پاکستانی جمہوریت حقیقت یا افسانہ؟

58d369955d789.jpg

حارث افغان

دنیا کا واحد ملک پاکستان جو کہ اپنے نام سے ہی جمہوریت کا پتہ دیتی ہے مگر کیا حسین مذاق ہے کہ اس ملک کے کسی بھی جمہوری حکومت میں وزیر اعظم نے اپنا دورانیہ پورا نہیں کیا اور سب کے سب باری باری اپنے عہدے سے ہٹائے گئے، کبھی آمریت کے نظر کبھی جمہوریت کے نظر اور یہ سلسلہ اس ملک کے وجود میں آتے ہی شروع ہوگیا تھا۔

سب سے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان جس کو اپنے ہی حکومت کے چار سال دو مہینے اور دو دن بعد قتل کر دیا گیا جس کے ایک دن بعد خواجہ نظام الدین نے کرسی سنبھالی مگر گورنر جنرل نے اسمبلی تحلیل کرکے پورے ایک سال چھ مہینے بعد اس کو بھی گھر بھیج دیا اور اس کے جگہ محمد علی بوگرا آیا جس نے تقریبا دو سال چار مہینے کرسی سنبھالی مگر اس کو بھی الیکشن کے نظر کر دیا گیا۔

چودھری محمد علی کو اس وقت کے دو بڑے پارٹیاں مسلم لیگ اور عوامی لیگ نے اتفاق رائے سے منتخب کردیا مگر اس کی قسمت کرسی پر صرف ایک سال اور ایک مہینہ رہا اور اپنے پارٹی کے عدم اعتماد کیوجہ سے اس کو کرسی چھوڑنا پڑی۔

اس صورتحال کے بعد پہلی بار پاکستان کے دوسرے بڑی پارٹی عوامی لیگ سے حسین شہید سہروردی جو قانون کے ماہر تھے وزیراعظم کے منصب پر آئے مگر اس نے بھی اپنے پارٹی کے لوگوں کی بد انتظامی کی وجہ سے ایک سال بعد خود ہی استعفیٰ دے دیا اور یوں ایک دفعہ ہھر یہ کرسی خالی ہوگئ تھیں۔

اس کے بعد ابراھیم اسماعیل چندریگر کرسی پر بیٹھ گئے، اس نے ابھی کرسی پر سانس لی بھی نہیں تھی کہ اس کو اس کے اپنے پارٹی اور ساتھ دوسرے پارٹی کے عدم اعتماد نے پچپن دن بعد رخصت کیا جو کہ پاکستان کے تاریخ میں سب سے کم دورانیہ کا وزیراعظم رہا اور کرسی پھر خالی کردی گئیں۔

بعد ازاں اس کرسی پر ریبلکن پارٹی کے ایک جانے مانے وکیل فیروز خان نون نے تشریف رکھ دی مگر ابھی سال بھی نہیں گزرا تھا کہ آمریت نے اپنی پہلی سانس لیتے ہی لنگڑی لولی جمہوریت کو اپنے بوٹوں سے کچلنے کے لئے اسکندرمرزا کے توسط سے ایوب خان نے شروعات کر دی اور یوں پاکستان کی کرسی جمہوریت سے تقریباً تیرہ سال کےلئے چھین لی گئیں۔

اس کے بعد اکتہر کے جنرل الیکشن ہوئے اور یحییٰ نے نورالامین کو وزیراعظم بنایا مگر یہ بھی آمریت تھی جو سن ۱۹۷۳ تک رہا اور پھر پاکستان پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم بنے جس نے ابھی چار سال حکومت کی تھیں کہ اس کے بنائے ہوئے آرمی چیف ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دی اور تقریباً آٹھ سال قابض رہا اس کے بعد آزاد امیدوار محمد خان جونجو چار سال کے لئے وزیراعظم بنے جس کو آٹھویں ترمیم کے ذریعے گھر بھیج دیا گیا۔

اس بار پاکستان اور مسلم ممالک میں پہلی دفعہ ایک خاتون  بینظیر بھٹو سابقہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی نے ملک کے سربراہی کا قلمدان سنبھالا اور وزیراعظم بنی مگر اس کو بھی ایک سال آٹھ ماہ بعد کرسی چھوڑنی پڑی اور مسلم لیگ نواز کے میاں نواز شریف نے اس کی جگہ لے لی مگر وہ خود بھی دوسال ساتھ مہینے اپنی کرسی کی جنگ دوبارہ بینظیر سے ہار گیا اور تین سال کےلئے وہ دوسری بار وزیراعظم بنی۔

لیکن یہ چوہا بلی کا کھیل یہاں ختم ہونے والا نہیں تھا پھر نواز شریف نے اس کی حکومت گرائی اور دوسری بار اس نے بھی کرسی کی بھاگ دوڑ سنبھالی پورے ملک میں اکثریت سے آنے والا یہ حکومت ایک بار پھر دو سال سات مہینے ہی چلی تھی کہ بوٹ کے نیچھے دب گئی اور اس بار بوٹ پرویزمشرف کا تھا جس نے تقریبا پاکستان کے گردن پر نو سال تک پاؤں رکھا اور اس عرصے میں اس نے میر ظفراللہ خان جمالی اور چودھری شجاعت حسین کو بھی ایک ایک کرسی بطور وزیراعظم بٹھائے اور ان کے بعد شوکت عزیز کو تین سال کے لئے کرسی دی گئی۔

پارلیمنٹ نے اپنی مدت پوری کرنے پر شوکت غزیز نے کرسی چھوڑ دی اور اسی کے بعد ۲۵ مارچ ۲۰۰۸ کو یوسف رضا گیلانی پاکستان کا وزیراعظم بنا مگر اس کو بھی مدت پوری کرنے نہیں دیا گیا چار سال دو مہینے بعد اس کو سپریم کورٹ نے نااہل کر دیا اس کے بعد راجہ پرویز اشرف نے نو مہینے کرسی سنبھالی۔

اس کے بعد تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے کے لئے نواز شریف باری اکثریت سے آئے مگر اس بار چار سال ایک مہینہ گزارہ ہی تھا کہ پانامہ کیس میں وہ ایک بار پھر وہ ہٹادئیے گئے اور ساتھ میں تاحیات نااہل بھی کردئیے گئے اور اس حکومت کا باقی عرصہ شاہد خاقان عباسی کے سر سجا مدت پوری کرکے عمران احمد نیازی کو حکومت حوالے کر دی جو تاحال جاری تو ہے۔

مگر یہ جمہوریت کم آمریت زیادہ نظر اآرہی ہے اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ ریاست جمہوریہ پاکستان میں جہاں جمہوری حکومتیں تو اپنی مددتیں پوری نہ کر سکی مگر چیف آف آرمی سٹاف کو اپنی مدت میں توسع دے دی گئی ہے باقی اپ خود سمجھدار ہیں کہ یہ جمہوریت یا امریت!۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top