شمالی وزیرستان میں تعلیمی اور کاروباری سرگرمیاں

fi-e1549976950286.jpg
شمیم شاہد
شمالی وزیرستان میں تعلیمی اداروں کی ناگفتہ بہہ حالات
افغانستان سے ملحقہ شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کاروائی ضرب عضب کے تکمیل پر حکومت اس علاقے کو ترقی دلوانے کے بلند بانگ دعوٰی کرتے ہیں اور بعض حکومتی ادارے تو یہاں تک دعوٰی کرتے ہیں کہ اس علاقے میں تعمیر اورقائم کی جانیوالے تعلیمی اداروں کی معیا ر بین الاقوامی اور قومی
سطح پر پہلے سے موجود اداروں سے کم نہیں۔
شمالی وزیرستان کے اہم سڑکوں اور شاہراہوں کے کناروں پر قائم کالجوں اور سکولوں کی عمارتیں نہ صرف حال ہی میں تعمیر کی گئی ہے بلکہ ان اداروں کی شان وشوکت بھی خوبصورت دکھائی دیتا ہے مگر سڑکوں اور شاہراہوں سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر موجود گائوں اور دیہاتوں میں عرصہ درازسے قائم سکولوں کی حالات انتہائی ناگفتہ بہہ ہیں۔
اس سکولوں میں تحصیل میر علی کے گائوں محمد جان کوٹ میں قائم گورنمنٹ پرائمری سکول نمایاں ہیں۔ اس سکول میں داخل 130 بچے اور بچیاں انتہائی مخدوش حالات میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
1974 میں تعمیر کی جانیوالی دوکمروں پر مشتمل سکول کی عمارت انتہائی خراب ہیں۔ نہ تو اس عمارت میں کھڑکیاں اور دروازے ہیں اور نہ یہ عمارت دراڑیں پڑنے کے سبب بیٹھنے کے قابل ہیں۔
لگ بھگ دو سا قبل حکومت نے مقامی لوگوں اور اساتذ ہ کے درخواست پر ایک ٹینٹ فراہم کردیاہے جس میں صرف 30 سے 40 بچے بیٹھ سکتے ہیں جبکہ باقی بچے اور بچیاں باہر کھلے تلے آسمان بیٹھنے اور پڑھنے پر مجبور ہیں۔
سکول کے ایک مدرس نے عمارت کے مخدوش حالات اور سہولیات نہ ہونے کے بارے
میں بتایا کہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران نے اُنہیں صرف پانچ ٹاٹ فراہم کی ہے جس پر صرف 25 طلباء اور طلبات بیٹھ سکتے ہیں جبکہ باقی بچے زمین پر بیٹھے ہیں۔
سکول میں باتھ روم اور ٹائلٹ کی سہولیات نہیں۔ سکول کی چاردیواری سے بھی محروم ہیں۔
ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ پچھلے کئی برسوں سے لوگ مقامی حکام اور اعلی سرکاری عہدیداروں کو درخواستیں دے دے کر تھک چکے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ قریبی علاقوں میں سکول نہ ہونے کے باعث وہ اپنے بچوں اور بچیوں کو اس سکول میں داخل کرنے پر مجبور ہیں۔
شمالی وزیرستان میں سول اداروں کے علاو ہ فوج کے تعاون سے بھی دہشت گردی اور فوجی کاروائی کے دوران متاثر ہونے والے بعض تعلیمی اداروں کی از سرنو تعمیر ہوئی ہے۔ تاہم زیاد تر تعلیمی اداروں میں نقل مکانی کرنے والے کے واپسی نہ ہونے کے باعث تعلیمی سرگرمیاں ابھی تک بحال نہیں ہوئی ہے۔
شمالی وزیرستان میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں بحال ہونا شروع
شمالی وزیرستان میں فوجی کاروائی کے تکمیل پر نہ صرف روزمرہ کے تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں بحال ہو رہی ہے بلکہ اس علاقے کے ذریعے افغانستان سے دو
طرفہ تجارت کو بھی فروع ہو رہاہے۔
شمالی وزیرستان کے دو اہم قصبوں میران شاہ اور میرعلی کو بھی خطے میں تجارتی اور کاروباری مراکز کی حیثیت حاصل تھی۔ تاہم 2006 سے لیکر جون 2014 تک عسکریت پسندی کے باعث ان دونوں قصبوں کے تجارت کو بھی کافی نقصان پہنچا تھا۔ پورے علاقے میں ریاستی عملداری برائے نام رہ گئی تھی۔ زیادہ تر تعلیمی اداروں کو عسکریت پسندوں نے بارودی مواد سے اور اگ لگاکر تباہ کردیاتھا بعض تعلیمی ادارے عسکریت پسندوں کے مراکز ٹھکانوں اور عقوبت خانوں میں تبدیل ہوگئے تھے جبکہ علاقے کے اہم قبائلی رہنمائوں، تعلیم یافتہ افراد اور تاجروں نے اس علاقے سے نقل مکانی کرکے ملحقہ بنوں، خیبرپختونخوا اور ملک کے دیگر علاقوں میں سکونت احتیارکر رکھاتھا۔
جون 2014 کے وسط میں جب حکومت نے عسکریت پسندوں کے خلاف ضرب عضب کے نام سے فوجی کاروائی کی شروع کی تو اس کاروائی کے نتیجے میں نہ صرف گھروں حجروں اور دیگر نجی اور سرکاری املاک میں قائم عسکریت پسندوں کے مراکز کو مسمار کردیاگیا بلکہ میران شاہ اور میر علی میں سیکنڑوں دکانوں، مازرکیٹوں اور ہوٹلوں کو بھی تباہ کردیا گیا۔ سب سے زیادہ متاثرہونے والا میر علی کا طویل ترین بازار تھا جس کو فوجی کاروائی میں مکمل طور پر مسمار کردیاگیا۔
فوجی کاروائی ہی کے دوران فوج کے زیرانتظام نہ صرف شمالی وزیرستان کے اہم قصبوں میران شاہ، میر علی، رزمک اور غلام خان کو آپس میں ملانے والی سڑکوں بلکہ اس علاقے کو بنوں اور جنوبی وزیرستان سے ملانی والی شاہراہوں کے دونوں جانب سیکورٹی فورسز کی چوکیوں کی تعمیر کی گئی بلکہ ان سیکورٹی املاک کی بھی از سرنو تعمیر کی گئی جو عسکریت پسندوں نے خودکش اور بم حملوں میں زمین بوس کئے تھے۔ اسی طرح میران شاہ اور میر علی میں سینکڑوں دکانوں
پر مشتمل دو منزلہ جدید طرز کے مارکیٹ بھی تعمیر کئے گئے
میران شاہ میں تعمیر کی گئی 32 عمارتوں پر مشتمل کمپلیکس مارکیٹ میں لگ
بھگ 1341 دکانیں ہیں۔ اور اسی طرز ایک مارکیٹ میر علی میں تعمیر کی گئی ہے۔ ان جدید طرز کے تعمیر کی گئی تجارتی مراکز میں مساجد، پارک اور بچوں کے کھیل کے میدان بھی ہیں۔ گو کہ ان تجارتی مراکز میں کاروبار ابھی تک باقاعدہ طور پر شروع نہیں ہو رہاہے مگر ان دکانوں کو اب زمین کے مالک اور کرایہ داروں کو حوالے کی جارہی ہے۔ دکانوں کے ملکیت کا تعین کرنے کیلئے کمیٹیاں قائم کی گئی ہے۔ بعض ملکان جن کی زمین سڑکوں، مساجد اور پارکوں کی زد میں اتے ہیں ان کو زمین کی قیمت ادا کی جائیگی۔ میران شاہ کے تجارتی مراکز میں موجود دکانداروں نے کہا کہ ایک دکان کا ماہوار کرایہ 10 ہزار جبکہ پیشگی وصول کی جارہی ہے۔ جوان کے بقول فی الوقت زیادہ ہیں۔ تاہم ان کے بقول جب حالات فی الوقت زیادہ ہیں۔ تاہم ان کے بقول جب حالات مکمل طور پر پر امن اور کاروبار زندگی ماضی کے طرح بحال ہو جائے تو پھر یہ کرایہ ادا کرنا مشکل نہیں ہوگا۔
سرکاری سطح پر تعمیر کی جانیوالی مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کے علاوہ عام قبائلی اب ذاتی طو رپر سڑک کے کنارے جائیدادوں پر مارکیٹ اور دکانیں تعمیر کر رہے ہیں۔ سرکاری تجاری مراکز اور دکانوں کے کرایے اورشرائط کم ہیں لہذا اسی بنیاد پر ان مراکز میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں تیزی سے بحال ہو رہی ہے۔
ؑ
افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت
ویسے تو عرصہ دراز سے افغانستان کے ساتھ سرحد پر غلام خان گزرگاہ کے ذریعے روایتی تجارت کا سلسلہ پچھلے کئی دھائیوں سے جار ی رہا ہے۔ مگر اسے باقاعدہ بنانے کیلئے کاوشیں اور اقدامات چند سال پہلے شروع کی گئی ہے۔
غلام خان گزرگاہ تک نہ صرف میران شاہ بلکہ بنوں اور میرعلی سے بھی علیحدہ علیحدہ سڑکیں تعمیر کی گئی ہے۔ جبکہ غلام خان میں کسٹم، ٹرانسپورٹ، امیگریشن اور دیگر سرکاری محکموں کے اہلکاروں اور افسران کے لئے دفاتر اور جدید طرز کے رہائشی بلاک تعمیر کئے گئے ہیں۔
غلام خان کے سرحدی گزرگاہ کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کا سلسلہ اب شروع ہوچکا ہے نہ صرف پاکستان سے بلکہ افغانستان سے ہر قسم کے تجارتی اشیاء لدھے ٹرک اور ٹرالراس سڑک پر رواں دواں ہیں۔ افغانستان سے آنے والے ٹرکوں میں کوئلہ اور دیگر معدنی اشیاء لدھے ہوئے ہیں۔
غلام خان کے سرحدی گزرگاہ پر تجارت شروع ہونے سے سڑکوں کے کنارے اب ہوٹل اور دکانیں بھی تعمیر کی جارہی ہے جہاں پر ڈرائیوروں کو کھانے پینے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہے۔
گوکہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے کئی بار دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ ملانی والی شاہراہوں پر سیکورٹی فورسز بشمول خاصہ داروں کی جانب سے رشوت کی وصولی کا سلسلہ ختم کردیاگیا ہے مگر پشاور طورخم کی غلام خان روڈ پر بھی رشوت خوری کاسلسلہ جاری ہے۔
میر علی میں گاڑیوں کی خرید وفروخت کرنے والے تاجروںنے بتایا کہ جگہ جگہ سیکورٹی اہلکار ٹرکوں اور موٹروں سے زبردستی پیسے وصول کر رہے ہیں جو ان کے بقول تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کررہے ہیں اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے کو بند کرے۔
پیٹرول پمپس مالکان شدید مشکلات کے شکار
فوجی کاروائی ضرب عضب سے قبل شمالی وزیرستان میں 73 پیٹرول اور ڈیزل پمپس تھے۔دہشت گردی اور بعد میں فوجی کاروائی میں یہ تمام پمپس تباہ ہوگئے ہیں اب مالکان نے از خود 30پمپس بحال کردیئے ہیں جبکہ باقی کے معاوضے کے بارے میں حکومت کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
پیٹرول پمپس مالکان کی تنظیم کے صدر نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے اعلان کردہ معاوضہ انتہائی کم ہے اور اس معاوضے سے تباہ شدہ پیٹرول پمپس کی بحالی مشکل ہیں۔اُنہوں نے حکومت سے معاوضہ کی رقم بڑھانے کا مطالبہ کیا۔
فوجی آپریشن کے دوران مکانات اور دیگر نجی اور تجارتی املاک کو بہت زیادہ نقصان  پہنچاتھا۔نقصانات کے ازالے کیلئے حکومتی ادارے اور
عہدیدار تو بہت زیادہ دعوے کرتے رہتے ہیں مگر درحقیقت متاثرہ قبائلی ابھی تک غیر مطمئن ہیں۔
حکومت نے مکمل تباہ ہونے والے مکان کیلئے 4لاکھ روپے جبکہ جزوی متاثریا تباہ ہونے والے مکان کیلئے 1لاکھ 60 ہزار روپے کے معاوضے کا اعلان کر رکھا ہے جو مقامی قبائلیوں کے بقول انتہائی کم ہیں جبکہ تباہ ہونے والے مکانات میں ضائع یاتباہ ہو نے والے دیگر اشیاء جن میں فریج،ائیرکنڈیشنر اور دیگر الیکٹرانکس کے علاوہ بستر،کمبل،وغیرہ بھی شامل ہیں کیلئے کسی قسم کا معاوضہ نہیں دیا جاتا۔
بشکریہ وائس آف امریکہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top