نوجوان نسل پائیدار امن لانے میں اپنا کردار ادا کریں،ڈاکٹر بشارت حسین

9e92fd1c-78fe-4807-84e5-ed82ffd8323f.jpg

سیدرسول بیٹنی

پشاور:کمیونٹی ریزیلینس ایکٹیویٹی نارتھ کے زیر اہتمام پشاور یونیورسٹی میں قبائلی طالبات کیلئے یوتھ ریزیلینس سنٹر کو سپورٹ کرنے کے حوالے سے پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔

تربیت کے دوسرے مرحلے میں اورکزئی اور شمالی وزیرستان کے پشاور یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں زیر تعلیم بیس طالبات نے حصہ لیا اور ان کو اپنے اضلاع میں تعلیم اور بنیادی حقوق کے آگاہی کے حوالے سے سیشن کا انعقاد کرینگے۔

سی آر اے نارتھ اور پشاور یونیورسٹی کریمینالوجی ڈیپارٹمنٹ یونیورسٹی میں قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے طالبات پڑھائی کے ساتھ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے تربیت فراہم کرتے ہیں تاکہ قبائلی اضلاع میں خواتین کو درپیش مسائل کے حل میں آگاہی فراہم کریں۔

پشاور یونیورسٹی کرائمینالوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر بشارت حسین نے تربیت کے حوالے سے کہا کہ دیگر اضلاع کے نسبت ضم اضلاع کے نوجوانوں کو پڑھائی کے ساتھ معاشرے میں عملی طور پر کام کرنے کے لئے اس قسم کے تربیت بہت ضروری ہے تاکہ مستقبل میں یہی لوگ صحیح طریقے سے ملک کے ترقی میں کردار ادا کرسکے۔

انہوں نے کہا خیبر، اورکزئی، کرم اور شمالی وزیرستان کے چالیس طالبات کو دو مرحلوں میں تربیت فراہم کیا گیا جو کہ انتہائی دلچسپی کے ساتھ طالبات نے حصہ لیا۔

ورکشاپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ ان کو پہلی بار پڑھائی کے ساتھ عملی طور معاشرے میں کام کرنے کا ہنر سکھایا گیا جبکہ مذکورہ اضلاع کے خواتین میں تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریاتِ کے حصول کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہاں کے خواتین بھی زندگی کے بنیادی حقوق حاصل کرکے معاشرے اور ملک کے ترقی و امن قائم رکھنے میں برابر کردار ادا کرسکے۔

تربیت کے دوران شرکاء کو لیڈر شپ ڈویلپمنٹ، تنقیدی سوچ، سماجی ہم آہنگی، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور امن کی بحالی بارے آگہی پیدا کرنے پر توجہ دی گی۔

کمیونٹی ریزیلینس ایکٹیوٹی نارتھ (سی آر اے ۔ نارتھ) پروگرام نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے انتہا پسندی سے متاثرہ دور افتادہ سرحدی علاقوں میں مقامی مسائل و تنازعات کے حل، معاشرتی محرومیوں کے خاتمے اور مقامی لوگوں کی سماجی ترقی پر توجہ دے رہی ھے، تاکہ مقامی لوگوں میں سماجی برداشت و ہم آہنگی، باہمی روابط کو فروغ دینے اور علاقائی امن و استحکام کو تقویت دی جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top