مادری زبانیں:محکمہ امورِ نوجوانان کیجانب سے جامعہ گومل میں سیمینار کا انعقاد

83c78c95-bc21-4f73-b045-6f71a183ee59.jpg

ڈیرہ اسماعیل خان:نوجوان نسل کو اپنی ثقافت اور ادب سے جڑنے کیلئے محکمہ امورِ نوجوانان،ڈی آئی خان کی جانب سے جامعہ گومل میں "مادری زبانوں کا عالمی دن” کی مناسبت سے یک روزہ سیمنار کا انعقاد کیا گیا۔

سیمینار کا مقصد نوجوان نسل میں مادری زبانوں کی اہمیت کے حوالے سے شعور اُجاگر کرنا تھا،جس میں شعبہ صحافت وابلاغ عامہ،نواب اللہ نواز لاء کالج اورشعبہ آئی ای آر کے سٹوڈنٹس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

سیمینار کے مہمان خصوصی رجسٹرار جامعہ گومل،پروفیسر ڈاکٹر نعمت اللہ بابرتھے اس کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ ،کوارڈینٹر قائد اعظم کیمپس،ڈاکٹر ذیشان قاسم، شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ،عبدالقدیر، ڈسرکٹ یوتھ آفیسرڈیرہ اسماعیل خان ،نوجوان سرائیکی شاعرآفتاب احمدخان اور فاطمہ منور کنڈی نے شرکت کی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ یوتھ آفیسر عبدالقدیر بیٹنی نے سیمینار کی موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے پوری دُنیا میں 21 فروری کو "مادری زبانوں کا عالمی دن” کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن کے منانے کا مقصد مادری زبانوں کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی ہر سال اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں بھی مذاکرے،سیمینارز اور ریلیاں منعقد کی جاتی ہے،تعلیمی اداروں کے اندر مختلف تقاریب کے دوران ماہرین لسانیات،دانشور اور مقررین مادری زبان کے حوالے سے لیکچر دیتے ہیں جبکہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بھی مادری زبانوں کے حوالے سے خصوصی پروگرام شائع اور نشر کیے جاتے ہیں تاکہ عوام میں مادری زبانوں کی اہمیت کے حوالے سے شعور اُجاگر ہوجائیں۔

سیمینار کے مہمان خصوصی مہمان خصوصی رجسٹرار جامعہ گومل ،پروفیسر ڈاکٹر نعمت اللہ بابر نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ مادری زبانوں کی اہمیت اورضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان بچے آسانی سے سبق سمجھ جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ دنیا میں ان ممالک و اقوام نے ترقی زیادہ ترقی کی جنہوں نے بچوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم دیا ہے۔

سیمینار سے نوجوان سرائیکی شاعر آفتاب احمد خان نے سرائیکی زبان پر جبکہ شعبہ صحافت و ابلاغ کی استاد فاطمہ منور کنڈی نے پشتوزبان پر گفتگو کی۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ یہاں ڈیرہ اسماعیل خان میں سرائیکی اور پشتو زیادہ بولی اور سمجھی جاتی ہیں، دونوں ہماری مادری زبانیں ہے اور ان کی ترقی و ترویج ہمارا فرض ہے تمام سرکاری و نجی اداروں میں پشتو بطور لازمی مضمون ہونا چاہیے۔

سیمینار کے آخر میں ڈسرکٹ یوتھ آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان عبدالقدیربیٹنی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اورتمام مہمان گرامی کو اعزازی شیلڈز سے نواز دیا ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top