ماحولیاتی اور آفات سے متعلق صحافت بارے دو روزہ قومی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

Training-Group-Pic-e1762110694531.jpg

سیدرسول بیٹنی

اسلام آباد: غیر سرکاری تنظیم "پروٹیکٹ ارتھ کنسلٹنس”  کی جانب سے ماحولیاتی اور آفات سے متعلق صحافت کے موضوع پر دو روزہ قومی تربیتی ورکشاپ  سی ایس ایس انسٹیٹیوٹ اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوگیا۔

ورکشاپ کا انعقاد "مومنٹم ڈویپلمنٹ فاونڈیشن” اور "ریزیلنٹ فیوچر انٹرنیشنل”کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے سینئر صحافیوں، سرکاری نمائندوں، ماہرینِ تعلیم اور نئے ابھرتے صحافیوں نے شرکت کی۔

ورکشاپ کا مقصد صحافیوں کو ماحولیات، قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم موضوعات پر مؤثر اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے لیے جدید علم و مہارت فراہم کرنا تھا۔

ورکشاپ میں نظامت کے فرائض مہوش قاضی نے سر انجام دیئے جنہوں نے ورکشاب کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی اور شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی اب پوری دنیا کیلئے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے ترقی یافتہ ممالک اس کے اثرات کو کم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اُٹھا رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں پالیسی لیول کے اوپر ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔

ورکشاپ کے افتتاحی سیشن کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر احمد علی سیروہی، ڈائریکٹر جنرل، کرائسس مینجمنٹ یونٹ، وزارتِ خارجہ، حکومتِ پاکستان نے شرکاء سے خطاب کرتے  ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات دنیا بھر میں انسانی اور سکیورٹی منظرنامے کو تیزی سے بدل رہی ہیں۔ انہوں نے شرکاء سے اپنی نئی کتاب  “Networks of Power: From Sindh to Silicon Valley” کا تعارف کرایا، جس میں انہوں نے گورننس اور ٹیکنالوجی کے باہمی تعلقات کو عالمی بحرانوں کے تناظر میں بیان کیا۔

"پروٹیکٹ ارتھ کنسلٹنس”  کے چیف ایگزیکٹو محمد عظمت قاضی نے اپنے خیرمقدمی خطاب میں سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کے ذاتی تجربات شیئر کیے۔ انہوں نے دی گارڈین (برطانیہ) کے بین الاقوامی صحافی گیڈیون مینڈل کے ساتھ اپنی شراکت داری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقامی صحافیوں کو بحرانوں کی رپورٹنگ میں پہلا اور درست ردِعمل دینے والا بننے کے لیے اپنی صلاحیتیں کو کیسے بہتر بنانی پڑیگی۔اُن کی پریزنٹیشن نے قدرتی آفات، ہنگامی صورتحال اور ابتدائی ردعمل کے فرق کو واضح کیا۔

ورکشاپ کے پہلے روز ڈاکٹر زغیم عباس، ڈائریکٹر، پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (وزارتِ موسمیاتی تبدیلی) نے "پلاسٹک و فضائی آلودگی اور واٹر ٹریٹمنٹ ٹیکنالوجیز” پر تفصیلی لیکچر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پلاسٹک کچرے اور ترک شدہ مچھلی کے جالوں کی وجہ سے سمندری حیات شدید متاثر ہو رہی ہے۔

علی جابر ملک، صدر، انورائنمنٹل جرنلسٹس فورم نے شدید موسمیاتی تباہ کاریوں کے دوران "ماحولیاتی و آفات سے متعلق رپورٹنگ” پر بات کی۔انہوں نے زور دیا کہ ہر ماحولیاتی و آفات سے متعلق صحافی کو تربیت یافتہ ہونا چاہیے تاکہ وہ متاثرہ علاقوں میں جذباتی استحکام اور پیشہ ورانہ تیاری کے ساتھ جا سکے۔سیشنز میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا میں سائنسی فہم، اخلاقیات اور ڈیٹا پر مبنی ماحولیاتی رپورٹنگ کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

ورکشاپ کے دوسرے روز شرکاء نے مستقبل کی منصوبہ بندی اور موسمیاتی ابلاغ کے سماجی پہلوؤں پر غور کیا۔

"ریزیلنٹ فیوچر انٹرنیشنل”کے سی ای او، آفتاب عالم خان نے شرکاء سے ”کلائمیٹ چینج اور صحافیوں کے لیے چیلنجز و مواقع” کے عنوان سے خطاب کیا۔ انہوں نے ماحولیات سے متعلق رپورٹنگ میں درپیش مسائل کے حل کے لیے مختلف عملی حکمتِ عملیاں پیش کیں اور سوال و جواب کے سیشن میں شرکاء کے تمام سوالات کے جوابات تفصیل سے دیئے۔

رومانہ جبین، سوشیالوجسٹ جامعہ کراچی نے خطرات کی کہانی "ماحولیاتی و آفات کی صحافت کے لیے سماجیاتی بصیرت” کے عنوان سے لیکچر دیا۔انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات کو بچانا اور کسی کو پیچھے نہ چھوڑنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ان کا سیشن انسانی ہمدردی پر مبنی رپورٹنگ کے حوالے سے نہایت موزوں اور اہم ثابت ہوا۔

اختتامی سیشن میں محمد عظمت قاضی نے 2026 کے لیے آئندہ لائحہ عمل پیش کیا اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ پیشگی صحافت اور آفات سے قبل ابتدائی وارننگ مواصلات پر توجہ دیں۔انہوں نے کہا کہ ذمہ دار ماحولیاتی صحافت صرف حقائق بیان کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ زندگیوں کو بچانے کا عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ورکشاپس کا سلسلہ جاری رہے گا اور اگلی ورکشاپ کراچی میں شراکت دار تنظیموں کے تعاون سے منعقد کی جائے گی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top