اچھی لڑکیاں ٹی وی پر نہیں آتی…

4ea5926d-daf6-445f-9fb4-67fbc6c1679c.jpg

ناہید جہانگیر

اب گاؤں کے حجرے میں لوگ ٹی وی دیکھ کر کہیں گے کہ فلاں کی بیٹی بھتیجی ہے یہ ، کتنی شرم کی بات ہوگی،

یہ 2016 کی بات ہے جب پہلی مرتبہ میں پاکستان ٹیلی وژن کی سکرین پر ایک نیوز کاسٹر کے طور آن ائیر ہوئی۔ کچھ لوگوں نے سراہا اور بہت سے لوگوں کو اعتراض تھا تو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

میرا تعلق پشاور کے شبقدر گاوں سے ہے  میں نے پشاور یونیورسٹی سے جرنلزم میں ماسٹر کیا اور پھر بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی سے میڈیا سٹدی میں ایم فل کیا آج کل بہت اداروں کے ساتھ فری لانس کام کر رہی ہوں۔

جب پاکستان ٹیلی وژن میں بطور نیوز کاسٹر یا اینکر کام شروع کیا تو لوگوں کو عجیب لگا اب تو سوشل میڈیا اور پرائیویٹ چینل کی وجہ سے تھوڑے بہت ایڈوانس ہوگئے ہیں لیکن ان دنوں لوگ شوبز اور صحافت میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے تھے جو ٹی وی پر آیا وہ ڈم ہے (  پشتو زبان کا لفظ ہے  جسکی اگر ہم لفظی ترجمہ کریں توطوائف ہو یا شوبز سے  وابسطہ لوگوں کو کہا جاتا ہے)

میں شوبز سے وابسطہ لوگوں کو برا نہیں سمجھتی لیکن لوگ شاید فرق کرنا نہیں جانتے۔ مجھے اب بھی یاد ہے ایک رشتہ دار نہیں کہا تھا اچھی لڑکیاں ٹی وی پر نہیں آتی اسکا مطلب یہ ہوا کہ میں ان کی نظر میں اچھی لڑکی نہیں ہو کیونکہ میں ٹی وی پر آتی تھی۔

یہ تو بات تھی ان پڑھ لوگوں کی چلو وہ تو ان پڑھ ہونے کی وجہ سے ٹی وی پر آنے والوں اچھا نہیں سمجھتے لیکن بہت سے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہے کافی پڑھے لکھے یا تعلیم یافتہ تھے لیکن جب میں صحافت میں نئ آئی تو پہلا سوال جو مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ آپ کے والد حیات ہیں ۔ کیا کوئی بھائی نہیں ہے ان تمام سوالات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو بھی ٹی وی یا ریڈیو میں کام کرتی ہیں یا صحافت کے شعبے سے منسلک ہوگی وہ غربت کی وجہ سے آتی ہیں۔ حالانکہ صحافت بھی اور پیشوں  کی طرح مہذب پیشہ ہے۔ اس میں بھی خواتین نے دنیا بھر میں نام کمایا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ جب 2018 میں ٹرائبل نیوز نیٹ ورک کے فیس بک لائیو نیوز سے آن ائیر ہوئی میں خیبر پختونخوا کی پہلی خاتون تھی جو ایک مقامی میڈیا ادارے سے فیس بک لائیو نیوز پڑھتی تھی۔ تو لوگوں نے کتنا تنقید کا نشانہ بنایا اور پھر لوگ جو سکرین شاٹ بھیج دیتے کہ یہ دیکھوں فلاں بندے نے کیا کمنٹ کیا ہے۔

کافی دلبرداشتہ ہوئی تھی لیکن اپنے نیوز ڈائریکٹر سید نظیر کی وہ بات آج تک یاد ہے جس نے میرا حوصلہ بڑھایا وہ یہ تھا کہ دیکھوں ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں پہلے تو لڑکیوں کو میڈیا یا صحافت پر آنے کی اجازت نہیں ہوتی اور جن کو ہے اگر وہ بھی لوگوں کی باتوں میں آجائے تو کوئی کام کرنے والا نہیں رہے گا۔ اور مجھے یہ بتاوں کہ کون اس قسم  تنقید کا نشانہ نہیں بنا ،آپ کوئی دنیا کا پہلا بندہ یا بندی نہیں ہو اگر کامیاب ہونا ہے اور نام کمانا ہے تو اپنے کام سے کام رکھوں نا سنو یا دیکھو اور آگے بڑھو۔

خیبر پختونخوا کی مختلف یونیورسٹیوں سے ہر سال سینکڑوں لڑکیاں جرنلزم کی ڈگریاں لیتی ہیں لیکن عملی میدان میں نا ہونے کے برابر آتی ہیں جو آتی ہیں ان کو بھی بے شمار مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ گھر سے اجازت مشکل سے لے کر ماموں چچا کیا کہے گا کی فکر ہوتی ہے پھر معاشرے میں کئ مسائل سے دوچار ہوتی ہیں ۔جو کافی مشکل کام ہے آسان نہیں ہے لوگ اگر خواتین صحافی کو حوصلہ اور آسانی نہیں دے سکتے تو کم از کم تنقید بھی نا کریں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top