سیدرسول بیٹنی
ڈیرہ اسماعیل خان میںصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس خطہ کے عوام نے قیام امن کی خاطر ریاستی اداروں کے ساتھ غیر مشروط تعاون کے لئے ناقابل برداشت بوجھ اٹھائے۔باجوڑ سے لیکر جنوبی وزیرستان تک لاکھوں لوگوں نے گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر نقل مکانی کی مشکلات جھلیں۔ سیکیورٹی اداروں سے تعاون کی خاطر ہزاروں خاندان پشاور سے لیکر کراچی تک ٹھوکریں کھانے پہ مجبور ہوئے مگرعوام کی طرف سے لازوال قربانیوں کے باوجود آج تک پختون خوا کے لوگوں کو امن نہ مل سکا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے شہریوں کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا ہے لیکن ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ خیبر پختون خوا میں صرف گورننس کا بحران نہیں بلکہ یہاں حکومت کا وجود ہی بے معنی ہو چکا ہے ۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ ریاست کے پاس شہریوں کو تحفظ اور امن دینے کی پوری صلاحیت موجود ہے لیکن وہ اپنے مفادات و مقاصد کے حصول کی خاطر شہریوں کی بقاء کو نظر انداز کرکے آگے بڑھنا چاہتے ہیں،یہ طرز عمل ملک بلکہ خود اداروں کے اپنے مفاد بھی نہیں ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم ریاستی اداروں کے خلاف مزاحمت کے حامی نہیں بلکہ ہم ان کے سیاسی کردار اور ان پالیسیوں کے ناقد ہیں جن سے بطور سیاستدان اور اس ملک کے شہری کی حیثیت سے ہم براہ راست متاثر ہوتے ہیں ۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ معاشرہ،سیاسی جماعتیں اور آئینی نظام کمزور ہوا تو فوج بھی کمزور ہو جائے گی اوراگر دفاع کمزور ہوا تو ملک،عوام ،سیاست دان اور سیاسی نظام سب کچھ اجڑ جائے گا۔

