چھوٹے ڈیموں کے تعمیر سے موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے،محبوب الحق

.png

سیدرسول بیٹنی

پائیدار ترقی کیلئے سرگرم  فلاحی تنظیم ہیومن ڈیویلپمنٹ فاونڈیشن اور انسٹیٹوٹ آف ریجنل سٹڈیز اسلام آباد کی مشترکہ کاوشوں سے ’’ پاکستان میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیراور موسمیاتی تبدیلی  کے اثرات سے نمٹنے‘‘ کی عنوان پر مباحثے کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد عوام میں پائیدار کلین اینڈ گرین ماحول کے حوالے سے شعور اُجاگرکرنا تھا اور اس حوالے سے مختلف فلاحی تنظیموں کے درمیان ہم آہنگی اور اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔

مباحثے میں مختلف سول سوسائیٹز آرگنائزیشن کے نمائندوں ،ماحولیات کے ماہرین اور میڈیا کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

مباحثے کی آغاز کرتے ہوئے ہیومین ڈیویلپمنٹ فاونڈیش کے چیف ایگزیکٹیوآفیسر محبوب الحق نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ ہیومن ڈیویلپمنٹ فاونڈیشن  نے دس ماہ کی قلیل عرصے میں تحصیل نوشہرہ ضلع خوشاب میں عفاف ڈیم بنایا جس کا مقصد مقامی کمیونٹی کو درپیش مشکلات کو حل کرنا ہے تاکہ وہ معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس علاقے میں ہائی ویلیو ہارٹیکلچر مقامی لوگوں کو متعارف کرائیں تاکہ جو ڈیم کا پانی سٹور ہوگا تو اس سے کمیونٹی کو ٹھوس فوائد مل سکے اورانکو براہ راست فائدہ حاصل ہوکہ وہ درخت اُگائیں جو فوڈ بیرنگ ہیں اور وہ پھل جس کی اُنھیں مارکیٹ میں فوراً قیمت بھی مل جائیں تو زیتون ،آڑو ،بلیوبیری یہ ہماری منصوبے کا حصہ ہے پھر اس منصوبے کے دوسرے مرحلے  میں مقامی  خواتین اور نوجوانوں کو ان کے کاشت کے حوالے سے تربیت اور آگاہی دینگے۔

انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) سے عاصم جمال نے مباحثے کے دوران ایسی فصلوں اور پودے لگانے کی ضرورت کی نشاندہی کی جن میں کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور مقامی کمیونٹیز کے لیے زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کرتے ہیں۔

مقررین نے وادی سون میں رامسر سائٹس پر  حیاتیاتی تنوع اور مجموعی ماحولیاتی نظام کے تحفظ پر بھی زور دیا۔

مباحثے کے آخر میں انسٹیٹوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے سفیر ندیم ریاض نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ "کوئی بھی حکومت اپنے طور پر سب کچھ نہیں کر سکتی۔پائیدار ترقی کی حصول کیلئے سب سے اہم چیز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک خوشحال ملک بنانے کے لیے اجتماعی دانش  کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top