کو نظرانداز کرنے کی کسی بھی کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

یونین نے آزادی صحافت، میڈیا ورکرز کے تحفظ اور نیشنل پریس کلب کے وقار کے تحفظ کے اپنے عزم کو دہرایا، جسے انہوں نے "صحافیوں کے اتحاد اور جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت” قرار دیا۔

ڈاکٹر کمال نے کہا کہ "ہم شفافیت، جوابدہی اور انصاف کے لیے کھڑے ہیں اور جب تک صحافیوں پر حملے کے ذمہ داروں کو سزا نہیں ملتی، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔”

دوسری جانب "دی جرنلسٹس پینل” کے سربراہ اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (برنا گروپ) کے صدر افضل بٹ نے حکومت کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین کے خدشات "بے بنیاد” ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیٹی میں مخالف گروپ کی نمائندگی پہلے ہی سے موجود ہے، سابق صدر نیشنل پریس کلب اور  پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور گروپ) سے محمد نواز رضا  کی  شکل میں ہے کیونکہ وہ کمیٹی کے رکن ہیں۔

افضل بٹ نے مزید کہا کہ کمیٹی کا پہلا اجلاس جلد بلایا جائے گا تاکہ انکوائری کے لیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کو حتمی شکل دی جا سکے، جن میں اراکین پر مبینہ تشدد، پریس کلب کی حرمت کی خلاف ورزی، اور املاک کے نقصان کا تخمینہ شامل ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top