موسمیاتی تبدیلی:سیاحت کی صنعت اور مقامی معیشت کس طرح متاثر ہورہی ہے؟

Flash-floods-Pakistan-Guardian-Picture-02-700x487-1.jpg

سیدرسول بیٹنی

پاکستان اپنی قدرتی خوبصورتی، اصلیت اور ثقافتی ورثے کے حوالے سے دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ شمالی وادیوں، بالخصوص خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں موسم گرما کے دوران سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ تاہم پچھلی دہائی میں ماحولیاتی تبدیلیوں نے ان علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے،آب ہوا کی تبدیلی سے ان علاقوں میں شدید سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے، مٹی کے بہاؤ اور بھاری پتھروں کے گرنے جیسے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ آفات سڑکوں کی بندش، مواصلاتی نظام کی تباہی اور سیاحتی ڈھانچے کے نقصان کا باعث بن رہی ہیں، جس سے سیاحوں کی نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے، ان میں خوف و اضطراب پیدا ہوتا ہے، اور ان کے تجربات ناخوشگوار بناتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کس طرح سیاحتی صنعت، سیاحوں کی آمدورفت، اور مقامی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔

آل سوات ہوٹل ایسویشن کے صدر زاہد خان نے اس حوالے سے بتایا کہ پچھلے 40 سال سے سوات کی سیاحت کی صنعت مشکلات سے دوچار ہے ہماری بدقسمتی ہے  کہ پہلے مولانا صوفی محمد کی تحریک اور اس کے بعد مولانا فضل اللہ کی ایم ایف ریڈیو کی نشریات کی وجہ سے سیاحوں کو ایک منصوبے کے تحت سوات میں  آنے سے متنفر کیا گیا اور یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ سوات میں شریعت نافذ ہے سیاح برقعوں کو پہنیں اور اپنے نکاح نامے اپنے ہاتھوں میں رکھیں لیکن ان تمام حالات یعنی جب سوات میں دہشت گردی،ٹارگٹ کلنگ اور فوجی آپریشنز  میں کبھی بھی کسی سیاح سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ 2010 کی سیلاب نے سوات کی انفراسٹرکچر کو بہت نقصان پہنچایا جس سے ہماری انڈسٹری کو تقریباً ساڑھے سات ارب کا نقصان ہوا لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری ،2020 اور 2021 کے دوران ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت سوات اور کالام کے ہوٹل ایسوسی ایشنز اور مقامی تاجروں نے پیسے اکھٹے کئے اور 6کلومیٹر تک سوات کالام روڈ کو پختہ اور دو رویہ کردیا ۔

زاہد خان نے بتایا کہ رواں سال جون میں سوات فضا گٹ کے مقام پر سیالکوٹ سے تعلق سے رکھنے والی 13 افراد اور اسطرح مردان اور صوابی سے تعلق رکھنے والے سیاح اپنے بے احتیاطی کی وجہ سے سیلاب میں بہہ گئے جس کے جواب میں ضلعی انتظامیہ نے ناجائز تجاوزات کے بہانے مقامی افراد کی جائز ہوٹلوں کو گرایا حالانکہ ان سارے عمارتوں کی نقشے حکومت کی طرف سے منظور کئے گئے تھے لیکن کسی نے بھی مقامی افراد نہ سنی اور ان کے سامنے حکومت نے بھاری مشینری سے لوگوں کے ہوٹلز گرائے۔

موسمیاتی تبدیلی سیاحت کی صنعت کو کئی اہم پہلوؤں سے متاثر کر رہی ہے۔پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے موسمی پیٹرن میں تبدیلیوں کے باعث طوفانی بارشیں،شدید سیلاب ،خشک سالی اور شدید گرمی کی لہریں زیادہ عام ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے سیاح اکثر سلامتی کے خدشات اور سفری رکاوٹوں کے باعث سیاحتی علاقوں کی سیر پر جانے سے کتراتے  ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی سے جڑے صحت کے خطرات جیسے ڈینگی، ملیریا، اور دیگر وبائیں سیاحوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہیں، جو اُن کے سفر کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اس کے علاوہ قدرتی آفات، مثلاً اچانک بارش اور تیز سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نہ صرف بنیادی انفراسٹرکچر کو بلکہ سیاحتی مقامات کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں، جس کے نتیجے میں سیاحتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔

پاکستان میں گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سیاحتی صنعت پر گہرے ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی پہاڑی سلسلوں  مثلاً قراقرم اور ہمالیہ میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے سیاحت کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔یہ گلیشیئرز نہ صرف اپنی دلکشی اور قدرتی حسن کی وجہ سے سیاحوں کو متوجہ کرتے ہیں بلکہ دریائی نظاموں کے لیے بھی اہم ہیں جو مقامی آبادی اور ماحولیات کو سہارا دیتے ہیں۔

پاکستان گلیشیئر انوینٹری کے مطابق ملک نے 1999 سے 2018 کے دوران  1،209 مربع کلومیٹر برفانی رقبہ کھو دیا ہے۔

ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے شعبہ ٹوارزم اور ہاسپٹیلٹی کی ایک سٹڈی  میں بتایا گیا ہے کہ جب یہ گلیشیئرز پیچھے ہٹتے ہیں تو پانی کی دستیابی اور دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی واقع ہوتی ہے، جس سے رافٹنگ، فشنگ، اور ہائیڈرو پاور جیسی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے  یہ محولیاتی  تبدیلیاں قدرتی مناظر، حیاتیاتی تنوع، اور مقامی کمیونٹیز پر پہلے ہی اثر ڈال رہی ہیں، جن کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ان اثرات کو کم کیا جا سکے۔

گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور پائیدار سیاحت کے فروغ کے ذریعے ہم سیاحتی صنعت کو محفوظ بنا سکتے ہیں اور آئندہ نسلوں کے لیے پائیدار مستقبل یقینی بنا سکتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے  اور ممکنہ حل کے بارے میں ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ ٹوارزم اور ہاسپٹیلٹی کے اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم نے بتایا کہ پاکستان کے پہاڑی سیاحتی مقامات میں موسمیاتی تبدیلی نمایاں ہو چکی ہے۔حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے  جس سے انفراسٹرکچر، سپر اسٹرکچر اور مقامی معاش کو شدید نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کے تمام شراکت داروں کو چاہیے کہ وہ پائیدار اصولوں، گرین ٹورازم، اور انٹیگریٹڈ ٹورازم کے تصورات کو اپنائیں۔

ڈاکٹر محمد عالم کے مطابق پاکستان میں سیاحت پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک کثیر الجہتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے،جس میں ارلی وارننگ سسٹم ،ماحولیاتی لحاظ سے مضبوط انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور پائیدار سیاحتی طریقوں سے کو فروغ دینا جو ماحول پر کم سے کم ڈالیں۔ انہوں نے  کہا کہ اس وقت روایتی سیاحت سے ہٹ کر متنوع سیاحتی مواقع پیدا کرنا بھی ضروری ہے تاکہ یہ شعبہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور کم متاثر ہو سکے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top