تقسیم ہند کے 75 سال مکمل:پشاور کی ہندو برادری آج بھی شمشان گھاٹ سے محروم

IMG-20220401-WA0063-640x320-1.jpg

سیدرسول بیٹنی

میرے دو بیٹے فوت ہوئے، پہلے بیٹے کی آخری رسومات اداکرنے کیلئے پشاور سے 75 کلومیٹر دور دریا اٹک پر میں اپنی ہندو دھرم کے مطابق ان رسومات کو ادا کرنے کے انتظامات کر پایا لیکن دوماہ بعد جب میرا دوسرا بیٹا فوت  ہوا تو میں اس قابل نہیں تھا کہ میں اپنے دوسرے بیٹے کی آخری رسومات وہاں جاکر ادا کر پاتا۔

شمشان گھاٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے پھر مجبوراً مجھے اپنے بیٹے کو پشاور میں موجود قبرستان جہاں میرے آباءواجداء دفن ہیں تو وہاں پر میں نے بیٹے کی آخری رسومات ادا کیں ۔

یہ الفاظ ہیں پشاور سے تعلق رکھنے والے آل پاکستان ہندو رائٹس مومنٹ کے چیئرمین اور ہندوازم کے مذہبی سکالر ہارون سرب دیال کے جو پشاور میں شمشان گھاٹ کی تعمیر کیلئے کئی سالوں سے سرگرم ہیں لیکن تا حال وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی مذہبی رسومات کے مطابق وہ اپنے مردوں کو جلانے کے بعد ان کی راکھ کو بہتی دریا میں بہاتے ہیں لیکن چونکہ یہاں پشاور میں شمشان گھاٹ کی سہولت نہیں ہے تو اس وجہ سے وہ اپنی میتوں کو دفنانے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شمشان گھاٹ صرف پشاور میں ہی نہیں بلکہ صوبے کے دیگر اضلاع جہاں ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہے وہاں بھی یہ سہولت نہ ہونے کی برابر ہے لہذا کئی سالوں ہندؤ برادری اپنی میتوں کو دفنا رہی ہے۔

ہارون سرب دیال کے مطابق ہندوں اور سکھوں کےلیے اٹک کے مقام پر ایک شمشان گھاٹ بنایا گیا ہے لیکن زیادہ تر ہندو غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ پشاور سے اٹک تک ٹرانسپورٹ کا کرایہ برداشت نہیں کرسکتے جو کہ پہلے پشاور 50 سے 60 ہراز روپے تک بنتے تھے جس میں لکڑی سمیت ہر چیز شامل تھا  لیکن حالیہ مہنگائی اور ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں بڑھ جانے سے اب یہ کرایہ 70 ہزار تک بنتا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان بھر میں پہلے اقلیتوں کے لیے ہر چھوٹے بڑے شہر میں مذہبی مراکز یا عبادت گاہیں قائم تھیں لیکن بدقسمتی سے ان پر یا تو حکومت یا لینڈ مافیا کی طرف سے قبضہ کیا گیا ہے جس سے اقلیتوں کے لیے ہر طرف زمین تنگ کی جارہی ہے۔مثال کے طور پر پشاور شہر میں ایسے جگہیں چاچا یونس پارک،خوشحال باغ،آسہ مائی یا کرم چند ہال ہیں جن کا دور سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عمارتیں مسلمانوں نے نہیں بنائی ہیں بلکہ واضح  معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہندوؤں کی مخصوص فن تعمیر ہے اور یہ انکی مذہبی اور تاریخی ورثہ ہے لیکن آجکل وہاں آپ کو کہیں ہوٹلز یا کہیں رہائشی اور تجارتی مراکز ملیں گے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی سینئر صحافی اور تجزیہ کار فاطمہ نازش کہتی ہیں کہ آرٹیکل 25 کے تحت مذہبی اقلیتوں کو بھی دوسرے تمام شہریوں کی طرح برابر کے حقوق حاصل ہیں مگر بد قسمتی سے 75 سال بعد بھی وہ اپنی بنیادی حقوق کیلئے سراپا احتجاج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کوہاٹ، مردان، بونیر اور سوات میں شمشان گھاٹ موجود ہیں، جو ان کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ناکافی ہیں ،سنہ 2018 میں بھی ہندوؤں نے اپنے اس دیرینہ مسلے کے حل کے لیے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا جس پرعدالت نے انتظامیہ کو فوری شمشان گھاٹ مہیا کرنے کا حکم دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں  برس ہندو برادری کے دیرینہ مطالبے پر خیبرپختونخوا میں اقلیتی برادری کے لیے شمشان گھاٹ اور الگ قبرستان کے قیام کے لیے اقدامات کئے گئے ہیں جس کے تحت حکومت نے زمین کی خریداری کے لیے10 اضلاع میں سیکشن فور نافذ کررکھا ہے جس کے لیے 10 کروڑ روپے بجٹ میں مختص ہیں۔خوش آئند بات یہ ہے کہ متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں زمین کی خریداری ہورہی ہے جس کے بعد پشاور سمیت دیگراضلاع میں شمشان گھاٹ نہ ہونے کی وجہ سے اقلیتی برادری کو درپیش مشکلات میں کمی آئے گی۔

فاطمہ نازش  نے کہا کہ ہندو برادری کیلئے پشاور میں شمشان گھاٹ نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہے کیونکہ ہندو برداری کی بڑی تعداد غریب طبقے پر مشتمل ہے جو کہ ایک شہر سے دوسرے شہر تک میت کی منتقلی پر آنے والی خرچے کی استطاعت نہیں رکھتے تو ایسے حالات میں انھیں اپنے پیاروں کو مجبوراً قریبی قبرستان میں ہی دفنانا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پشاور کے ایسے کئی ہندو ہیں جو وسائل نہ ہونے کے سبب اگنی سنسکار سے محروم رہے اور انہیں مجبوراً اپنے مردوں کی تدفین کرنی پڑی ، اگنی سنسکار کے لیے 12 من مہنگی لکڑی سمیت گھی، ناریل کافور اور دیگر کئی اشیا کی ضرورت تو ہوتی ہی ہے لیکن جو سب سے بڑا مسئلہ انھیں درپیش ہوتا ہے وہ شمشان گھاٹ کی کم دستیابی کا ہے۔لہذا ان کے دیرینہ مسائل کے حل پر متعلقہ حکومتی عہدیدار اگر فوری توجہ دیں تو وہ اپنی آخری رسومات کو مذہب کے مطابق ادا کرنے کے قابل ہو سکیں گے.

خیبرپختونخوا میں اقلیتی برادری کی آبادی  

سال 2017ء کی مردم شماری کے مطابق خیبرپختونخوا کی آبادی کا 0.21 فیصد آبادی مسیحی اور 0.03 فیصد آبادی ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہے جبکہ سابقہ فاٹا میں 0.07 فیصد آبادی مسیحی مذہب اور 0.03 فیصد آبادی ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔

سال 2017ء کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کے بعد ہندو برادری ملک کی سب سے بڑی اقلیت سمجھی جاتی ہے۔ ہندوؤں کی بیشتر آبادی سندھ اور پنجاب کے اضلاع میں مقیم ہے۔ خیبر پختونخوا میں پشاور کے بعد ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد کوہاٹ، بونیر، ہنگو، نوشہرہ، سوات، ڈیرہ اسمعیل خان اور بنوں کے اضلاع میں بھی رہائش پذیرہیں۔

محکمہ شماریات کی ویب سائیٹ پر دستیاب 2017 ء کی مردم شماری رپورٹ  کے مطابق خیبر پختونخوا میں کل 4973 کے  ہندو رہائش پزیر ہیں جن میں ضلع پشاور کے اندر 1709،کوہاٹ 909،نوشہرہ 873، ڈیرہ اسماعیل خان 493،مردان 269، بنوں 199،سوات 169،ہنگو 147،بونیر 132 اور ضلع ملاکنڈ میں 73 رہائش پذیر ہیں تاہم غیر سرکاری اور آزاد ذرائع کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا بشمول قبائلی اضلاع  میں 50 ہزار کے آس پاس ہندو برادری مقیم ہیں جن میں اکثریت پشاور میں رہائش پزیر ہیں۔

  1981 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں ہندوؤں کی آبادی 12 لاکھ  80 ہزار تھی جو کل آبادی کا 1.55 فیصد تھے۔ 1998 میں  2.98 فیصد اضافے کے ساتھ ان کی آبادی 20 لاکھ 11 ہزار ہو گئی۔ 2017 میں ہندو آبادی 2.85 فیصد اضافے کے بعد 36 لاکھ ہو گئی۔ 1981 سے 1998 کے دوران 64.84 فیصد یعنی آٹھ لاکھ 30 ہزار کا اضافہ ہوا۔ اگلے 19 برس میں2017 تک ہندو آبادی میں اضافے کی شرح 70.62 فیصد رہی اور وہ مجموعی آبادی کا 1.48 فیصد ہوگئے۔

سابق چیف خطیب خیرپختونخوا اور پاکستان کونسل آف ورلڈ ریلیجنز- فیتھ فرینڈز کے چیئرمین قاری روح اللہ مدنی کہتے ہیں کہ جیسے ایک انسان کو زندہ رہنے کی حق حاصل ہے تو اسی طریقے سے مرنے کے بعد اُس کے مذہب اور عقیدے کے مطابق اُسکی آخری رسومات ادا کرنا بھی ہر شہری کا ایک بنیادی ،مذہبی اور قانونی حق بنتا ہے اور پوری دُنیا کے اندر اس طریقہ کار پر عمل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں شہروں کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے اور شہروں کا رقبہ بہت وسیع ہوگیا ہے جس کی وجہ سے زمینوں کی کی قیمتیں بہت زیادہ ہوگئی ہے اس لئے تمام شہریوں کو میت کےآخری رسومات یا تدفین کے سلسلے میں بہت  مشکلات پیش آرہی ہیں اور یہ مشکلات اجتماعی ہیں جن کا سامنا مسلم اور غیر مسلم دونوں شہری کرتے ہیں۔

قاری روح اللہ نے کہا کہ جیسے مسلمانوں کو قبرستان کا بندوبست ہونا چاہئے تو اسی طریقے سے غیر مسلموں کیلئے بھی اُنکے مذہب،رواج اور رسومات کے مطابق تدفین یا آخری رسومات کا انتظام ہونا چاہئے۔اس سلسلے میں جیسے مسلمانوں کیلئے قبرستان کی ضرورت ہوتی ہے تو ہندو اور سکھ اپنی میتوں کو جلاتے ہیں اور اُنکے کیلئے جو جگہ مختص کی جاتی ہے تو وہ شمشان گھاٹ کہلاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس وقت شمشان گھاٹ کی تعداد ہمارے صوبے میں بہت کم ہے اور اگر کہیں پہلے سے تھیں بھی تو وہ آجکل شہری آبادی کے اندر آگیا ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس سلسلے میں متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کریں اور سہولت فراہم کریں۔

قاری روح اللہ نے کہا کہ ہر جگہ ہر کمیونٹی کی اپنی جائیداد نہیں ہوتی یا اُن کے پاس مالی وسائل نہیں ہوتے جن کی اُنکو ضرورت پڑتی ہے بلکہ آجکل تو مسلمان اکثریتی آبادیوں میں مسلمانوں کیلئے بھی قبر کی جگہ تلاش کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے شہروں کے اندر یہ ایک بنیادی ضرورت ہے اور ہم سمجتے ہیں کہ جتنے بھی کمیونٹیز ہیں اُن سب کیلئے قبرستان یا شمشان گھاٹ کی سہولت مہیا کرنا حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اسلام بھی ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ جو اقلیتیں یہاں رہتے ہیں اُنکے بھی جائز،قانونی اور شرعی حقوق ہیں اُنکے حصول میں انکی مدد کی جائے۔اس کے علاوہ اس میں ایک بنیادی مشکل یہ ہے کہ کئی جگہوں پر مقامی آبادی کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اُسکی کچھ معاشرتی وجوہات بھی ہے اور کچھ ماحولیاتی مسائل بھی ہیں لیکن بہر حال ان مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے اور یہ  سوچنا چایئے کہ آلودگی کا مسئلہ بھی پیدا نہ ہو اور مقامی آبادی کیلئے بھی کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو اور اقلیتی برادری کا جو مسئلہ ہے وہ بھی حل ہوجانا چاہئے۔

پشاور کی رہائشی سماجی کارکن اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی روینہ ہارون نے بتایا کہ ہماری ہندو مذہب میں شمشان گھاٹ کی تعمیر آبادی سے دور اور دریا کے کنارے اس لیے ضروری ہے کہ عام لوگوں  کوشکایت کا موقع نہ ملے اور میت کی استھی آسانی سے بہائی جا سکے جہاں پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے بغیر یہ رسومات ادا کی جاسکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اٹک میں موجود شمشان گھاٹ پشاور سے75 کلومیٹر دور ہے اور فوتگی کے وقت آخری رسومات اٹک کے شمشان گھاٹ میں ادا کرنے  پر 50 سے80 ہزار روپے خرچہ آتا ہے۔ ایک میت کی آخری رسومات کے لیے 14 سے15 من کی لکڑی درکاری ہوتی ہے۔ میت لے جانے کے لیے اور قریبی رشتہ داروں کے لیے گاڑی کا انتظام بھی کرنا پڑتا ہے۔

روینہ ہارون نے یہ بھی بتایا کہ کچھ سال پہلے اس کے بھائی کی آخری رسومات پر 80 ہزار روپے خرچہ آیا تھا۔اگر شمشان گھاٹ پشاور میں موجود ہوتا تو کم سے کم 50 ہزار روپے بچ جاتے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے پیاروں کی جدا ہونے کی تکلیف  اور غم کے ساتھ ہمیں بھاری رقم کا بھی بندوبست کرنا پڑتا ہے اور  سفر کی  مشکلات سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔

اقلیتی ایم پی اے روی کمار کا مؤقف

پشاور سے تعلق رکھنے والے خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن ایم پی اے روی کمار نے بتایا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ ہر ضلع میں اقلیتی برادری کی آخری رسومات کے لیے تمام سہولیات مہیا کی جایئں اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے فنڈز کی منظوری بھی دی ہے۔

انہوں نے اقلیتی برادری کی تحفظات کے حوالے سے بتایا کہ جس ضلع میں دریا کے کنارے زمین موجود ہے اور شمشان گھاٹ کی تعمیر ممکن ہے وہاں اس ضلع میں دریا کے کنارے ضرور شمشان گھاٹ بنے گا اور جس ضلع میں دریا موجود نہ ہو یا دریا کے کنارے زمین موجود نہ ہو تو پھر مجبوری کے تحت کسی اور جگہ پر شمشان گھاٹ تعمیر کی جائے گی۔

آئین پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق

آئین پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی اساس قائد اعظم محمد علی جناح کی گیارہ اگست 1947 والی وہ تقریرہے جس کی بنیادپرآج بھی پاکستان کی اقلیتیں گیارہ اگست کو”اقلیتوں کا دن” مناتی ہیں۔محمد علی جناح نے فرمایا  کہ ” آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔”

قائداعظم کی گیارہ اگست انیس سو سنتالیس کی تقریر اور پاکستان کا پرچم

قومی پرچم کے رنگ اور قائد اعظم کی مذکورہ تقریر اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان کی جمہوری بنیاد ، رنگ و نسل کے امتیاز سے بالاتر ہوکر انسانی حقوق اور شہری آزادیوں  کی ضمانت کے ساتھ برابری کے اصولوں پرمبنی ہے ۔اسی طرح آئین کی شق 20 مذہبی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی کے حوالے سے اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت یقینی بناتی ہے۔

ہارون سرب دیال نے صوبائی حکومت کی جانب سے آخری رسومات کے لیے زمین کی نشاندہی کے معاملے پر ہندو برادری کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا  اورمؤقف اختیار کیا  کہ حکومت کو زمین کی نشاندہی کرنے سے پہلے اقلیتی برادری کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، شمشان گھاٹ کی سہولت مہیا کرنے کو یقینی بنانے کیلئے تمام اضلاع میں، تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں وہ ایک ہی اقتدار والی پارٹی کے نہ ہو بلکہ وہاں جو بھی سٹیک ہولڈر ہیں چاہے وہ پولیٹکل ہو،چاہے وہ مذہبی  یا چاہے وہ سول سوسائٹی کا ہو اُنکی مشترکہ جو رائے ہیں اُس کے مطابق وہاں پر قبرستان یا شمشان گھاٹ کی پروژن کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی صوبے میں بہت سے ایسے مقامات ہیں جن میں ہنگو،بنوں اور ڈٰیرہ اسماعیل خان اسی طرح نوشہرہ اور ملاکنڈ میں بھی بعض ایسے علاقے ہیں کہ جہاں ہماری علیحدہ کوئی قبرستان نہیں بھی نہیں ہے وہاں مشترکہ قبرستان ہیں کہ جو کہ مسلم کمیونٹی کے بھائی چارے کی اور ہمارے پیار ومحبت کی وجہ سے وہ ہمیں وہاں ہر جگہ دیتے ہیں لیکن جس طرح کا واقعہ سندھ میں بُورومل کے ساتھ 2010ء میں ہوا اُنکے لاش کو نکال کے جو بے حرمتی کی گئی اُسے پاکستان اور یہاں کے رہنے والوں کی آپس میں پیارومحبت بُری طرح متاثر ہوا تھا ہم یہی چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہو۔

ہارون سرب دیال نے بتایا کہ دنیا کی کوئی بھی عمارت وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل کی جاسکتی ہے لیکن شمشان گھاٹ یا قبرستان روز روز تبدیل نہیں کئے جا سکتے۔ شمشان گھاٹ سال یا دو سال مزید تاخیر سے بنے لیکن ایسی جگہ پر بنایا جائے جہاں پر تمام رسومات ایک ساتھ ادا ہوسکیں۔

انہوں  نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایوکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے پاس ضلع نوشہرہ میں پیرسباق کے مقام پر 443 ایکڑ زمین کا رقبہ موجود ہے جو  آبادی سے دور اور دریا کے کنارے بھی ہے اگر اس جگہ شمشان گھاٹ بنائی جائے  تو ہمارا خواب پورا ہوگا  کیونکہ مذہبی روایات کے مطابق دریا کے کنارے ہی پر اپنے پیاروں کو اپنے مذہبی تعلیمات کی روشنی میں جلانا ہوتا ہے  تا کہ تین دن کے بعد ان کی جسم کی راکھ، استھی اور پھول آسانی سے بہا ئے جا سکیں۔ بصورت دیگر ڈسٹرکٹ کوہاٹ کی طرح 25 کلومیٹر ہنگو کی طرف جانا پڑتا ہے اور جلانے کے تین دن بعد 51 کلومیٹر دور مخالف سمت میں خوشحال گڑھ جانا پڑتا ہے۔ ڈسٹرکٹ کوہاٹ اور اردگرد کے اضلاع کے لیے بھی ضروری ہے کہ خوشحال گڑھ کے مقام پر دریا کے کنارے شمشان گھاٹ تعمیر کی جائے، اس طرح ڈیرہ اسماعیل خان اور اٹک میں بھی دریا کے کنارے جگہ موجود ہے اور آخری مناسک ادا کرنے کے لیے تمام سہولیات مہیا کی جانی چاہئیں۔

ہارون سرب دیال نے یہ بھی بتایا کہ اٹک کے مقام پر سہولیات موجود ہیں لیکن اٹک پشاور سے 75 کلومیٹر دورہے جس کی وجہ سے لوگوں کی آنے جانے میں دقت کے ساتھ اضافی اخراجات بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔ پھر یہ ہے کہ اٹک کے مقام پر آبادی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے اور مقامی لوگ شمشان گھاٹ کو منتقل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ اٹک کے مقام پر شمشان گھاٹ میں استھی بہانے کی آخری رسم کے لیے کوئی بندوبست نہیں ہے۔ انہوں  نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ کمیونٹی کے لوگوں کے ساتھ ان افراد کو ساتھ لیکر چلنا چاہیئے جو تمام مذہبی رسومات کو اور ان کے ساتھ جڑی وجوہات کا علم رکھتے ہیں۔

صوبائی حکومت کا  مؤقف

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیرزادہ نے کہا کہ شمشان گھاٹ کا جو مسئلہ ہے یہ قیام پاکستان کے بعد سے چلا آرہا ہے اور کسی بھی حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں کہ ہم پشاور میں ہندو اور سکھ برادری کیلئے شمشان گھاٹ کی تعمیر کیلئے زمین خریدیں گے لیکن ہماری جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے موجودہ بجٹ میں 10 کروڑ روپے پورے صوبے میں اقلیتی برادری کیلئے  شمشان گھاٹ اور قبرستان کی جگہ مہیا کرنے کیلئے مختص کئے ہیں اور اسی طرح یہ مسئلہ صرف پشاور میں نہیں ہے بلکہ یہ نوشہرہ،ڈیرہ اسماعیل اور بنوں میں بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک پشاور میں شمشان گھاٹ کا مسئلہ ہے تو اس حوالے سے ہم نے زمین خریدنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کے مدد سے سیکشن فور لگا دئیے تھے ایک دو جگہوں کا انتخاب بھی کیا تھا لیکن چونکہ ظاہری بات ہے کہ مارکیٹ ریٹ اور سرکاری ریٹ میں بہت فرق ہوتا ہے تو مقامی لوگ عدالت چلے گئے تھے اور کمیونل ایشوز پیدا ہوئے پھر اس کے بعد حکومت نے سیکشن فور ہٹا دیا جس پر سکھ  برادری کے لوگ پھر عدالت چلے گئے۔ ہم نے عدالت کو بتایا کہ  پیسے ہمارے پاس ہے سکھ اور ہندو برادری ہمارے ساتھ مناسب جگہ تلاش کرنے میں رہنمائی کرلیں تو محکمہ ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہے۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ سرکاری زمین خریدنے کیلئے سمری تیار ہوچکی ہے، ہماری پوری کوشش ہے کہ کوئی سرکاری زمین ہم انکو الاٹ کردیں جس پر شمشان گھاٹ کو تعمیر کیا جاسکے اور اسکے علاوہ بھی ہم نے ضلع نوشہرہ میں سرکاری زمین تلاش کی ہے اور اسی طرح ضلع بنوں میں بھی سیکشن فور لگایا ہے تو جیسے ہی ہمیں کوئی مناسب جگہ مل جائے توہم فوری طور پر تعمیر کیلئے تیار ہے۔

وزیر زادہ نے مزید کہا کہ بعض اضلاع میں شمشان گھاٹ پہلے سے موجود ہیں جس میں ضلع کوہاٹ والے کے اندر تعمیر اور دوبارہ بحالی کا کام مکمل ہوچکا ہے توآئندہ کچھ دنوں میں ہم انکی افتتاح کرنے جارہے ہیں اسی طرح ضلع مردان  کی شمشان گھاٹ کو بھی آخری رسومات کیلئے تیار کیا چکا ہے تو ہماری پوری کوشش ہے کہ اقلیتی برادری کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کردیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایوکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ  صوبے کے ماتحت نہیں ہے بلکہ وہ وفاق کے ماتحت ہے ٹرسٹ کے پاس جو جائیداد ہے وہ ٹرسٹ کی ملکیت ہے جو لوگوں نے تقسیم ہند کے وقت ٹرسٹ کو وقف کئے تھے اُس کے لئے الگ قانون بنایا گیا اس ملکیت کو کسی دوسرے مقصد کیلئے استعمال نہیں کی جاسکتی،اگر کرنا بھی ہے تو اُس کیلئے الگ قانون سازی کرنا پڑے گی اور نیا قانون بنانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ زمینیں صوبے کے انڈر نہیں ہے تو اس لئے ہم نے الگ پیسے رکھے ہیں تا کہ اگر ہم کوئی سرکاری زمین بھی خرید لے تو وہ ہم اپنی محکمہ اوقاف کے فنڈ سے ادا کرلیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top