کتاب کے ساتھ دوستی، باچا خان ایجوکیشن فاونڈیشن کے زیراہتمام سٹڈی سرکل کا انعقاد

142e2b6b-471b-46c6-ae31-567e7e5c1c43-e1552241693118.jpg

سیدرسول بیٹنی

پشاور:نوجوان نسل میں کتب بینی کو پروان چڑھانے اور اپنے تاریخ کا مطالعہ کرنے کے حوالے سے باچا خان ٹرسٹ اینڈ ایجوکیشن فاونڈیشن کے زیراہتمام سٹڈی سرکل کا انعقاد کیا گیا۔سٹڈی سرکل کا مقصد نوجوانوں میں پشتو ادب اور تاریخ کے حوالے سے شعور اُجاگر کرنا اور سیاسی تربیت کرنا تھا۔

سٹڈی سرکل میں پشتو زبان کے معروف نثرنگار ہمایون مسعود کی نثری کتاب “رشتے” میں شامل ایک مختصر سی افسانہ “دہشت گرد ” پر بحث کیا گیا جس میں خیبر پختونخوا ،قبائلی اضلاع اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پشاوراور اسلام آباد کے مختلف یونیورسٹیز میں زیر تعلیم طلباءوطالبات نے شرکت کی۔

سرکل میں سینئر صحافی عبدالروف یوسفزئی نے افسانہ “دہشت گرد ” کو موجودہ حالات  سے موازنہ کرتے ہوئے تمام پشتون وطن اور بالخصوص خیبرپختونخوا کے موجودہ صورتحال پر تفصیل سے بات کی۔اس کے علاوہ بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ایم فل سکالر ریاض غفور نے مذکورہ افسانے کے مقاصدواغٖراض بیان کئے اور پشتون قوم کی سیاست کے ماضی اور مستقبل کے خدوخال پر روشنی ڈالی۔

سٹڈی سرکل میں شریک کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے اور انگریزی ادبیات کے طالب علم جمال ناصر نے “دی پشاور پوسٹ” کو بتایا کہ میں نے  سرکل سے بہت کچھ سیکھا کیونکہ اس میں ہری کسی کو بولنے کا حق حاصل تھا اور اپنی نظر کو بلاخوف دوسرے کے ساتھ شریک کرتا رہا۔اںہوں نے کہا کہ یہ سرکل ہمارے روایتی یونیورسٹی کے لیکچرز اور مباحثوں سے بلکل مختلف تھا کیونکہ اس میں تمام لوگ شریک تھے اور خاموشی سے ایک دوسے کو سُنتے تھے اور باری باری اپنا نقطہ پیش کرتے تھے۔

سٹڈی سرکل میں شریک پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سوشل ورک میں زیر تعلیم طالبہ اور سماجی کارکن سلمہ خٹک نے بتایا کہ  سٹڈی سرکل میں طالبات کو  بھی برابر بولنے کا موقع حاصل تھا اور صنف امتیاز کا ماحول نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔

سینئر صحافی عبدالروف یوسفزئی نے سٹڈی سرکل کے اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نوجوانوں میں کتاب پڑھنے کا شوق بڑھتا ہے اور لوگ مطالعہ کے اہمیت کو جان لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان نسل کتاب سے دور ہے اسی وجہ سے وہ طرح طرح کا مسائل کا شکار ہے۔

اُنکا کہنا تھا کہ باہر کے دنیا میں کتاب کو صرف الماریوں میں نہیں رکھا جاتا بلکہ پڑھا جاتا ہے اور قارئین لکھاریوں کے تجربات سے سیکھتے ہیں اور اپنی زندگیوں اور رویوں میں تبدیلی لاتے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top