باچا خانی پکار دہ

11986431_10208268713861348_7893468287687382720_n.jpg

روخان یوسفزئی

پختونوں کی تاریخ میں باچاخان عملی طور پر علم وآگاہی، اصلاح پسندی، اسلام پرستی، روشن خیالی،امن وآشتی، رواداری اور عدم تشددکا ایک ایسا مضبوط حوالہ اور باب ہے جس نے پختون تاریخ کا رخ موڑ دیاہے۔ اس کے علاوہ جوبات ان کی شخصیت کو مزید نمایاں کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت پختونوں کے حقوق کے پلیٹ فارم پر باچا خان کے بالمقابل کوئی اور جاذب شخصیت موجود نہ تھی جو ان کی جگہ لے سکتی۔

تاہم اس حوالے سے یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ باچا خان، جنہیں جدید پختون قوم پرستی کی تخلیق میں ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے،کے نظریات اورافکار سے پختونوں نے بہت ہی کم فائدہ اٹھایا ہے۔ اگریہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ شاید کسی بھی قوم نے اپنے اتنے بڑے محسن کی سیاسی بصیرت سے اتنی دوری اختیارنہیں کی جتنی پختون قوم نے اپنے محسن باچا خان سے اختیار کر رکھی ہے۔

باچاخان ایک تصوراتی رہبر اورفلسفی نہیں تھے جو اپنے پیچھے صرف سیاسیات، معاشیات پرطویل مضامین اوراقوال چھوڑگئے ہوں بلکہ وہ اس’’ قومی سوچ‘‘ کے لیے جو انہوں نے بڑی مشکلات کے بعد حاصل کی تھی عملی نظریات اورتصورات رکھتے ہیں۔ مگر متاسفانہ سیاسیات اور معاشرت پر ان کے نظریات سے استفادہ حاصل کرنے کے بارے میں کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ نہیں سوچاگیا۔

آزادی کے بعد اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود پختون قوم آج کہاں کھڑی ہے؟ کتنے دکھ اورافسوس کامقام ہے کہ اس قوم میں قومیت کا تصور اب بھی دُھندلایا ہواہے۔ماضی میں جانے کی بجائے اگرہم اپنے آپ کوصرف موجودہ حالات سے متعلق زیادہ واضح سیاسی اورنظریاتی تقسیموں تک ہی محدود رکھیں توبھی قومی یکجہتی یعنی قومیت کا فقدان ہی نظرآئے گا جوہمیں یہ سوچنے پرمجبورکرے گا کہ اس قوم کے محسن باچاخان نے ایک جدید اورمعاشی انصاف پرمبنی قومیت کی تشکیل کے لیے کون سے قابل عمل راستے کی نشان دہی کی ہے۔

جہاں تک پختونوں میں موجودہ نظریاتی اورسیاسی تقسیم کا تعلق ہے تویہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ آج پختونوں کے خطے کوسب سے بڑا خطرہ مذہبی شدت پسندی، دہشت گردی اور عدم رواداری کی صورت میں لاحق ہے۔گزشتہ برسوں کے دوران سینکڑوں مذہبی گروہ اور جنگجو تنظیمیں ظہور میں آئی ہیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ان مختلف اسلامی گروہوں سے منسلک جنگجوؤں کواصل اسلام کی وسیع النظری اور وسیع القلبی کا علم ہی نہیں ہے اور وہ دوسرے لوگوں پربندوق کے زور پر اپنے خودساختہ اسلام پھیلانے کے حامی ہیں۔ بہرحال یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ یہ سب گروہ صرف اپنی ذاتی خواہش کے تحت کام نہیں کررہے ہیں ان کے پس پشت بیرونی طاقتیں اور ملک میں موجود بعض مقتدرقوتیں اور جماعتیں ہیں۔

یہ انتہا پسند گروہ نہ صرف دنیامیں دین اسلام کا اصل روپ بگاڑ رہے ہیں بلکہ پختون معاشرے کومختلف فرقوں میں تقسیم کرنے کا باعث بھی بن رہے ہیں کیوں کہ ان میں سے ہرایک گروہ اسلام کی اپنی پیش کردہ من پسند تعبیر کو ہی اصل اسلام مانتاہے اوردوسرے فرقوں کے بارے میں عدم برداشت کی تعلیم دیتاہے۔ تاہم اس کے باوجود یہ امر خوش آئند ہے کہ آج باچاخان کی سوچ، نظریات اور افکار نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی دنیا کے کئی ممالک کے مورخین، دانشوروں، سیاسی اورسماجی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواچکے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ باچاخان کے نظریات وافکار کی ضرورت اور اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ رہی ہے، وہ اس وجہ سے کہ باچاخان صرف ایک عام فرد یا شخصیت کانام نہیں بلکہ ایک جداگانہ سماجی، تعلیمی، سیاسی اورتہذیبی مکتب فکر، نظریہ اورنظام فکر و فلسفہ کانام ہے۔ ان کی شخصیت کے بے شمارپہلو ہیں اور ہرپہلو الگ الگ کتاب کا متقاضی ہے تاہم ان تمام صفات اورخوبیوں کو مجموعی طور پر آج کے جدید سیاسی اصطلاح اور مفہوم میں’’باچاخان ازم‘‘ اور’’باچاخانی‘‘ کہا جاتاہے.

’’باچاخانی‘‘ محض اصطلاح، نام یا وقتی، سیاسی، ہنگامی اورجذباتی نعرہ نہیں بلکہ ملک وقوم کی خدمت، ترقی، جمہوریت، انصاف، عدم تشدد، رواداری، روشن خیالی اور امن کے لیے ’’ پختون ولی‘‘ کی طرح ایک ضابطہ اخلاق، قانون،آئین،نظام فکر اور ایک منفرد فلسفہ حیات ہے جو پختون ولی،اسلام،تعلیم وتربیت،جدید علوم اورٹیکنالوجی، جمہوریت، معاشی انصاف، تہذیب وثقافت، تجارت، معیشت، رواداری اورروشن خیالی پرمبنی ہے۔

اگرچہ باچا خان کی زندگی، جدوجہد، قربانیوں، قیدوبند، ان کی تحریک اور ساتھیوں(خدائی خدمت گاروں)کے متعلق اب کئی مختلف زبانوں میں کتابیں لکھی گئی ہیں، دستاویزی فلمیں بن چکی ہیں، اور مزید بھی بہت تحقیقی کام ہورہاہے، جس کے ذریعے کئی ایسے بے شمار گوشے اور حقائق سامنے لائے جاچکے اور لائے جارہے ہیں جواب تک قوم سے پوشیدہ تھے یاایک منظم منصوبہ بندی اور سازش کے تحت پوشیدہ رکھے گئے تھے۔

اپنی قوم اور اس دھرتی کی آزادی،ترقی،خوشحالی امن اورسلامتی کے لیے باچاخان اور ان کے خدائی خدمت گاروں نے جومالی اور جانی قربانیاں دی ہیں، جوذہنی اور جسمانی اذیتیں،صعوبتیں اور مشکلات جھیلیں ہیں، اپنی سرزمین کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے میں باچاخان اور ان کی تحریک نے جوتاریخی کردار ادا کیاہے اس سے اب ایک دنیا واقف ہوچکی ہے اور یہ حقیقت بھی مان لی گئی ہے کہ اگر تقسیم ہند سے قبل یا بعد میں قیام پاکستان کے وقت باچاخان کی بات مان لی جاتی ان کا بتایا ہوا راستہ اپنایا جاتا تو آج ہمیں داخلی اور خارجی طور پر یہ برے دن دیکھنا نہ پڑتے جس سے آج ہم گزررہے ہیں۔

ستم بالائے ستم یہ بھی ہے کہ تحریک آزادی کی تاریخ میں سرکاری مورخین اور دانشوروں نے باچاخان اور ان کی ’’خدائی خدمت گارتحریک‘‘ کے اصل چہرے اور کردارکونہ صرف چھپا کے رکھا بلکہ اسے مسخ اور طرح طرح کے غلط ناموں سے یاد کرنے کا درباری وظیفہ بھی خوب ادا کیاہے۔

اسی طرح تعلیمی نصاب میں بھی، جومطالعہ پاکستان یا پولٹیکل سائنس کے نام سے پڑھایاجارہا ہے، باچاخان اوران کی تحریک کی اصل اور سچی کہانی’’شجرممنوعہ‘‘ رہی جس کے باعث ہماری نئی نسل کو تحریک آزادی کے اصل ہیرو اور سچے کرداروں سے بے خبررکھاگیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پختونوں کی نئی نسل کی اکثریت اپنے اس عظیم حریت پسند، بشردوست، امن پسند اور عدم تشدد کے علم بردارباچاخان کی زندگی،جدوجہد اور ان کے افکار اورفلسفہ حیات سے کماحقہ واقفیت نہیں رکھتی۔

مگر تاریخ نویسی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی، نئے مواد کی روشنی میں حالات و واقعات کے بارے میں اور زیادہ معلومات ملتی رہتی ہیں جن کی وجہ سے ماضی کے بارے میں نقطہ نظرمیں تبدیلی آتی ہے۔ تقسیم ہند اور جنگ آزادی کے بارے میں برطانوی سرکاری دستاویزات،نجی معلومات اور حقائق سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ سے پوری تحریک اورتاریخ کونئے انداز سے دیکھاجارہاہے۔

اب لوگ دو قومی نظریے کو بھی چیلنج کررہے ہیں، تقسیم ہند کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہارکررہے ہیں اوربعض شخصیتوں پربھی انگلی اٹھارہے ہیں۔اب روایتی تاریخ اپنا اثررسوخ کھوبیٹھی ہے اب اس کی جگہ نئی تاریخ لے رہی ہے۔ اس میں زیادہ حقیقت پسندی،دلکشی اورجاذبیت ہے۔

موجودہ نسل تاریخ کوخوابوں اورکشف وکرامات کی روشنی میں نہیں دیکھناچاہتی وہ اسے ٹھوس حقائق اورشہادتوں کے ذریعہ سمجھناچاہتی ہے۔وہ دلیل اورمنطق کے ذریعہ واقعات کی تشریح چاہتی ہے اورماضی میں جوکچھ ہوا اس سوال کا جواب چاہتی ہے۔مطلب یہ کہ تاریخ بڑی بے رحم ہے یہ کسی کوبھی معاف نہیں کرتی اور نہ ہی تاریخی حقائق کوکوئی دیرتک چھپاسکتاہے۔آج دنیا ایک گھر(گلوبل ویلج) کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اب جدیدعلوم اور انفارمشن ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے۔

موجودہ نسل ایک پڑھی لکھی اور سائنسی حقائق پریقین رکھنے والی نسل ہے جسے مفرضوں اورخیالی قصے کہانیوں پرکوئی ورغلا نہیں سکتا۔ موجودہ نسل حقائق کا کھوج لگانے کا علم اورصلاحیت رکھتی ہے اسے بیک وقت کئی زبانوں پر عبور حاصل ہے۔

الیکٹرانک میڈیا، انٹرنیٹ اورسوشل میڈیا موجودہ نسل کی ہتھیلی پر ہے لہذا اپنے ملک کی موجودہ آزادی کی تحریک کے بارے میں ایک مخصوص فارمولے کے تحت لکھی گئی نصابی تاریخ کے علاوہ دیگرزبانوں میں لکھی گئی غیرجانب دار تاریخ کا مطالعہ بھی کررہی ہے اورساتھ دیگر جدید ذرائع ابلاغ پر بھی کھڑی نظررکھے ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج پختونوں کی نئی نسل میں یہ نعرہ اور اصطلاح ’’باچاخانی پکار دہ‘‘(باچاخانی درکارہے) مقبول ہوتاجارہاہے۔

(بشکریہ شہباز)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top