مسیحی خواتین کب تک تعصب کا شکار ہوتی رہیں گی؟

.jpg

افشاں قریشی

اگرچہ آئین پاکستان میں یکساں حقوق کی پاسداری کے احکامات موجود ہیں لیکن جب اصل حقائق کا جائزہ لیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مردوں کا معاشرہ ہے یہاں آج بھی کئی علاقے اور خاندان ایسے ہیں کہ جنکی خواتین کا استحصال معمول ہے ۔ جہاں عورت کے سک سک کر زندگی گزارنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ایک عورت ہے لیکن ایک عورت جب مسیحی خاندان سے بھی تعلق رکھتی ہوگی تو اُ س کے لئے عرصہ حیات کتنا تنگ کیا جاتا ہوگا یہ واضح کرنا مشکل نہیں ، ترقی یافتہ معاشرہ میں تعلیم و شعور کی بنیاد پر خواتین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں آج بھی اکثر مواقعوں پر تعلیم کی بجائے مذہب کی بنیاد پر اقلیتی خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقعے فراہم نہیں کئے جاتے ہیں اس حوالے سے چند مسیحی خواتین کی رائے بھی لی گئی جو نظر قارئین ہیں۔

شازیہ جارج کا شمار اُن باہمت خواتین میں کیا جاسکتا ہے جو دوسروں کے لیے رول ماڈل بنتی ہیں ۔ شازیہ کے والد محنت مزدوری کرتے رہے جبکہ والدہ کپڑے سلائی کرکے گھر کی کفالت کرتی تھیں، ایسی غربت کی حالت میں شازیہ جارج کا مسلسل تعلیمی مدارج طے کرتے جانا گویا عظمت کی بلندیوں کو چھونے کے مترادف ہے، شازیہ جارج نے پہلے پولیٹکل سائنس میں ماسٹر کی ڈگری لی پھر جینڈر ان ہیومن میں ایم اے کیا اور بعد ازاں تاریخ میں بھی ماسٹر کی ڈگری لینے میں کامیاب ہو گئیں۔

شازیہ جارج نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ بالکل ابتدائی تعلیم میں تو مجھے کوئی خاص مسئلہ درپیش نہیں آیالیکن جب گورنمنٹ مڈل سکول میں داخلہ لیا تو مجھے معلوم ہونا شروع ہوا کہ تعصب کسے کہتے ہیں، مسیحی لڑکی ہونے کی وجہ سے کلاس فیلوز مجھ سے زیادہ بات چیت کرنا پسند نہیں کرتے تھے، اور پھر ایسی کتاب کو لازمی پڑھنا جسکی زبان بھی ہماری زبان نہیں بہت مشکل پیش آتی ،نہ چاہتے ہوئے بھی اسلامیات کو پڑھنا پڑتا تھا، یہ بھی خوف رہتا کہ کہیں غلط نہ پڑھ جاؤں ، غلط لکھ نہ جاؤں، ہر وقت پریشر میں رہتی تھی، امی ابو بھی روزانہ تاکید کر کے سکول بھیجتے کہ اسلامیات کو صاف لکھنا، نیچے نہ گرنے دینا غلط نہ پڑھ جانا کیونکہ دیگر اقلیتی طبقے کی طرح امی ابو بھی پریشان رہتے تھے کہ کہیں کوئی توہین مذہب کا الزام نہ لگا دیں۔

شازیہ کہتی ہیں کہ میرے ساتھ تعصب کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ میرے نام کیساتھ جارج آتا تھا لیکن میں نے کسی کے بھی برے رویےکو خاطر میں لائے بغیر تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور پھر سوشل سیکٹر میں آگئی۔ میں پنجاب کمیشن آف وومن سٹیٹس کی بورڈ ممبر بھی رہ چکی ہوں، شازیہ کہتی ہیں کہ سماجی اداروں میں آکر مجھے معلوم ہوا کہ ملازمت میں اقلیتوں کے لیے جو پانچ فیصد کوٹہ رکھا گیا ہے اس میں بھی تعصب نظر آتا ہے ، ملازمت کے لیے اپلائی کے بعد لیسٹوں میں نام تو آجاتا ہے مگر انٹرویو کے لیے نہیں بلایا جاتا یہ سراسر زیادتی ہے اسکے علاوہ اہم بات یہ ہے کہ اقلیتوں کے لیے ایک ادارہ بنایا گیا۔

نیشنل کمیشن فار منیارٹیز لیکن وہ خود مختار نہیں دیگر ادارے باقاعدہ قانون سازی سے بنے لیکن ہمارا ادارہ کسی قانون کے تحت نہیں بنایا گیا اسی وجہ سے خود مختار بھی نہیں جو ہمارے لیے کسی کام کا نہیں ، جسطرح دیگر ادارے خود مختار ہیں ، سو موٹو لینے کا اختیار رکھتے ہیں اور اپنی سالانہ رپورٹ بھی جاری کرتے ہیں اسی طرح ہمارے ادارے کو بھی فعال ہونا چاہیے اور سیاسی پریشر سے بھی آزاد ہونا چاہیے شازیہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کم سن مسیحی لڑکیوں کو سبز باغ دکھا کر انکا مذہب تبدیل کرکے شادیاں کرنے کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے۔ آئے روز اخبارات میں ایسی خبریں منظر عام پر آتی ہیں کہ کیسے مسیحی بچیوں کی زندگیاں تک بر باد کر دی جاتی ہیں۔

بزرگ خاتون عشرت بیگم کہتی ہیں کہ میرے تین بیٹے ہیں تینوں شادی شدہ ہیں لیکن میں ان کے لیے بوجھ بن گئی اس لیے اس عمر میں بھی لوگو ں کے گھروں میں کام کاج کرتی ہوں لیکن مسیحی ہونے کی وجہ سے مسلم گھرانوں میں اول تو مجھے کام پر ہی نہیں رکھا جاتا اگر کام مل بھی جائے تو مجھے اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، مجھ سے بات چیت بھی کم کی جاتی ہے اور کھانے پینے کے برتنوں کو بھی ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہوتی ، اکثر ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے ہم انسان نہیں بلکہ کوئی بہت بری چیزہیں جو ہرچیزکو ناپاک کردیتی ہے، ہمیں اپنے ملک سے محبت ہے لیکن ہمیں محبت نہیں دی جاتی یہ رویہ بہت دکھ دیتا ہے۔

سونیا پطرس کہتی ہیں کہ میں ایک مزدور باپ کی بیٹی ہوں جبکہ والدہ گھریلو ملازمہ ہیں، اپنے والدین کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج میں ایم فل کر رہی ہوں۔سونیا کے مطابق جب ایک مسیحی لڑکی تعلیم کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہے تو اُسے بہت زیادہ مذہب کی بنیاد پر تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، مثلاً مڈل کلاس میں جب داخلہ لیا تو ہم دو بہنیں ہی تھیں کلاس میں جو عیسائی مذہب کی تھیں ، ہم اپنی شناخت شو نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن پھر بھی ظاہر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اسلامیات کا سبق سناتے ہوئے ٹیچر کو پتا چل جاتا تھا، عربی نہیں پڑھ سکتے تھے، کلاس فیلوز کو جب معلوم ہوتا تو انکا رویہ ہی بدل جاتا تھا، سب سے پہلے تو لڑکیاں ہمارے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہی ختم کر دیتی تھیں، بریک ٹائم کھانے پینے کی چیزیں الگ ہو جاتی تھیں یہ رویے بہت دکھ دیتے تھے اسکے علاوہ عربی اچھی طرح نہ آنے کی وجہ سے اسلامیات میں نمبر بھی بہت کم ملتے تھے،

اسی طرح ایک لڑکی جب نوکری کے لیے باہر جاتی ہے تو جائے ملازمت پر بھی مسائل گھیر لیتے ہیں۔ پڑھ لکھ کر بھی اعلیٰ عہدہ نہیں دیا جاتا ، محض اس وجہ سے کہ عیسائی مذہب رکھنے والے کی ماتحتی میں مسلم کام نہیں کر سکتے، سونیا کہتی ہیں کہ چونکہ میں فیصل آباد میں ہوتی ہوں جہاں بڑے شہروں کی نسبت لوگ تنگ زہنی کاشکار ہیں تو میں حجاب نہیں کرتی اگر دوپٹہ گلے میں ہوگا تو خود ہی کہیں گے کہ یہ مسلمان نہیں مسیحی لڑکی ہے مگر اب چونکہ میں ایک سماجی تنظیم کیساتھ منسلک ہوں اس لیے اتنی ہمت ہے کہ حالات کا مقابلہ کر لیتی ہوں لیکن گھریلو مسیحی خواتین کے لیے بہت مسائل ہیں وہ فیس نہیں کر پاتیں، میں سمجھتی ہوں ہم اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہوں یا جاب کر رہی ہوں ہمارے ساتھ ناروا رویہ نہیں ہونا چاہیے۔خدا را ہمیں صرف خواتین کی بنیاد پر دیکھیں ہمارے مذہب کی بنیاد پر ہم سے برا سلوک نہ کیا جائےاگر چہ اب مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں،لیکن ابھی بھی شعور کی کمی ہے،اقلیتوں کیلئے جو بھی قوانین بنے ہوئے ہیں ان پر عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top