کیا ہماری خواتین میں شعور آچکا ہے ؟

am.jpg

سیدرسول بیٹنی

8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن پر اس دفعہ پشاور میں پہلی بار “عورت آزادی مارچ” کا انعقاد کیا گیا۔آزادی مارچ کا مقصد محنت کش عورتوں کے مسائل کو اُجاگر کرنا تھا اور حکومت سے مطالبہ کرنا تھا کہ  خواتین پر جبر و تشدد اور استحصال سے نجات کیلئے اقدامات کی جائے۔مارچ  میں پشاور سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبوں میں کام کرنے والی خواتین اور کثیر تعداد میں طالبات نے شرکت کی اور پشاور پریس کلب سے آرکائیو ہال تک پرامن مارچ کیا۔

 

عورت آزادی مارچ کے حوالے سے “دی پشاور پوسٹ”نے جاننے کی کوشش کی کہ پشاور کے مختلف یونیورسٹیز میں زیر تعلیم طالبات اس مارچ کو کس نظر سے دیکھتی ہے ۔

سومیرا لطیف بے نظیر وومن یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کی طالبہ ہے عورت آزادی مارچ کے حوالے سے کہا کہ خواتین کے شرکت کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا لہذا اس مرد غالب معاشرے میں کچھ خواتین کا اپنی حقوق بارے مارچ کرنا بہت بڑا اقدام ہے۔ انہوں نے گھریلو خواتین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہے اور بیک وقت کئی محاذوں پر اپنی بقاء کی جنگ لڑتے ہیں۔

انہوں نے نیشنل اور پراونشل کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن سے مطالبہ کیا کہ حکومت  شوہر کی وراثت اور بچوں کو سرکاری تعلیمی وظیفہ دلانے کی پالیسی لائے اور تمام متاثرہ بیواؤں کو ماہانہ امداد سپورٹ کارڈز دئے جائیں تاکہ وہ مالی طور پر مستحکم ہوجائیں۔

انہوں  نے کہا کہ حکومت بکا خیل اور دوسرے کیمپوں کے جنگ متاثرین کو فوری طور پر اپنے علاقوں کو عزت کے دوبارہ واپسی کا بندوبست کریں اور متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا اہتمام کریں اور اس کے ساتھ ساتھ جنگ زدہ علاقوں سے بچوں کے تحفظ کے لئے لینڈ مائینز کو صاف کرنے کا بندوبست کریں۔

سلمہ خٹک سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سوشل ورک میں زیر تعلیم ہے عورت آزادی مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی طرف سے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتیاں، مہنگائی،بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافہ، مذہبی انتہا پسندوں سے دوستانہ تعلقات، جنگ پرستانہ خارجہ پالیسی، اظہارِ رائے پر پابندی وریاستی جبر کا استعمال ،جبری گمشدگیوں وماورائے عدالت قتل  پر خاموشی وہ محرکات ہیں کہ جن کے براہ راست اثرات محنت کش خاندانوں اور محکوم قوموں و مذاہب سے تعلق رکھنے والی عورتوں پر پڑتے ہیں جس کی وجہ سے ان محکوم طبقے کے لوگوں کی زندگیاں بہت اجیرن ہوگئی ہے ۔

انہوں نے موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ اِن پالیسیوں کو ترک کیا جائے اور عورت کی برابری، ترقی اور آزادی کے لئے آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر ایسے پالیسیاں بنائے کہ جس سے ان محکوم لوگوں کی زندگیوں میں خوشحالی و اطمینان آسکیں۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں زیر تعلیم اسمہ خان نے  عورت آزادی مارچ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہیں جو صرف او صرف گھر کی چاردیواری تک محدود ہیں،انہوں نے کہا کہ  آئین پاکستان  نے تو مساوی حق کا دیا ہے لیکن بدقسمتی سے ہماری خواتین کو حکومتوں کے ناکام پالیسیوں کی وجہ سے یہ حقوق اب تک حاصل نہ ہوسکی۔

اسمہ نے کہا کہ حقوق دئیے نہیں جاتے بلکہ چھینے جاتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ خواتین سیاسی عمل کا حصہ بنیں اور ملک کے ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے پختونخوا حکومت سے مساوی اُجرت ، جبری مشقت پر پابندی ، کنٹریکٹ سسٹم کا خاتمہ اور مستقل ملازمت میں تبدیلی، غیر رسمی معیشت سے وابستہ مزدور اور کسان کو صنعتی مزدور کے مساوی حقوق و مراعات، اور تمام شعبوں میں عورتوں کو ملازمت کے مساوی حق کا مطالبہ کیا۔

عورت آزادی مارچ  میں شریک سماجی کارکن نرگس آفشین خٹک نے کہا  کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ  “عورت آزادی مارچ” میں خواتین نے معاشرے میں  پدر سری نظام ، سرمایہ داری اور قبائلی نظام ، قومی جبر ، سامراجیت، اورمذہبی انتہا پسندی سے آزادی کے لئے اپنی جدو جہد کا اعادہ کیا اور ان فرسودہ ڈھانچے کے خلاف جمھوری اور آئینی طور پر آواز اٹھانا ہے جو ریاست، سماج اور خاندان کے سطح پر عورت کی برابری ، ترقی اور آزادی کا راستہ روکتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اس بار عورت آزادی مارچ صرف یہاں پشاور میں نہیں بلکہ ملک کے تمام بڑے شہروں کراچی، حیدرآباد، اسلام آباد . کوئٹہ اور فیصل آباد میں بھی منعقد ہوئی اور پُر امن ریلیاں نکالی گئ۔

اُنہوں نے کہا کہ روزگار اور رہائش کو ہم ریاست کی ذمہ داری مانتے ہیں اور ان کی نجکاری کے لیے جاری قانون وپالیسی سازی کو فوری روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اُنکا کا کہنا تھا کہ فوجی اخراجات گھٹا کر تعلیم ,علاج و رہائش پر عالمی معیار کے مطابق خرچہ بڑھایا جائے ۔

اُنہوں نے صوبائی حکومت سے کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی سے تحفظ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہوم بیسڈ ورکرز کو لیبر لاء کے تحت لانے کے لئے پختونخوا اسمبلی میں زیرِ التوا “ہوم بیسڈ ورکرز پروٹیکشن بل ” کو فوری پاس کیا جائے۔

نرگس نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت تعلیمی نصاب کو جمہوری، سائنسی اور سیکولر بنیادوں پر بنانے اور طلباء یونینزکو بحال کریں۔ انہوں نے کہا کہ بیشمار لڑکیاں قریبی ہائی سکول نہ ہونے کی وجہ سے مڈل کے بعد سکول چھوڑ دیتی ہیں،لڑکیوں کے لئے ہر سطح کے تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھائی جائے اور خاص کر قبائلی اضلاع میں دوگنی کی جائے، اور وہاں خواتین کیلئے ایک الگ یونیورسٹی قائم کریں تاکہ جنگ سے متاثر قبائلی عوام کی معیار زندگی میں بہتری آسکیں۔

اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی سطح پر غیرت کے نام پر قتل کو ناقابلِ راضی نامہ جُرم قرار دیا جائے اور دیت کے قانون کو بھی ختم کیا جائے کیونکہ مقتولہ کے رشتے دارخون بہا لیکر خُون معاف کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جرگوں /پنچائتوں پر پابندی لگائی جائے اور گھریلو تشدد کو ” جرم” قرار دیا جائے اوراسکی روک تھام کے لئے قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پختونخوا حکومت سے” کے پی ڈومیسٹک وائلنس اگینسٹ ویمن بِل 2019 “کو فوری پاس کرنے اور کمسنی کی شادی پرپابندی کے لئے قانون سازی کا مطالبہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top