ناہید جہانگیر
اب تو آئینہ دیکھنے کو بھی دل نہیں کرتا ، کسی بھی تقریب میں جانا بھی اب چھوڑ دیا ہے کیونکہ جو بھی میری طرف دیکھتا ہے لگتا ہے مجھے نہیں ،میرے خراب چہرے کو دیکھتے ہیں۔عظمیٰ جو پشاور شہر میں رہتی ہیں ان کی عمر تقریباً 28 سال ہے لیکن ان کے چہرے پر اتنی چھائیاں ہیں کہ صرف ان کی آنکھیں ہی صاف نظر آتی ہیں اور پورا چہرہ کالی سیاہ شکل اختیار کر چکی ہے۔
وہ اپنے چہرے کے بارے میں بتاتی ہیں کہ 5 سال سے ان کے چہرے پر یہ چھائیاں ہیں لیکن 2 سالوں سے علاج کے باوجود پورا چہرہ خراب ہو گیا ہے۔ علاج جب شروع کرتی ہیں تو عارضی طور پر جلد تھوڑا بہتر ہو جاتا ہے لیکن جیسے ہی دوائیاں بند کر دیتی ہیں پھر وہی مسلہ ہوتا ہے۔دوسری جانب آب وہوا اور موسم میں شدت کی وجہ سے لوگوں میں جلدی امراض بڑھ رہے ہیں اور کلائمٹ چینج کے ماہرین موسمیاتی شدت اور تیزی سے آب وہوا میں تبدیلی اسکی اہم وجہ بتاتی ہیں۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق روزانہ 60 سے 100 تک جلدی امراض کے مریض او پی ڈی آتے ہیں جس میں تقریبا 70 فیصد تک خواتین ہی ہوتی ہیں جو جلد کی مختلف امراض میں مبتلا ہوتی ہیں۔
کلائمیٹ چینج کی وجہ سے سب سے زیادہ خواتین کی جلد کیوں متاثر ہوتی ہیں اس حوالے سے ڈرموٹالوجسٹ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر زبیر بھٹی بتاتے ہیں کہ خواتین میں مردوں کی نسبت زیادہ جلدی امراض کا ہونا مختلف وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے ۔زبیر بھٹی ایک اہم وجہ رنگ گورا کرنے والی کریم بتاتے ہیں کہ خواتین رنگ گورا کرنے والی مختلف غیر مستند یا فارمولا کریم استعمال کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی جلد باریک ہوکر زیادہ حساس ہو جاتی ہے ۔مرد کی نسبت خواتین میں پھر جلدی امراض بھی بڑھ رہی ہیں۔
موسمیاتی تغیر میں شدت کی وجہ سے گرمیوں میں بہت زیادہ گرمی ہوتی ہے اور بعض سیلابی علاقوں میں کافی نمی ہوجاتی ہے مرطوب فضا میں وائرس ، فنگس اور بیکٹیریا پیدا ہوتی ہیں جس کی وجہ سےمختلف قسم کی جلد کی بیماریاں پھیل جاتی ہے اور خاص کر حاملہ خواتین مختلف قسم کی جلدی امراض میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔
پشاور کی عظمیٰ جن کو 5 سال سے جلد کی بیماری ہے کہ حوالے سے اسسٹنٹ پروفیسر زبیر بھٹی کہتے ہیں کہ خواتین میں جلدی امراض مختلف قسم کی وجوہات کی بنا پر ہوتی ہیں جس میں ایک اہم وجہ خون ، کیلشیم کی کمی یا ہارمون ،معدے میں کوئی مسلہ ہوسکتا ہے تو جب بھی چہرے پر داغ دھبے یا چھائیاں نمودار ہوجائے تو پہلے اپنے خون کے ٹیسٹ کروائیں کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ جلدی امراض کی وجہ معلوم ہوجائے جب وجہ سامنے آتی ہے تو بہت آسانی سے علاج ہوسکتا ہے اور پھر کھبی بھی سکن خراب نہیں ہوگی یا علاج بند کرنے سے دوبارہ بیماری نہیں آسکتی۔
چیئرمین ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور اور سابقہ ڈائریکٹر کلائمیٹ چینج سنٹر پروفیسر اکمل خان نے بتایا کہ دنیا بھر میں کلائمیٹ چینج کی وجہ سے حالات تبدیل ہو رہے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ انٹر کنیکٹڈ ہے لیکن اگر اپنے ملک کی بات کی جائے تو پاکستان میں سردی کا موسم کم ہو رہا ہے جبکہ گرم موسم لمبا ہو رہا ہے اسکے ساتھ آئیندہ 5 یا 10 سالوں میں اس میں مزید اضافے کے ساتھ بارشیں بھی کم ہوں گی ۔انہوں نے کہا کہ موسم جب زیادہ خشک ہوگا تو پانی کے ذخیروں اور فصل پر فرق پڑے گا پیداوار کم ہوگی فوڈ سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا ہوگا جسکا براہ راست صحت پر اثرات ہوں گے۔
پروفیسر ڈاکٹر اکمل خان نے بتایا کہ بارش نہیں ہوگی تو آب و ہوا میں گرد و غبار کی وجہ سے جلدی امراض میں اضافہ ہوتا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ بارش کی کمی کی وجہ سے سردیوں میں جلد خشک ہونے کا جبکہ گرمیوں میں غیر متوقع اور مسلسل بارش سے وائرس اور بیکٹیریا کی وجہ سے امراض میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ چونکہ خواتین کی جلد مرد کی نسبت زیادہ حساس ہوتی ہیں تو اس لیے خواتین کو زیادہ جلدی امراض کا سامنا ہوتا ہے۔
ماریہ عمران جو ایک طالبہ ہیں اور اسکی عمر صرف 20 سال ہیں لیکن گرمیوں میں ان کی جلد سرخ ہوجاتی ہے جسکی وجہ سے ان کو کافی دقت ہوتی ہیں۔گرمی کے موسم میں جب بھی وہ کالج جاتی ہے یا کوئی روٹین کے کاموں سے باہر جاتی ہیں تو جیسے ہی سورج کی کرنیں ان کے چہرے پر پڑتی ہیں ان کا پورا چہرہ لال ہو جاتا اور ساتھ میں جلن شروع ہوتی ہے۔ کافی علاج کیا لیکن جلد ٹھیک ہونے کی بجائے مزید حساس ہوگیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب تو ان کو سردیوں میں بھی یہ مسلہ ہوگیا ہے نا وہ دھوپ میں بیٹھ سکتی ہیں اور نا ہی ہیٹر کے سامنے بیٹھ سکتی ہیں کیونکہ چہرہ سرخ ہو کر جلن شروع کرتا ہے۔
ماریہ کی بیماری کے حوالے سے ماہر امراض جلد ڈاکٹر زبیر بھٹی کہتے ہیں کہ خواتین میں یہ مسلہ زیادہ تر غیر معیاری میک اپ کا استعمال یا فارمولہ کریم کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ جلد کو باریک کر دیتا ہے اور چہرے پر موجود باریک رگ بھی نظر آتی ہیں جسکی وجہ سے جلد حساس ہوکر کسی بھی موسم کو زیادہ سردی، گرمی ، یہاں تک عام پانی سے دھوتے وقت بھی برداشت نہیں کرسکتی۔
جلدی بیماریوں کے علاج و احتیاط کے حوالے سے ڈرمٹالوجسٹ زبیر بتاتے ہیں کہ سب سے پہلے متوازن غذا کا خیال رکھا جائے ، زیادہ پانی پئیں اور اسکے ساتھ ساتھ رنگ گورا کرنے والی کسی بھی فارمولہ کو استعمال نا کریں جو بھی کریم یا لوشن چہرے پر لگائیں وہ معیاری ہو یا ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں کیونکہ ہر جلد کے لیے ہرقسم کی لوشن یا کریم مناسب نہیں ہوتا ،بعض جلد پر ری ایکشن کرکہ کہ جلد ٹھیک یا خوبصورت ہونے کی بجائے خراب ہوجاتا ہے۔ڈاکٹر کے مطابق سردی ہو یا گرمی نارمل پانی سے چہرے کو دھولیں زیادہ گرم پانی کا استعمال نہ کریں۔

