سیدررسول بیٹنی
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما اور رکن خیبر پختونخوا اسمبلی نثار باز خان نے باجوڑ میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور شہریوں کو درپیش سیکیورٹی خدشات پر صوبائی اسمبلی میں تحریکِ التوا جمع کرا دی۔
تحریکِ التوا میں کہا گیا ہے کہ باجوڑ میں گزشتہ چند روز کے دوران بدامنی کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں، جس کے باعث علاقے کے عوام شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

تحریک کے مطابق چند روز قبل ڈاکٹر غلام فاروق کے جواں سال بیٹے برہان خان کو قتل کیا گیا، جبکہ اس سے قبل تحصیل ماموند سے تعلق رکھنے والے ملک مضروف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح گزشتہ دنوں سلارزو سے تعلق رکھنے والے ملک سید احمد جان بھی ایک حملے میں نشانہ بنے۔
نثار باز خان نے تحریکِ التوا میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باجوڑ میں آئے روز بدامنی کے واقعات کے باوجود صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس سنگین صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں، جس کے باعث خیبر پختونخوا کے عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
تحریک میں سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور سیکیورٹی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اے این پی کے رکن اسمبلی نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ باجوڑ سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خاتمے کے لیے فوری، مؤثر اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

