جامعہ پشاور:پیوٹا،کلاس تھری اور کلاس فور ملازمین کا مشترکہ تحریک چلانے پر اتفاق

0.jpg

سیدرسول بیٹنی

پشاور:جامعہ پشاور کی اساتذہ تنظیم پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیو ٹا) نے یونیورسٹی ملازمین کے مسائل کے حل کے لئے پشاور یونیورسٹی کے کلاس تھری  کلاس فور ملازمین کے ساتھ مل کر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔


پیو ٹا آفس  سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ٹیچرز کمیونٹی سینٹر میں پیو ٹا، کلاس تھری اور کلاس فور یونین کے منتحب نما ئندوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ 04 مارچ 2022 بروز جمعہ بوقت صبح 09:30 بجے پیو ٹا چوک پر مشترکہ جنرل باڈی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد یونیورسٹی ملازمین کے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہے۔

اجلاس میں پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ اور یونیورسٹی  ملازمین کے یونین کے منتحب نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جنرل باڈی اجلاس09:30 سے 12:30 بجے تک منعقد ہو گا اور اس دوران تمام تدریسی اور انتظامی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔


اجلاس میں پیو ٹا ، کلاس تھری اور کلاس فور یونینز کے رہنماؤں نے اساتذہ اور یونیورسٹی ملازمین پر زور دیا ہے کہ وہ بھرپور انداز میں اس جنرل باڈی اجلاس میں اپنی شرکت یقینی بنائیں تاکہ یونیورسٹی انتظامیہ اور صوبائی خکومت کو واضح پیغام دیا  جا سکے  کہ پشاور یونیورسٹی کے ملا زمین اپنے حق کے لئے ہر اول دستے کا کردار ادا کریں گے اور اپنے جائز حق سے بلکل پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے والدین پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں ان کا ساتھ دیں گے او ان کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوں گے۔

یاد رہے کہ پیو ٹا نے پشاور یونیورسٹی کے انتظامیہ،  صوبائی خکومت اور چانسلر یونیورسٹی اف پشاور سے بار بار درخواست کی کہ وہ یونیورسٹی ملا زمین کے مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کریں لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی جس کے بعد پیو ٹا نے یونیورسٹی ملا زمین کے دوسرے یونینز کے ساتھ مل کر جدوجہد کر نے کا اعلان  کیا ہے۔

اس اعلان کے بعد جامعہ پشاور کی انتظامیہ نے بھی ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ تدریسی سرگرمیاں معطل نہیں کی جائیگی۔

دوسری طرف رجسٹرار جامعہ پشاور سیف اللہ خان کی جانب سے تمام شعبہ جات اور کالچز کے سربراہان کو ایک ای میل کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ 4 مارچ بروز جمعہ اپنی تدریسی سرگرمیاں معمول کی طرح جاری رکھے کیونکہ طلبہ کی قیمتی وقت پہلے ہی سے کورونا وباء کی وجہ  سے ضائع ہوا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top