ناہید جہانگیر
صوبے پنجاب سے تعلق رکھنے والی ارشاد بیگم پڑھی لکھی نہیں ہیں وہ چار ایکڑ زمین کو خود کاشت کرتی ہیں جس میں وہ گندم اور ہر قسم کی سبزیاں اگاتی ہیں جیسے پیاز، ہری مرچ، بینگن، شملہ مرچ،لہسن،ٹماٹر وغیرہ اگاتی ہیں۔ارشاد بیگم نے بتایا کہ وہ اپنی زمین کی بھی مالک ہے لیکن انکا رقبہ کم ہے اور یہ جو 4 ایکڑ کی زمین ہے یہ اس نے ٹیکے پر لیا ہے۔
ارشاد بیج بونے سے لے کر آبپاشی ، کٹائی تک فصل کی نگرانی خود کرتی ہیں ان کے مطابق 7 خواتین ان کے ساتھ کھیتوں میں مزدوری پر کام کرتی ہیں جن کو وہ مزدوری دیتی ہیں۔ان کو اپنے کھیتوں میں کام کرنا بہت پسند ہے وہ فخر کرتی ہیں کہ خود اپنے ہاتھوں سے فصل اگاتی ہیں اور کماتی ہیں۔
ارشاد نے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے ایک ایک پیسہ جمع کرکہ بیٹی کی شادی میں اپنے خاوند اور بیٹوں کا ساتھ دیا اور اپنی محنت کی کمائی سے دھوم دھام سے بیٹی کی شادی کی۔وہ ان تمام خواتین کو زراعت کے میدان میں آنے کے لیے کہتی ہیں جن کے پاس زمین ہے ان پر خود فصل اگائیں اگر ایک خاتون استانی، ڈاکٹر ہوسکتی ہیں تو کاشت کار کیوں نہیں بن سکتی۔
دوسری جانب چکوال سے تعلق رکھنے والی گل ناز جو پودا ارگینک ایگریکلچر اینڈ کلائمٹ ایجوکیشن سینٹر میں مینجر کے طور پر کام کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس فارم کا بنانے کا مقصد یہی تھا کہ نوجوانوں کو کچن گارڈننگ سکھایا جائے عملی کام سکھانے کے لیے یہ فارم استعمال کیا جاتا ہے۔پودوں کو کیسے بویا جاتا ہے، کب پانی دینا ہے۔
بارش زیادہ یا کم ہونے کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ بارش کے پانی کو کیسے ذخیرہ کرکہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹیکنیکلز ٹریننگ ہوتی ہیں چھوٹی چھوٹی ارگینک سپرے اگر پودوں کو کوئی بیماری ہے تو اس کی پہچان کیسے کرنی ہے اس بیماری کو نپٹنے کے لیے ارگینک سپرے کیسے کرنی ہے۔
گل ناز کے پاس 1300 سے زیادہ جو خواتین کا ایک واٹس ایپ گروپ ہے جس میں موسم کے بارے میں خواتین کو اپڈیٹ کیا جاتا ہے۔ اس ادارے کا مقصد یہی ہے خواتین ،لڑکیاں، لڑکے زراعت کی طرف آئیں اور وہ اس طرح کی چیزیں سیکھیں۔
گلناز بتاتی ہیں کہ ان کو بھی شروع شروع میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مرد حضرات خواتین کو زیادہ تر اس طرح کی میٹنگز میں آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے اس کے لیے سب سے پہلے مردوں کی تربیتی کورس کرائی ۔
انہوں نے کہا کہمردوں کو آگاہی تربیت دینے کے بعد خواتین کے حوالے سے بتایا کہ خواتین کو زراعت کی تربیت دینا چاہتے ہیں جو ان کی فصلوں اور خود ان کے لیے فائدہ مند ہوں گی۔پھر خواتین کو میٹنگ میں آنے کی اجازت دی گئی وہ ایگریکلچر میں کام کر رہی ہیں ابھی تک 5 ہزار سے زیادہ خواتین کو تربیت دی گئ ہے وہ ساری فارمنگ کرتی ہے۔
دوسری جانب ثریا سلطان جو ایک عمر رسیدہ خاتون ہیں صوبے پنجاب کے چکوال میں اپنی زمین پر خود ہی سبزیاں اگاتی ہیں ۔ان کو اپنے کھیتوں میں اپنے ہاتھوں سے کام کرنا پسند ہے ۔وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مختلف کاشتکاری و زراعت کی تربیت لی ہیں ان کو خود پتہ ہے کہ وہ کب اور کیسے فصل کو اگائے اور ان کی دیکھ بال کریں۔
ثریا سلطان بتاتی ہیں کہ انٹرنیشنل واٹر منیجمنٹ انسٹیٹوٹ کی جانب سے ان کو سوئل موسچر سنسر دیا گیا ہے جس نے انکا کام آسان بنا دیا ہے ان کی مدد سے ان کو پتہ چلتا ہے کہ پودوں کو کب اور کیسے پانی دینا ہے۔
نقاش جو انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ کے ساتھ سینیئر ریسرچر کے طور پر کام کرتا ہے بتاتے ہیں اس ادارے کے توسط سے پنجاب کے مختلف علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا کے چارسدہ اور مانسہرہ میں سوئل موسچر سنسر لگائیں گئے ہیں جس کی وجہ سے آبپاشی کے وقت پانی کا ضیاع کم ہو گیا ہے خاص کر ان علاقوں میں جہاں پانی کی قلت ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس آلہ میں تین نیلے، سبز اور سرخ رنگ کے لائٹس ہیں سبز بلب سے مراد زمین میں نمی موجود ہے اور اس کو پانی کی ضرورت نہیں ہے جبکہ گرین لائٹ کا مطلب یہ ہے کہ دو تین دنوں میں فصل کو پانی دینا چاہیے جبکہ ریٹ کا مطلب یہ ہے کہ جلد از جلد پودوں کو پانی دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ پانی کی بچت ہوتی ہے جب ضرورت ہوگی تو فصلوں کو پانی دیا جاتا ہے اور غیر ضروری پانی دینے سے جو فصلوں کو فائدے کی جگہ نقصان ہوتا تھا وہ بھی اب نہیں ہوتا اور فصل کی پیداوار بڑھ گئ ہے۔

