لڑکیوں کی جبری شادی نہیں ہونا چاہیے ، صوبائی محتسب رخشندہ ناز

images.jpg

محمد طیب

نور ایجوکیشن ٹرسٹ کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے مناسبت سے گزشتہ روز پشاور کے ایک نجی ہوٹل میں تقریب منعقد ہوئی جس میں صوبائی محتسب رخشندہ ناز ،سماجی خواتین طاہرہ عبداللہ ، پروین اخترایدوکیٹ اور سینئر صحافی وسیم احمد شاہ ،نور ایجوکیشن کے روحی خان، محمودہ گل ایڈوکیٹ سمیت کثیر تعداد میں خواتین وکلاء اور سماجی خواتین نے شرکت کی .

پروگرام کا مقصد صوبے میں خواتین کے لیے کی گئی قانون سازی اور عدالتی نظام سے خواتین کو آگاہ کرنا اور حکومت سے لڑکیوں کی جبری شادی اور کم عمر کی شادیوں سمیت خواتین کے دیگرمسائل پر مزید قانون سازی کا مطالبہ تھا۔

پروگرام میں مقررین نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ سند ھ حکومت کی طرح کم عمر لڑکیوں کی شادی اور لڑکیوں کی جبری شادی کے لیے قانون سازی کریں ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صوبے میں خواتین کے حوالے سے بہت سے مسائل ہیں جس کے لیے مزید قانون سازی اور اس پر عمل درامد کے لیے ادارے ہونے چاہیے.

انہوں نے مزید کہا خواتین کو ہر قسم کی تشدد اور زیادتیوں سمیت وراثت کے لیے بنائے گئے قوانین سے آگاہ کرنا وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے ، اس موقع پر خواتین کے مسائل اور اُنکے کے لیے بنائے گئے قوانین اور عدالتی نظام پر خاکے بھی پیش کیے گئے جس میں گھریلوں خواتین کو درپیش مسائل کے حوالے آگاہی تھی ۔ پروگرام کے آخر میں تمام مہمانوں کو گلدستے پیش کیے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top