سیدرسول بیٹنی
اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ذہنی صحت کے بغیر صحت کا تصور نامکمل ہے، اس لیے حکومت ذہنی صحت کو قومی ترجیح کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے اور اس شعبے میں خدمات کو فروغِ صحت، روک تھام، ابتدائی تشخیص، علاج، بحالی اور صحت یابی کے مکمل تسلسل سے منسلک کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں دو روزہ پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ تقریب میں وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ، پارلیمنٹیرینز، مختلف ممالک کے سفرا، عالمی ادارہ صحت کی ڈپٹی نمائندہ اور ماہرین صحت و نفسیات نے شرکت کی۔
تقریب کے موقع پر قومی ذہنی صحت پالیسی کا اجرا بھی کیا گیا، جس کا مقصد ملک بھر میں ذہنی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانا اور عوام کو ان سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ذہنی صحت محض شعبہ صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے، جس کے لیے صحت، تعلیم، کمیونٹیز اور دیگر متعلقہ شعبوں کے درمیان مربوط اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اندازوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ افراد کو نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے، جبکہ ملک میں ہر پانچ لاکھ افراد کے لیے ایک سے بھی کم ماہر نفسیات دستیاب ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان اعدادوشمار کے پیچھے ایسے بچے ہیں جو اسکول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے والدین ہیں جو کام کرنے سے قاصر ہیں اور ایسے خاندان ہیں جو مدد کے منتظر ہیں۔ ان کے بقول ہر فرد نگہداشت، وقار اور احترام کا مستحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ذہنی صحت پالیسی پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے کے لیے ایک مشترکہ قومی سمت متعین کرتی ہے، تاہم تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کو اپنی مقامی ضروریات کے مطابق اقدامات کرنے کی گنجائش دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت بنیادی صحت کی سہولیات میں ذہنی صحت کو شامل کرنے، کمیونٹی پر مبنی خدمات کو مضبوط بنانے اور ضرورت کے مطابق خصوصی طبی سہولیات تک رسائی یقینی بنانے پر توجہ دے گی۔
انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کو قومی ذہنی صحت کے ردعمل میں مرکزی حیثیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں، خاندانوں اور صحت کی خدمات کے درمیان بہتر تعاون کے ذریعے ذہنی صحت کے مسائل کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی اور ان سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سیلاب اور دیگر ہنگامی حالات کے دوران ذہنی صحت کی ضروریات کو قومی رسپانس کا حصہ بنایا جائے گا، جبکہ طبی عملے کی استعداد کار بڑھانے اور پسماندہ و کم سہولت یافتہ علاقوں تک خدمات پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل ہیلتھ سروسز کے استعمال کو بھی وسعت دی جائے گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ قومی ذہنی صحت پالیسی کے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے صوبائی صحت اور تعلیم کے محکموں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتیں طے کی جائیں گی، جبکہ اسلام آباد ڈیکلریشن فار مینٹل ہیلتھ بھی جاری کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر کے مطابق تمام صوبے پالیسی کی تیاری کے عمل میں ابتدا ہی سے شریک رہے ہیں اور وفاقی حکومت صوبوں کو ان کی ضروریات کے مطابق عملدرآمدی منصوبے تیار کرنے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔ ان منصوبوں میں ترجیحات، ذمہ داریاں، ٹائم لائنز اور قابل پیمائش نتائج شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا حتمی مقصد ایسی ذہنی صحت کی خدمات کا قیام ہے جو لوگوں کو ان کی اپنی کمیونٹیز میں دستیاب ہوں۔
سید مصطفیٰ کمال نے صوبائی قیادت، صحت و تعلیم کے محکموں، گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈویلپمنٹ، شفا تعمیر ملت یونیورسٹی، عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون کو سراہا۔
انہوں نے زور دیا کہ ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد، نوجوانوں اور خاندانوں کو پالیسی سازی اور خدمات کی تشکیل کے عمل کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ خدمات حقیقی کمیونٹی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔
پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 اسلام آباد میں ’’پاکستان میں بچوں، نوجوانوں اور کمیونٹیز کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والے اور مستقبل کے لیے تیار ذہنی صحت کے نظام کی تشکیل‘‘ کے موضوع پر منعقد ہو رہا ہے۔

