سولر توانائی کا مستقبل بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈ سے وابستہ ہے،ماہرین

solar.png

سیدرسول بیٹنی

اسلام آباد: پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے سولر انقلاب کو پائیدار بنانے کے لیے بیٹری اسٹوریج، جدید بجلی کے گرڈ، مؤثر پالیسی سازی اور مقامی سطح پر بیٹریوں کی تیاری ناگزیر ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات کے بغیر ملک میں قابلِ تجدید توانائی کی منتقلی کی رفتار برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔

یہ بات اسلام آباد میں منعقدہ "سولر، اسٹوریج اینڈ فلیکسبلٹی 2026 کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس لغاری، پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمٰن اور عالمی توانائی کے ماہرین نے کہی۔

وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان کی توانائی کا 50 فیصد حصہ پہلے ہی صاف توانائی پر مشتمل ہے، جبکہ حکومت 2035 تک اسے 90 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹری اسٹوریج سسٹمز کی مقامی تیاری اور دن کے اوقات میں ٹائم آف یوز (ToU) ٹیرف کا نفاذ شمسی توانائی کو قومی گرڈ میں مؤثر انداز میں شامل کرنے کے لیے ضروری ہے۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ شمسی توانائی کے فروغ سے پاکستان اب تک 12 ارب امریکی ڈالر کی بچت کر چکا ہے، جبکہ رواں سال مزید 6.3 ارب ڈالر کی بچت متوقع ہے۔ ان کے مطابق ملک کو بجلی کی پیداوار کی کمی نہیں بلکہ توانائی کے مؤثر انتظام اور گرڈ کی جدیدکاری کا چیلنج درپیش ہے۔

انہوں نے بیٹری اسٹوریج، اسمارٹ گرڈز اور جدید ٹرانسمیشن نظام میں سرمایہ کاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ہر پانچ میں سے ایک گھر میں اب سولر سسٹم نصب ہے۔ انہوں نے عالمی موسمیاتی مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ صرف بڑے منصوبوں کے بجائے گھریلو صارفین، چھوٹے کاروباروں اور مقامی برادریوں کے لیے تقسیم شدہ قابلِ تجدید توانائی، بیٹری اسٹوریج اور آسان مالی معاونت کو ترجیح دیں۔

شیری رحمٰن نے سولر آلات پر مجوزہ 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صاف توانائی کی جانب پاکستان کی پیش رفت متاثر ہوتی۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے سبسڈی، مائیکرو فنانس اور سازگار پالیسیوں کو فروغ دیا جائے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جو قومی گرڈ سے محروم ہیں۔

کانفرنس میں ماہرین نے بتایا کہ پاکستان میں اب تک تقریباً 38 گیگاواٹ تقسیم شدہ شمسی توانائی نصب ہو چکی ہے، جبکہ لیتھیم آئن بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) کی درآمدات 2025 میں 220 فیصد بڑھ گئیں، جو ملک میں بیٹری اسٹوریج کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کا مظہر ہے۔

گلوبل سولر کونسل کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سونیا ڈنلپ اور رینیوایبل انرجی کونسل ایشیا پیسیفک کے جان گرائمز سمیت عالمی ماہرین نے پاکستان کے عوام کی قیادت میں ہونے والے سولر انقلاب کو دنیا کے لیے ایک مثالی ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے جامع بیٹری اسٹوریج پالیسی، جدید بجلی کا گرڈ اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top