صحت پر کم اخراجات،محدود وسائل میں جدید ٹیکنالوجی اپنانا ناگزیر ہے،ڈاکٹر شہزاد علی

WhatsApp-Image-2026-10-29-at-7.23.32-PM.jpeg

افضل شاہ یوسفزئی

اسلام آباد : ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے محدود وسائل کے باوجود جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی حل اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ٹیلی میڈیسن اور ڈیجیٹل ہیلتھ سمیت جدید ٹیکنالوجیز کے مؤثر استعمال سے صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

مستقبل کی صحت سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس میں ’’پاکستان میں پبلک ہیلتھ کا مستقبل‘‘ کے موضوع پر پریزنٹیشن دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہا کہ پاکستان میں فی کس صحت اخراجات تقریباً 45 ڈالر ہیں، جبکہ سری لنکا میں یہ اخراجات 127 ڈالر، بھارت میں 75 ڈالر اور افغانستان میں 50 ڈالر بتائے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں صحت پر حکومتی اخراجات مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 0.7 سے ایک فیصد کے درمیان ہیں۔ صحت کے مجموعی اخراجات میں حکومتی حصہ 34 فیصد جبکہ نجی شعبے کا حصہ 64.4 فیصد ہے، جس کے باعث شہریوں کو علاج معالجے کے اخراجات کا بڑا حصہ اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔

وائس چانسلر کے مطابق پاکستان کا نظامِ صحت ایک ایسے مخلوط ڈھانچے پر مشتمل ہے جس میں سرکاری شعبے کا نیٹ ورک وسیع ہونے کے باوجود سہولیات کی کوریج محدود ہے، جبکہ نجی شعبہ حجم کے اعتبار سے بڑا ہے لیکن اس کے بڑے حصے کو مؤثر ضابطہ کاری کے چیلنجز درپیش ہیں۔

انہوں نے سرکاری شعبے کے وسائل کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ملک میں تقریباً دو لاکھ 80 ہزار ڈاکٹر، ایک لاکھ 38 ہزار ہسپتال بیڈز، ایک لاکھ آٹھ ہزار کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اور 16 ہزار صحت مراکز موجود ہیں۔ ان وسائل کے باوجود صحت کی معیاری سہولیات کی مؤثر فراہمی اور عوام تک ان کی رسائی اہم چیلنجز ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں اور صحت عامہ کے دیگر مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ 13 فیصد سے زائد آبادی ذیابیطس کا شکار ہے، تاہم بڑی تعداد کو اپنی بیماری کا علم نہیں۔ اسی طرح 18 سال سے زائد عمر کے تقریباً 25 فیصد جبکہ 40 سال سے زائد عمر کے 36 فیصد افراد بلند فشارِ خون میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حاملہ خواتین میں خون کی کمی کی شرح 44 فیصد سے زیادہ ہے، بچوں میں اسہال کی شرح 21 فیصد اور نمونیا کی شرح چھ فیصد بتائی گئی ہے، جبکہ تقریباً 90 فیصد آبادی جسمانی طور پر غیر متحرک ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کو زچہ و بچہ کی صحت، نومولود بچوں کی اموات اور تپِ دق سمیت متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے نومولود بچوں کی اموات، زچہ و بچہ کی صحت اور ٹی بی کے حوالے سے پاکستان کی عالمی درجہ بندی کا بھی ذکر کیا۔

جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ٹیلی میڈیسن، موبائل ہیلتھ، بگ ڈیٹا، بلاک چین اور جینومکس صحت کے شعبے میں تیزی سے اہمیت اختیار کر رہی ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز سے بیماریوں کی تشخیص، مریضوں کی نگرانی، صحت کے ڈیٹا کے بہتر استعمال اور دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے انسانی جینوم کی سیکوینسنگ کی لاگت میں نمایاں کمی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ اخراجات ماضی میں لاکھوں ڈالر سے کم ہو کر تقریباً ایک ہزار ڈالر تک آ گئے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو بھی جدید سائنسی پیش رفت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صحت کے نظام کو زیادہ مؤثر، قابلِ رسائی اور وسائل کے اعتبار سے پائیدار بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top